Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186387
Published : 28/3/2017 17:17

انتظار کی حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو ظہور کے لئے تیار کریں:آیت اللہ جوادی آملی

جب تک جہاد اورجنگ کے میدان کا مرد نہ ہو وہ اپنے آپ کو آنحضرت ولی عصر (عج)کے سچے اورحقیقی منتظرین کے زمرے میں قرارنہیں دے سکتا ہے اور یہ وہی بلند معنیٰ ہیں کہ ماہ مبارک رمضان کی راتوں کی نورانی دعاؤں میں جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:(وقتلا فی سبیلک مع ولیک فوفق لنا)۔ جو شخص اپنے آپ کو حضرت ولی عصرعلیہ السلام کےظہورکا منتظرسمجھتا ہےاوران کے ذریعے امورکی اصلاح کی امید رکھتا ہے لیکن خود اہل جہاد نہیں ہے اس نے بیہودہ بات کی ہےاورحقیقت میں وہ منتظرنہیں ہے کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ اس راہ میں اسے کسی قسم کی مصیبت اورمشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے، جبکہ امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کے حقیقی انتظار کا معنی ہرلحاظ سے اپنے آپ کو تیارکرنا ہے۔

ولایت پورٹل:انتظارکی حقیقت یہ ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کا منتظر،معتقد اورعارف اپنی معرفت کی بنا پران کےامر کا احیاء کرتا ہے اوراپنے آپ کو ان کے اوامر کے دائرے میں محدود کردیتا ہے تاکہ اس کے باطن سے فیض الہی کا چشمہ پھوٹ کراس کےظاہرمیں جلوہ کرے،مرجع تقلید آیت اللہ جوادی آملی نےاپنی کتاب (امام مہدی علیہ السلام موجود موعود) میں مکتب اہل بیت علیہم السلام میں انتطارکے مفہوم کے بارے میں لکھا ہےکہ انتظارکے حقیقی معنیٰ کی وضاحت کے لیےمتعدد روایات موجود ہیں کہ جن میں سے ایک روایت یہ ہے کہ ابوبصیر حضرت امام صادق علیہ السلام سے اس طرح نقل کرتے ہیں :(لیعدن احدکم لخروج القائم ولو سهما۔ ۔ ۔) ۔بنابریں جو شخص حقیقت میں امام زمانہ علیہ السلام کا منتظرہونا چاہتا ہے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو تیار کرے اگرچہ ایک تیر ہی کو آمادہ کرکے۔
اس روایت میں غور و فکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان جب تک جہاد اورجنگ کے میدان کا مرد نہ ہو وہ اپنے آپ کو آنحضرت ولی عصر (عج)کے سچے اورحقیقی منتظرین کے زمرے میں قرارنہیں دے سکتا ہے اور یہ وہی بلند معنیٰ ہیں کہ ماہ مبارک رمضان کی راتوں کی نورانی دعاؤں میں جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:(وقتلا فی سبیلک مع ولیک فوفق لنا)۔ جو شخص اپنے آپ کو حضرت ولی عصرعلیہ السلام کےظہورکا منتظرسمجھتا ہےاوران کے ذریعے امورکی اصلاح کی امید رکھتا ہے لیکن خود اہل جہاد نہیں ہے اس نے بیہودہ بات کی ہےاورحقیقت میں وہ منتظرنہیں ہے کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ اس راہ میں اسے کسی قسم کی مصیبت اورمشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے، جبکہ امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کے حقیقی انتظار کا معنی ہرلحاظ سے اپنے آپ کو تیارکرنا ہے۔
بے شک ظہورکےبعد امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف جنگ کریں گے،لہذا ایسے ہی افراد ان کی مدد کرسکیں گے کہ جو اس میدان کے تجربہ کار ہوں گے اور اگر کوئی جنگ کا ماہر نہ ہوا تو وہ بیکار ہے،علمی جہاد کے میدان میں قلم اورخطابت کے اسلحہ سے لیس اورعملی میدان میں جنگ وجہاد کے اسلحہ اوراس کے نئے نئے طریقوں کی تعلیم حاصل کرنا حقیقی انتظارکے لیے لازم وضروری ہے،اب اگر وہ دونوں میدانوں کا مجاہد ہو اورمناسب اسلحہ سے لیس ہو تو دونوں میدانوں کے اجر و ثواب سے ہمکنار ہوگا،(طوبی لھم وحسن ماب)،البتہ امام زمانہ علیہ السلام کی کامیابی کا ایک اہم حصہ انسانی معاشرے کی ثقافتی ترقی کے مرہون منت ہے۔
نتیجہ یہ کہ مکتب اہل بیت علیہم السلام میں امام زمانہ علیہ السلام کے ظہورکےانتظارکا عمیق معنیٰ یہ ہے کہ ایک طرف ہدایت کےائمہ کی سنت کی پیروی کرنا ہے اوردوسری جانب اللہ کی راہ میں جہاد کے لیےعلم اور ایمان کےاسلحہ سے مسلح ہونا ہے۔
امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا:(رحم الله عبدا حبس نفسه علینا! رحم الله عبدا أحیا أمرنا) یہ نورانی کلام ثقافتی میدان میں حقیقی انتظار کے جلوہ کی واضح علامت ہیں،کیونکہ منتظرانسان کو اس میدان میں اپنے آپ کو الہی اوامر کے دائرے میں قراردینا چاہیئے اور قرآن وعترت کے دستورات کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے،انتظارکی حقیقت یہ ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کا منتظر،معتقد اورعارف اپنی معرفت کی بنا پران کےامرکا احیاء کرتا ہے اوراپنے آپ کو ان کے اوامر کے دائرے میں قراردیتا ہے تاکہ اس کے باطن سے فیض الہی کا چشمہ پھوٹ کراس کے ظاہر میں جلوہ کرے۔
ابلاغ




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11