Monday - 2018 Oct. 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186384
Published : 28/3/2017 16:53

امام باقر(ع)کا دور مسلمانوں کی فکری تعمیر و ترقی کا نقطہ آغاز:رہبر انقلاب

ایک دن وہ تھا جب امام زین العابدین(ع) یہ فرماتے تھے:پورے حجاز میں بیس آدمی بھی ہمارے دوست و محب نہیں ہیں،لیکن وہ زمانہ گزر چکاہے، اب یہ زمانہ ہے کہ جب امام محمد باقر(ع)مسجد نبوی میں داخل ہوتے ہیں تو اہل خراسان اور دوسرے علاقہ کے لوگوں کی ایک بڑی جماعت آپ(ع) کے پاس جمع ہوجاتی ہے ،لوگ آپ(ع) سے فقہی مسائل دریافت کرتے ہیں۔

ولایت پورٹل:پانچویں امام حضرت امام محمد باقر(ع) کی زندگی کا دور مکمل طور پر امام زین العابدین(ع) کے دور کی منطق کو جاری رکھنے کا زمانہ ہے، اب ایک اور جماعت وجود میں آگئی ہے، دوبارہ شیعہ اپنے وجود ذی جود اور اپنی شخصیت و حیثیت کو محسوس کرنے لگے ہیں، واقعۂ کربلا اوراس کے بعد چند خونین حادثات (جیسے واقعۂ حرّہ اور سانحۂ توابین) اور خلفاء کی سختی کی وجہ سے شیعی تبلیغ و دعوت چند سال کے لئے رک گئی تھی،محض ڈھکے چھپے ہی تبلیغ ہو پاتی تھی، اب یہ بہت سے اسلامی ممالک، خصوصاً عراق و حجاز اور خراسان تک پھیل گئی ہے اور اب اس نے بہت سے اقوام و ملل کو اپنی طرف متوجہ کرلیا ہے یہاں تک کہ ایک نہایت ہی محدود دائرہ میں وہ فکر و عمل میں ہم آہنگی کے سبب ایک جماعت اور ایک پارٹی کی صورت میں ابھری ہے، ایک دن وہ تھا جب امام زین العابدین(ع) یہ فرماتے تھے:پورے حجاز میں بیس آدمی بھی ہمارے دوست و محب نہیں ہیں۔(ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ،ج۴،ص۱۰۴،علامہ مجلسی،بحار ج۴۶،ص ۱۴۳)
لیکن وہ زمانہ گزر چکاہے، اب یہ زمانہ ہے کہ جب امام محمد باقر(ع)مسجد نبوی میں داخل ہوتے ہیں تو اہل خراسان اور دوسرے علاقہ کے لوگوں کی ایک بڑی جماعت آپ(ع) کے پاس جمع ہوجاتی ہے ،لوگ آپ(ع) سے فقہی مسائل دریافت کرتے ہیں۔
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Oct. 15