Friday - 2018 Dec 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186434
Published : 3/4/2017 16:58

شوہر کے فرائض:

بیوی کا احترام

بیوی کا احترام و اکرام آپ کو چھوٹا نہیں بنا دے گا بلکہ آپ کا یہ عمل حق شناسی ، صدق اور مودت کو پایہ ثبوت تک پہونچا دے گا ،لہذا آپ جتنا دوسروں کا احترام کرتے ہیں اس مقدار میں بلکہ اس سے بھی زیادہ آپ کو اپنی بیوی کا بھی احترام کرنا چاہیئے اور جب آپ اس سے گفتگو کریں تو ادب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔

ولایت پورٹل:عورت بھی مرد کی طرح اپنے آپ کو چاہتی  ہے،لہذا وہ دوسروں سے  اپنی شخصیت کے تحفط اور احترام کی خواہاں ہوتی ہے وہ چاہتی ہے کہ وہ دوسروں کی نظروں میں محترم اور باوقار رہے  توہین اور حقارت سے رنجیدہ خاطر ہوجاتی ہے  اگر اس کا احترام  اور اکرام کیا جائے تو وہ اپنے  تئیں ایک باوقار شخصیت کا احساس کرتی ہے اور زندگی کے امور میں سرگرم عمل رہتی ہے  احترام اور احترام کرنے والا اس کی نظروں میں محترم ہے اور اہانت اور توہین کرنے والا اس کی نظر میں حقیر۔
آپ کی بیوی کو آپ سے یہ امید ہے کہ دوسروں سے زیادہ آپ اس کا احترام کریں ۔اگرچہ  یہ امید اس کا حق ہے۔ چونکہ وہ آپ کو اپنا شریک زندگی  اور اپنا سب سے بڑا مونس و غمخوار مانتی ہے۔
دن رات آپ اور آپ کے بچوں کی خدمت میں لگی رہتی ہے  کیا اس کا یہ بھی حق نہیں بنتا  کہ آپ اس کے وجود کو غنیمت جانتے ہوئے اس کا احترام کریں؟
اس کا اکرام آپ کو چھوٹا نہیں بنا دے گا بلکہ آپ کا یہ عمل حق شناسی ، صدق اور مودت کو پایہ ثبوت تک پہونچا دے گا ،لہذا آپ جتنا دوسروں کا احترام کرتے ہیں اس مقدار میں بلکہ اس سے بھی زیادہ آپ کو اپنی بیوی کا بھی احترام کرنا چاہیئے  اور جب آپ اس سے گفتگو کریں تو ادب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔
لفظ «تو » کے ذریعہ اس کو مخاطب قرار نہ دیں بلکہ ہمیشہ لفظ «آپ» کہ جو احترام کی علامت ہے،  سے خطاب کریں، کبھی بھی اس کی بات کو مت کاٹیں ، اس پر نہ چلّائیں، احترام اور ادب کے ساتھ اس کو بہترین نام سے پکاریں ،جب باہر سے گھر میں  داخل ہوں تو اگر وہ سلام کرنے سے غافل ہوجائے تو آپ ہی سلام میں پہل کرلیں۔
جس وقت آپ  گھر سے باہر جانے لگیں تو اسے خدا حافظ کہیں اور جب سفر پر جانے لگیں تو اسے الوداع کریں، اس کے واسطہ خط لکھیں،اگر اس کا یوم ولادت معلوم ہو تو ایک پھولوں کا گلدستہ یا کوئی دوسری چیز اسے ہدیہ دیں، محافل اور دوسروں کے سامنے اس کی تعریف کریں، اہانت اور حقارت سے پرہیز کریں ، اس کے ساتھ گالی گلوچ نہ کریں، اس کا مذاق اڑانے اور تمسخر کرنے سے گریز کریں اور یہ خیال نہ کریں کہ آپ چونکہ اس کے اپنے ہو لہذا اسے ان سب باتوں کا برانہیں لگے گا  بلکہ اسے تو آپ سے ان سب چیزوں کی قطعًا امید نہیں تھی لہذا  اسے دکھ پہونچے گا اگرچہ وہ زبان کے ذریعہ اس کے اظہار بھی نہ کرے۔  
تمام خواتین  اپنے شوہروں سے احترام کی توقع رکھتی ہیں اور توہین  و تحقیر سے سخت نفرت کرتی ہیں اور خواتین  کا اپنے شوہروں کی  بے احترامیوں اور اذیتوں کی بنسبت خاموش رہنا  ان کی رضامندی کی دلیل نہیں ہے بلکہ یہ یقین کرلینا چاہیئے کہ قلبی اعتبار سے ناراض ہیں اگرچہ زبان پر شکایت کا ایک حر ف بھی نہ لائیں  اگر آپ  اپنی زوجہ کا احترام کریں گے تو وہ بھی آپ کا احترام کرے گی اور اس طرح آپ لوگوں کے درمیان محبت اور الفت مزید مستحکم ہوجائے گی جس کے سبب آپ دونوں دوسروں کے نزدیک بھی لائق احترام شمار ہوں گے اگر آپ نے اس کی توہین کی اور اس کے برعکس اس نے بھی اگر آپ کو کوئی ناروا بات کہی تو اس کے قصوروار آپ  خود ہی ہیں۔
جناب  شادی کرنے اور کنیز خریدنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے وہ ایک کنیز یا قیدی  بن کر آپ کے گھر نہیں آئی بلکہ وہ ایک  آزاد خاتون ہے کہ جو  ایک مشترک  اور سعادت مند زندگی کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے آپ کے گھر آئی ہے پس اس سے جن چیزوں کی امیدیں آپ  رکھتے ہیں انہیں امور کی توقع وہ آپ سے بھی رکھتی ہے پس آپ اس سے اس طرح پیش آئیں کہ جس طرح آپ چاہتے ہیں کہ وہ آپ کے ساتھ پیش آئے ،چنانچہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے پدر بزرگوار سے نقل کرتے ہیں  کہ آپنے ارشاد فرمایا:«جو شخص بھی  کسی سے شادی کرے اسے چاہیئے کہ اسے محترم سمجھے۔(۱)
نیز پیغمبر اکرم(ص) کا فرمان ہے کہ:جو شخص بھی کسی مسلمان کا احترام کرے خدا اس کو محترم و مکرم بنادے گا۔(۲)
اور حضرت ختمی مرتبت(ص)ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:عورتوں کا احترام صرف وہی افراد کرتے ہیں کہ جو خود لائق تعظیم ہوں،اور ان کی توہین و تحقیر صرف وہی کرتے ہیں کہ جو خود پست و حقیر ہوں،لہذا جو بھی اپنے اہل و عیال کی توہین کرے تو اس کو کبھی زندگی میں خوشی نصیب نہیں ہوگی۔(۳)
.....................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔بحار الانوار، ج 103 ، ص 224 ۔
۲۔بحار الانوار، ج 74 ، ص 303 ۔
۳۔مواعظ العددیة، ص 151۔


 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Dec 14