Wed - 2018 August 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186510
Published : 6/4/2017 14:44

وہ نماز بھی کیا جو برائی سے نہ روکے(۲)

حضرت امام جعفر صادق(ع) نے اپنی وفات سے پہلے اپنے فرزندوں اور اقرباء کو جمع کیا اور یہ پیغام دیا کہ :جو نماز کو سبک سمجھے وہ قیامت کے دن ہماری شفاعت سے محروم رہے گا۔


ولایت پورٹل:
قارئین کرام! ہم نے گذشتہ کالم میں نماز کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے عرض کیا تھا کہ نماز ایک ایسی عبادت ہے کہ جس کے ذریعہ انسان دنیا و آخرت دونوں میں فائدہ حاصل کرسکتا ہے،خود دنیا میں انسان نماز کے ذریعہ بے حیائی اور برے کاموں سے باز رہ سکتا ہے اور اس دنیا کے بعد یہی نماز انسان کو خیر و عافیت کے ساتھ حشر کے میدان تک لے جاتی ہے اور ہر جگہ انسان کے کام آتی ہے،لہذا پورے کالم سے آشنائی کے لئے نیچے دیئے لنک پر کلک کیجئے!
وہ نماز بھی کیا جو برائی سے نہ روکے(۱)
گذشتہ سے پیوستہ:ابن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا کہ:اس شخص کی نماز نماز نہیں ہے جو نماز کی اطاعت نہ کرے۔
تو لوگوں نے سوال کیا کہ نماز کی اطاعت کیا ہے؟ آپ(ص) نے جواب دیا کہ نماز کی اطاعت یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو بے حیائی سے روکے اور بدکاری سے بچائے،یعنی نماز کی حالت اور اس کے اذکار جو زبان مقال سے معبود کے ساتھ عبد کے وصال کی خبر دیتے ہیں وہ زبان حال سے نمازی کو مخالفت پروردگار سے باز رہنے کی دعوت بھی دیتے ہیں،پس جو شخص نماز پڑھے اور گناہوں کو ترک نہ کرے تو اس کی نماز وہ نماز نہیں ہے جس کی خدا نے یہ صفت بیان کی ہے پس اگر کسی وقت توبہ کرلے اور گناہوں کو ترک کردے تو اس سے پتہ چلے گا کہ نمازی کو نماز نے فائدہ پہنچایا اور آخر کار اپنا مطالبہ نماز نے نمازی سے منوالیا خواہ کافی عرصے کے بعد ہی توبہ کیوں نہ کرے، انس بن مالک سے ہی ایک روایت یہ ہے کہ ایک انصاری نوجوان جو کہ ہمیشہ مسجد نبوی(ص) میں حضور کے پیچھے نماز پڑھا کرتا تھا اس کے باوجود بدکاری کیا کرتا تھا، لوگوں نے حضور(ص)سے اس کی شکایت کی تو آپ(ص) نے فرمایا کہ ایک دن نماز اس کو بدکاری سے روک لے گی اور اسی طرح جناب جابر سے روایت ہے کہ:ایک شخص دن کا نمازی اور رات کا چور تھا تو لوگوں نے حضور(ص)  سے اس کی بھی شکایت کی، تو آپ نے فرمایا کہ اس شخص کو بھی نماز ایک دن برائی اور چوری سے روک لے گی، یعنی نماز میں اس قدر کشش ہے کہ انسان کو برائی سے روک کر اچھائی کی طرف مائل کردیتی ہے اسی لئے تو کہا گیا ہے کہ نماز کو ترک نہ کرو چاہے تم جس جگہ ہو اس لئے کہ نماز کا ترک کرنا انسان کا اپنے خدا سے رابطہ منقطع کرنا ہے اور جب خدا سے رابطہ منقطع ہوجائے تو اس کے بدلے میں دنیا و آخرت میں تلخ نتائج پیدا ہوتے ہیں،قرآن مجید میں موجود ہے کہ جب اہل بہشت اہل دوزخ سے سوال کریں گے کہ تمہیں جہنم میںکس چیز نے پہنچایا؟ تو ان کے جوابوں میں ایک جواب یہ بھی ہوگا کہ ہم تارک الصلوٰۃ تھے۔
پیغمبر اسلام(ص) نے فرمایا کہ تارک الصلوٰۃ اسلام و کفر کے درمیان ہوتا ہے اور پیغمبراسلام(ص) پھر فرماتے ہیں کہ نماز کو جو عمداً ترک کرے وہ کافر ہے، اور مولا علی(ع) فرماتے ہیں کہ:جو شخص نماز کو ضائع کرتا ہے وہ دیگر چیزوں کو نماز سے زیادہ ضائع کرتا ہے،نماز سے پہلو تہی کرنے والا سب سے بڑا چور ہے۔
رسول اسلام (ص) فرماتے ہیں کہ جو افراد نماز کو ضائع کرتے ہیں وہ روز قیامت قارون و ہامان کے ساتھ کھڑے کئے جائیں گے اور وائے ہو ان افراد پر جو اپنی نماز کی حفاظت نہیں کرتے، اور جو شخص نماز کو سبک سمجھتا ہے اس کی عمرو مال سے خدا برکت اٹھا لیتا ہے، اور اس کے نیک کاموں کا بھی اجرضائع ہوجاتا ہے اس لئے کہ ہر عمل کے قبول ہونے کی شرط نماز کا قبول ہونا ہے اور پھر دعا بھی مستجاب نہیں ہوتی اور مرتے وقت بھوک پیاس کے احساس کے ساتھ دنیا چھوڑتا ہے اور برزخ میں اسے عذاب ہوگا اور روز قیامت اس سے سخت سوال ہوگا،رسول اسلام(ص) یہاں تک فرماتے ہیں کہ جو نماز کو خفیف سمجھے وہ میری امت میں سے نہیں ہے اور امام جعفر صادق(ع) کا آخری فرمان قبل از وفات آپ نے اپنے فرزندوں اور اقرباء کو جمع کیا اور فرمایا:جو نماز کو سبک سمجھے وہ قیامت کے دن ہماری شفاعت سے محروم رہے گا۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 August 15