Saturday - 2018 Oct. 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186496
Published : 5/4/2017 17:25

امام علی نقی علیہ السلام کا علم

تمام علماء و فقہاء شریعت اسلامیہ کے پیچیدہ اور پوشیدہ مسا ئل میں آپ ہی کے روشن و منور نظریے کی طرف رجوع کرتے تھے ،آپ اور آپ کے آباء و اجداد کا سخت دشمن متوکل بھی جس مسئلہ میں فقہا ءمیں اختلاف پاتا تھا اس میں آپ ہی کی طرف رجوع کر تا تھا اور سب کے نظریات پر آپ کے نظریہ کو مقدم رکھتا تھا۔

ولایت پورٹل:حضرت امام علی نقی علیہ السلام علمی میدان میں دنیا کے تمام علماء سے زیادہ علم رکھتے تھے ،آپ تمام قسم کے علوم و معارف سے آگاہ تھے آپ نے حقائق کے اسرار اور مخفی امور کو واضح کیا ،تمام علماء و فقہاء شریعت اسلامیہ کے پیچیدہ اور پوشیدہ مسا ئل میں آپ ہی کے روشن و منور نظریے کی طرف رجوع کرتے تھے ،آپ اور آپ کے آباء و اجداد کا سخت دشمن متوکل بھی جس مسئلہ میں فقہا ءمیں اختلاف پاتا تھا اس میں آپ ہی کی طرف رجوع کر تا تھا اور سب کے نظریات پر آپ کے نظریہ کو مقدم رکھتا تھا۔یہاںہم ذیل میں وہ مسائل پیش کررہے ہیں جن میں متوکل نے امام کی طرف رجوع کیا ہے:
۱۔متوکل کا ایک نصرا نی کاتب تھا جس کی بات کو وہ بہت زیادہ مانتا تھا ،اس سے خالص محبت کرتا تھا ،اس کا نام لے کر نہیں پکارتا تھا بلکہ اس کو ابو نوح کی کنیت سے آواز دیا کر تاتھا، فقہا ء کی ایک جماعت نے اس کو ابو نوح کی کنیت دینے سے منع کرتے ہوئے کہا :کسی کافر کومسلمان کی کنیت دینا جا ئز نہیں ہے ، دوسرے ایک گروہ نے اس کو کنیت دینا جا ئز قرار دے دیاتو اس سلسلہ میں متوکل نے امام سے استفتا ءکیا۔امام نے اس کے جواب میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعدیہ آیت تحریر فرما ئی:«تَبَّتْ یَدَا أَبِی لَهَبٍ وَتَبَّ»۔(المسد:۱)
ترجمہ:ابولہب کے ہاتھ ٹوٹ جا ئیں اور وہ ہلاک ہو جا ئے۔
امام علی نقی علیہ السلام نے آیت کے ذریعہ کافر کی کنیت کے جواز پردلیل پیش فرمائی اور متوکل نے امام  کی رائے تسلیم کر لی۔(حیاہ الامام علی النقی،ص ۲۹۴)
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Oct. 20