Monday - 2018 Oct. 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186487
Published : 5/4/2017 16:19

کھیل کود کے اوقات میں کیسے کریں بچوں کی تربیت؟(1)

کھیل بچے کے لیے ایک فطرى ورزش ہے ،اس سے اس کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں،اس کى فہم اورعقلى قوتوں کو کام میں لاتى ہے اور اسے مزید طاقت عطا کرتى ہے ، بچے کے اجتماعى جذبات اور احساسات کو بیدار کرتى ہے، اسے معاشرتى زندگى گزارنے اور ذمہ داریوں کو قبول کرنے پر آمادہ کرتى ہے۔

ولایت پورٹل:جیسے سانس لینا بچے کے لیے ضرورى ہے ایسے ہى کھیل کوداس کے لیے ایک فطرى امرہے،پر ائمرى و مڈل میں بچے کى سب سے بڑى سرگرمى اور مشغولیت کھیل ہے، اس کے بعد آہستہ آہستہ کم ہوجاتى ہے اور پھر ضرورى کام اس کى جگہ لے لیتے ہیں،کھیل کے لیے بچے کے پاس دلیل نہیں ہے ، البتہ وہ ایسا نہیں کرسکتاکہ نہ کھیلے، بچہ ایک موجود زندہ ہے اور ہر موجود زندہ کو چاہیئے کہ وہ فعّال رہے ، کھیل بھى بچے کے لیے ایک قسم کى فعالیت اور کام ہے بچے کا نہ کھیلنا اس کى بیمارى اور ناتوانى کى علامت ہے ، اسلام نے بھے بچے کى فطرى ضرورت کى طرف توجہ دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ اسے آزاد چھوڑا جائے تا کہ وہ کھیلے۔
حضرت صادق علیہ السلام نے  ارشاد فرمایا:بچے کو سات سال تک آزاد چھوڑدیں تا کہ وہ کھیلے۔(1)
رسول اکرم صلى اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ بچوں کے پاس سے گزرے کہ جومٹى سے کھیل رہے تھے ،آپ(ص) کے بعض اصحاب نے انھیں کھیلنے سے منع کیا۔
رسول اللہ(ص) نے ارشاد فرمایا:انہیں کھیلنے دومٹى بچوں کى چراگاہ ہے۔(2)
کھیل بچے کے لیے ایک فطرى ورزش ہے ،اس سے اس کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں،اس کى فہم اورعقلى قوتوں کو کام میں لاتى ہے اور اسے مزید طاقت عطا کرتى ہے ، بچے کے اجتماعى جذبات اور احساسات کو بیدار کرتى ہے، اسے معاشرتى زندگى گزارنے اور ذمہ داریوں کو قبول کرنے پر آمادہ کرتى ہے۔
ماہرین نفسیات کھیل کے اصلى محرک کے بارے میں اختلاف نظر رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے جو تحقیقات کى ہیں وہ ہمارے کام کى ہرگز نہیں ہیں ہمارے لیے جو اہم ہے وہ یہ ہے کہ اس فطرى امر سے بچے کى تعلیم و تربیت کے لیے استفادہ کریں اور اس کى آئندہ کى زندگى کو بہتر بنانے کے لیے اسے کام میں لائیں،ایک ذمہ دار مرّبى کو نہیں چاہیے کہ وہ کھیل کو بس ایک مشغولیت شمارکرے اور اس حساس اورپر اہمّیت عرصے کو بے وقعت سمجھے، بچے کھیل کے دوران خارجى دنیا سے آشنا ہوتا ہے،حقائق سمجھنے لگتا ہے،کام کرنے کا انداز سیکھتاہے ،خطرات سے بچنے اور ایک دوسرے کے ساتھ ہم دست ہونے ، مشق کرنے اور مہارت حاصل کرنے کا انداز سیکھتا ہے ،اجتماعى کھیل میں دو دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا اوراجتماعى قوانین کى پابندى کرنا سیکھتا ہے۔
دیلیم اسٹرن لکھتے ہیں:کھیل صلاحیتوں کے رشد و نمو کا ایک فطرى ذریعہ ہے یا آئندہ کے اعمال کے لیے ابتدائی مشق کے مانند ہے۔(3)
......................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
1۔وسائل، ج 15، ص 193۔
2۔مجمع الزوائد، ج 8 ،ص 159۔
3 ۔روانشناسى كودک، تاليف دكتر جلالى، ص 331۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Oct. 15