Wed - 2018 Dec 12
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186443
Published : 3/4/2017 18:41

امام علی رضا(ع) اور مسئلہ ولی عہدی

اکثر محققین اس بات سے متفق نظر نہیں آتے، کیونکہ مامون اس باپ کا بیٹا ہے جس نے مامون ہی کو نصیحت کرتے ہوئے کہاتھا کہ (الملک عقیم) مملکت بھانجھ ہوتی ہے اگر تو بھی اس میں مجھ سے نزاع کرے گا تو میں تیری آنکھیں پھوڑ دوں گا،لہذا یہ بعید ہے کہ مامون واقعًا خلافت کو اس کے حقدار تک پہنچانا چاہتا تھا۔

ولایت پورٹل:امام رضا(ع) سلسلہ عصمت کی دسویں کڑی اور آسمان امامت کے آٹھویں آفتاب ہیں،آپ کی ولادت با سعادت١١ ذی القعدہ سن ٤٨ ھ میں ہوئی، یہ عجیب اتفاق ہے کہ یہ وہی سال ہے جس میں آپ کے جد بزرگوار امام صادق(ع) کی شہادت واقع ہوئی،گویا یہ غیبی اشارہ تھا کہ ایک عالم آل محمد کی جگہ دوسرے عالم آل محمد  کو لینی ہے اور بعد میں امام رضا (ع)عالم آل محمد(ص) کے لقب سے ہی مشہور ہوئے۔
آپ کی زندگی کے مختلف گوشے ہیں جن پر بات کی جا سکتی ہے لیکن سب سے اہم مسئلہ ولی عہدی کا ہے،اس حوالے سے اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ آپ نے ایک ظالم کا ولی عہد ہونا کیسے قبول کیا؟
اگرچہ تاریخ کاہر آشنا یہ محسوس کر سکتا ہے کہ امام (ع) نے ولی عہدی اپنی مرضی سے قبول نہیں کی بلکہ اس حوالے سے امام(ع) کو مجبور کیا گیا۔
اب سوال یہ ہے کہ مامون عباسی نے کیونکر امام (ع) کو ولی عہد بنانا چاہا اور وہ اس سے کیا سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا؟ بہت سے علماء کا اس حوالے سے خیال ہے کہ مامون ولی عہدی کے حوالے سے مخلص تھا،مامون نے اس وقت نذر مانی تھی جب اس کے اور اس کے بھائی امین کے درمیان نزاع انتہاء کو چھو رہی تھی اور سارے عباسی عرب ماں کا بیٹا ہونے کی وجہ سے امین کا ساتھ دے رہے تھے،مامون کےلیے وہ وقت انتہائی مشکل تھا،لہذا اس نے نذر مانی کہ وہ اگر اپنے بھائی پر جیت جاتا ہے تو وہ خلافت کو اس کے حقیقی حقدار تک پہنچائے گا،خدا نے اس کی دعا سن لی اور وہ اپنے بھائی پر غلبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا،نذر پوری کرنے کے لیے اس نے خاندان رسالت کے تمام افراد کی فہرست بنائی جن کی تعداد ہزاروں میں تھی،ان تمام افراد میں اس کو امام رضا(ع) ہی خلافت کےلیے سب سے موزوں نظر آیا، لہذا اس نے امام کو خلافت کی پیشکش کی،اس قول کو شیخ صدوق علیہ الرحمۃ نے بھی قبول کیا ہے،لیکن اکثر محققین اس بات سے متفق نظر نہیں آتے، کیونکہ مامون اس باپ کا بیٹا ہے جس نے مامون ہی کو نصیحت کرتے ہوئے کہاتھا کہ (الملک عقیم) مملکت بھانجھ ہوتی ہے اگر تو بھی اس میں مجھ سے نزاع کرے گا تو میں تیری آنکھیں پھوڑ دوں گا،لہذا یہ بعید ہے کہ مامون واقعا خلافت کو اس کے حقدار تک پہنچانا چاہتا تھا۔
بعض حضرات تو اس حدتک کہتے  ہیں کہ مامون حقیتا شیعہ تھا اور وہ امام سے دلی عقیدت رکھتا تھا لہذا وہ امام رضا کو ہی حقیقی خلیفہ سمجھتا تھا،لیکن یہ بات انتہائی بعید ہے، اگر وہ واقعی شیعہ ہوتا تو اپنے وقت کے امام کو زہر دے کر شہید نہ کرتا۔
تحقیق یہ ہے کہ مامون اس ولی عہدی کے ذریعے شیعیان علی کی ہمدردی حاصل کرنا چاہتا تھا، چونکہ عباسی امین کے قتل کے بعد پہلے ہی اس کے خلاف ہوچکے تھے، اب علوی بھی اس کے خلاف ہوں اور مختلف جگہوں پر بغاوتوں کا اٹھنا اس کے لیے بہت مہنگا ثابت ہو سکتا تھا،لہذا اس نے نہایت چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امام(ع) کو اس بات پر مجبور کیا کہ آپ ولی عہدی قبول کر لیں،قبول نہ کرنے کی صورت میں قتل کی دھمکی بھی دی،اور امام نے کچھ شروط کے ساتھ یہ ولی عہدی قبول کر لی، اور تاریخ نے ثابت کردیا کہ مامون اپنے سیاسی مقصد کے حصول میں کامیاب رہا اور امام کی ولیعہدی کے دو سالوں میں شیعوں کی طرف سے حکومت وقت کے خلاف کوئی بغاوت کی تحریک نہیں اٹھی۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 12