Saturday - 2018 August 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186424
Published : 3/4/2017 6:59

امریکہ عراق میں دوبارہ واپس آیا تو سخت مقابلہ کریں گے:مفتی اہل سنت

انہوں نے عراق میں داعش کے دہشت گردوں کے داخلے کی وجہ بننے والوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ممالک نے صوبہ الانبار کا گھیراؤ کرنے کے لیے پانی کی طرح پیسہ بہایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ داعش کے تکفیری دہشتگردوں نے عراق کے بعض شہروں پر قبضہ کرلیا۔


ولایت پورٹل:
عراق کے نامور سنی عالم دین نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر امریکی فوجیوں نے دوبارہ عراق میں قدم رکھنے کی کوشش کی تو ان کے ساتھ فوجی مقابلہ کیا جائے گا،عراق کے نامور مفتی مہدی الصمیدعی نے بغداد میں ایک تقریب کے دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ عراق میں آنے کی کوشش کی تو وہ ان سے لڑنے کے لئے سب سے پہلے رضاکارانہ طور پر آگے آئیں گے اور ملک میں ہر قسم کے علیحدگی پسندی کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
انہوں نے عراق میں داعش کے دہشت گردوں کے داخلے کی وجہ بننے والوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ممالک نے صوبہ الانبار کا گھیراؤ کرنے کے لیے پانی کی طرح پیسہ بہایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ داعش کے تکفیری دہشتگردوں نے عراق کے بعض شہروں پر قبضہ کرلیا۔
قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے عراق کے وزیر خارجہ ابراہیم جعفری نے بھی لندن سے شائع ہونے والے اخبار الشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ عراق کی حکومت اپنے ملک میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی اور امریکی فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی،عراقی حکومت صرف امریکہ کے فوجی مشیر کی موجودگی اور ان کی طرف سے عراقی فورسز کو فوجی ٹریننگ پر اتفاق کرےگی،واضح رہے کہ امریکہ نے سال 2011 میں عراق سے اپنے فوجیوں کو واپس بلا لیا تھا لیکن 2014 میں داعش کی جانب سے عراق کے کئی علاقوں پر قبضہ کئے جانے کے بعد 5000 امریکی فوجی عراق فوج کو صلاح و مشورہ دینے کے بہانے دوبارہ عراق پہنچ گئے۔
ابلاغ



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 August 18