Wed - 2018 Oct. 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186500
Published : 5/4/2017 18:3

وہ نماز بھی کیا جو برائی سے نہ روکے(۱)

نماز کی ظاہری کیفیت جو اعضاء پر طاری ہوتی ہے وہی اگر نمازی کے دل پر طاری رہے تو وہ کسی وقت بھی غلط کاری کی طرف قدم نہیں بڑھا سکتا ہے، جس طرح کوئی محب خلوت و جلوت میں کبھی اپنے محبوب کی رضا کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاتا ہے۔


ولایت پورٹل:نماز انسان کو انسان بنا دیتی ہے، نماز انسان کو برائی سے روکتی ہے، نماز لوگوں کو گناہوں سے باز رکھتی ہے،قرآن مجید میں موجود ہے۔
«اُتْلُ مَا اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتَابِ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشآءِ وَالْمُنْکَرِ»۔(العنکبوت:۴۵)
اے رسول !جو کتاب تمہارے پاس نازل کی گئی ہے اس کی تلاوت کرو اور پابندی سے نماز پڑھو بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے باز رکھتی ہے اور خدا کی یاد یقینًا بڑا مرتبہ رکھتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا جانتا ہے۔
اس آیت سے بھی نماز کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے اور صریحی طور سے آیت میں نماز کی پابندی کرنے کو کہا جارہا ہے اور نماز کے ادا کرنے کا فائدہ بھی بتایا جارہا ہے کہ نماز سے کیافائدہ ہے،انسان کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ نماز کے ادا کرنے سے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
نماز ایک ایسی عبادت ہے کہ جس کے ذریعہ انسان دنیا و آخرت دونوں میں فائدہ حاصل کرسکتا ہے،خود دنیا میں انسان نماز کے ذریعہ بے حیائی اور برے کاموں سے باز رہ سکتا ہے اور اس دنیا کے بعد یہی نماز انسان کو خیر و عافیت کے ساتھ حشر کے میدان تک لے جاتی ہے اور ہر جگہ انسان کے کام آتی ہے۔
اب جو لوگ بھی نماز کی لذت سے بہرہ ور ہوتے ہیں وہ اپنے محبوب خالق اور پیارے پروردگار کی مخالفت کا چشم زدن میں بھی تصور نہیں کرسکتے ہیں۔
تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ نماز کا بے حیائی اور بر ے کاموں سے روکنا ایسا ہے جیساکہ کوئی کسی کو زبان کے ذریعہ منع کرے کیونکہ نماز میں اللہ کی کبریائی کی گواہی دیتے ہوئے اللہ اکبر کہنا ،اس کی تسبیح کا زبان پر جاری کرنا، اس کی الوہیت کا اقرار کرنا، قرأت کرنا اور پھر رکوع و سجود و قیام و تشہد کے حالات میں تبدیل ہونا ایسے حالات ہیں جن سے کشف کیا جاسکتا ہے کہ یہ شخص اٹھتے بیٹھتے جھکتے اور کھڑے ہوتے اللہ کے امر کا مکمل پابند ہے اور اس کا ہر عضو محو اطاعت پروردگار ہے اور روزانہ کم از کم پانچ اوقات میں اس حالت کا بار بار اعادہ (کرنا)اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ جلوۂ جمال توحید کا پروانہ ہے اور اس طرح نماز کے انتظار میں بیتاب ہے جس طرح کوئی محب اپنے پیارے محبوب کا منتظر ہو اور ایسی یکسوئی سے اس کے ساتھ محو مناجات ہوتا ہے جس طرح مدت کا بچھڑا ہوا دوست سے مل کر یا کوئی محب اپنے محبوب سے مل کر پیار محبت کے لہجے میں بات کرتا اور سنتا ہے۔
نماز کی ظاہری کیفیت جو اعضاء پر طاری ہوتی ہے وہی اگر نمازی کے دل پر طاری رہے تو وہ کسی وقت بھی غلط کاری کی طرف قدم نہیں بڑھا سکتا ہے، جس طرح کوئی محب خلوت و جلوت میں کبھی اپنے محبوب کی رضا کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاتا ہے۔
ابن عباس سے منقول ہے کہ جو نماز نمازی کو گناہوں سے نہ روکے وہ قرب الٰہی کے بجائے اللہ سے دوری کا سبب ہوتی ہے،اور اسی طرح انس بن مالک نے رسول اسلام(ص) سے روایت کی ہے کہ:جو نماز، نمازی کو فحشاء و منکر سے نہیں روکتی وہ اللہ سے دوری کا سبب ہے۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Oct. 17