Tuesday - 2018 August 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186379
Published : 28/3/2017 15:45

ابن تیمیہ کی نظر میں قیامت کے دن خدا کے دیدار کی کیفیت

ابن تیمیہ نے خدا کے لئے جہت،مکان اور سمت کو ثابت کرنے کے لئےمتعدد دلائل پیش کئے ہیں چنانچہ کہتا ہے:تمام نصوص (قرآنی آیات واحادیث) اس مسئلہ پر دلالت کرتی ہیں کہ خداوندعالم عرش اور آسمان کے اوپر رہتا ہے، اور اس کی طرف انگلی سے اشارہ کیا جاسکتا ہے، روز قیامت خداوندعالم کو دیکھا جاسکتا ہے، اور یہ کہ خداوندعالم مسکراتا ہے، اور اگر کوئی شخص خدا کے آسمان میں ہونے کا اعتقاد نہ رکھے، تو اس سے توبہ کرانی چاہئے اگر توبہ قبول کرلی تو ٹھیک ورنہ اس کی گردن اڑا دینی چاہیۓ۔

ولایت پورٹل:ابن تیمیہ کی معروفترین کتاب منہاج السنہ ہے، ابن تیمیہ نے اس کتاب کو منہاج الکرامۃ فی اثبات الامامۃ۔(۱) تالیف مرحوم علامہ حلّی(متوفی ۷۲۶) کی ردّ میں لکھا ہے،اس نے پہلے علامہ حلی کے اعتقادات کو ایک ایک کرکے نقل کیا ہے او راس کے بعد ان کو ردّ کرنے کی کوشش کی ہے، منجملہ علامہ حلی کے اس نظریہ کو نقل کیا کہ خدا کو دیکھا نہیں جاسکتا اور حواس خمسہ کے ذریعہ درک نہیں کیا جاسکتا،کیونکہ وہ خود فرماتا ہے:«لاٰتُدْرِکُهُ الاَبْصَاْرُ وَهُوَ یُدْرِکُ الاَبْصَاْرَ»۔(۲)
ترجمہ:نگاہیں اس کودرک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک رکھتا ہے۔
وہ علامہ حلّی مرحوم کا یہ قول نقل کرنے کے بعد کہ خداوندعالم جہت و مکان نہیں رکھتا ، اس طرح کہتا ہے: اہل سنت سے منسوب تمام افراد خدا کے دیدار کے اثبات پر اتفاق رکھتے ہیں، اور سلف(علمائے قدیم) کا اس بات پر اجماع ہے کہ روز قیامت خدا کو ان ہی سر کی آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے، لیکن دنیا میں اس کو نہیں دیکھا جاسکتا، ہاں پیغمبر(ص)کے بارے میں اختلاف ہے کہ آنحضرت(ص) نے اس دنیا میں خدا کا دیدار کیا ہے یا نہیں، اورمذکورہ آیۂ شریفہ کے بارے میں کہتا ہے کہ ادراک کے بغیر خدا کا دیدار ہونا ممکن ہے۔
ابن تیمیہ نے خداوندعالم کے دیدار اور جہت وسمت کو ثابت کرنے کے لئے تفصیلی بحث کی ہے اور ظاہر آیات واحادیث سے استدلال کیا ہے۔(۳)
چنانچہ ابن تیمیہ نے اس مسئلہ کو ثابت کرنے کے لئے رسالہ حمویہ لکھا ہے، ابن تیمیہ اس مسئلہ کے بارے میں مذکورہ رسالہ میں کہتا ہے: تمام نصوص (قرآنی آیات واحادیث) اس مسئلہ پر دلالت کرتی ہیں کہ خداوندعالم عرش اور آسمان کے اوپر رہتا ہے، اور اس کی طرف انگلی سے اشارہ کیا جاسکتا ہے، روز قیامت خداوندعالم کو دیکھا جاسکتا ہے، اور یہ کہ خداوندعالم مسکراتا ہے، اور اگر کوئی شخص خدا کے آسمان میں ہونے کا اعتقاد نہ رکھے، تو اس سے توبہ کرانی چاہئے اگر توبہ قبول کرلی تو ٹھیک ورنہ اس کی گردن اڑا دینی چاہیۓ۔
اسی طرح وہ کہتا ہے: قرآن مجید کی ظاہری آیات کے مطابق خداوندعالم اعضاء وجوارح رکھتا ہے لیکن خداوندعالم کی فوقیت اور اس کے اعضاء وجوارح کو مخلوق (انسان) کے اعضاء وجوارح سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا، چنانچہ اسی مسئلہ کے ضمن میں کہتا ہے:بعض لوگوں نے اس آیہ کریمہ:«اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَویٰ»۔(۴) (وہ رحمن عرش پر اختیار واقتدار رکھنے والا ہے) میں استویٰ کے معنی «استویٰ» (بلندی) کے کئے ہیں جو باطل اور بے بنیاد ہیں،اور اس طرح کی تاویلات دوسری زبانوں کی کتب ضلال (گمراہ کن کتابوں) سے ترجمہ ہوکر علماء علم کلام کے ذریعہ عربی زبان میں داخل ہوگئی ہیں۔(۵)
....................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔حاج خلیفہ نے کتاب کا نام منہاج الاستقامۃ لکھا ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ منہاج الکرامۃ صحیح ہے اور جیسا کہ خود علامہ حلی نے اس کے مقدمہ میں تحریر فرمایا ہے:سمیتھا منھاج الکرامۃ فی معرفۃ الامامۃ۔
۲۔سورہ انعام:۱۰۳ ۔
۳۔منہاج السنۃ،ج۲،ص۲۴۰ تا ۲۷۸ ،اور اسی طرح الفتاویٰ الکبریٰ،ج۵،ص۵۴ ۔
۴۔سورہ طٰہ:۵ ۔
۵۔العقیدۃ الحمویۃ،مجموعۃ الرسائل کے ضمن میں ج ۱،ص۴۲۹  اور اس کے بعد۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 August 14