Sunday - 2018 April 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186708
Published : 16/4/2017 18:52

اسلحہ کی دوڑ(ایک تبصرہ)

امریکہ کی فوجی اپروچ کے جواب میں روس نے نئے سوپرسانیک میزائل سیرکون کا تجربہ کیا ہے۔ یہ میزائل آواز کی رفتار سے آٹھ گنا زیادہ رفتار کا حامل ہے.

ولایت پورٹل:امریکہ کی فوجی اپروچ کے جواب میں روس نے نئے سوپرسانیک میزائل سیرکون کا تجربہ کیا ہے۔ یہ میزائل آواز کی رفتار سے آٹھ گنا زیادہ رفتار کا حامل ہے۔بعض رپورٹوں کے مطابق امریکہ اپنےسوپر سانیک میزائل پروگرام کو ترقی دے رہا ہے۔ روس کے میزائل تجربے کو امریکہ کے سب سے بڑے غیر ایٹمی بم کے تجربے کا جواب قراردیا جاسکتا ہے امریکہ نے اس بم کو تمام بموں کی ماں کا لقب دیا ہے۔ امریکہ نے  اس بم کا تجربہ افغانستان میں کیا ہے۔امریکہ کی جانب سے سب سے بڑے غیر ایٹمی بم کے  تجربے پر دنیا کی توجہ مرکوز ہوگئی ہے ۔اس کے بعد امریکہ نے نواڈا میں ایک  ایٹم بم کے تجربے کی خبردی تھی۔ دراین اثنا امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس طرح کے ایٹم بموں کی جدید کاری کو سراہا ہے، یہ پروجیکٹ سابق صدر باراک اوباما کی صدارت میں شروع ہوا تھا۔ بعض رپورٹوں کے مطابق امریکہ نے ایف پینتیس ساخت کے متعدد طیارے نیٹو کی فوجی مشقوں میں شرکت کے لئے یورپ روانہ کردئے ہیں۔ یورپ میں ان طیاروں کی تعیناتی کا ایک اور ھدف روس کے مقابلے  میں ڈیٹرینٹ طاقت برقرار رکھنا ہے۔ روس کی خبررساں ایجنسی نے امریکی میزائل ڈیفنس آرگنائیزیشن کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ  امریکہ کے اینٹی میزائل، میزائل کا تجربہ کامیاب رہا ہے اور امریکہ اس میزائل کو پولینڈ میں نصب کرنا  چاہتا ہے۔ امریکہ کی یہ وسیع فوجی نقل وحرکت اور اس کے مقابلے میں روس کے اقدامات اس بات کا باعث بنے ہیں کہ بہت سے ماہرین اور سیاسی رہنما منجملہ سابق سوویت یونین کے آخری صدر گورباچف یہ اعلان کریں کہ موجودہ حالات نئے سرے سے ایک نئی سرد جنگ اور دو سوپر طاقتوں کی اسلحہ کی دوڑ کا پیش خیمہ ثابت ہو رہے ہیں۔درحقیقت امریکہ اور روس کے سیاسی حکام اور فوجی کمانڈروں کے بیانات روز بروز مخاصمانہ رنگ اختیار کرتے جارہے ہیں۔ ادھر صدر ولادیمیر پوتین کی طرف سے نقل کیا گیا ہے کہ روس اور امریکہ کے تعلقات جنگ سرد سے بد تر  ہوگئے ہیں۔ ان سارے مسائل سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ دنیا تیزی سے ملی ٹرائیزیشن اور جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ صورتحال ٹرمپ کی پالیسیوں سے کھل کر سامنے آئی ہے بالخصوص ان کے شمالی کوریا کو حملوں کی دھمکی دینے اور شام پر میزائل حملے کرنے سے عالمی برادری تشویش میں مبتلا ہوگئی ہے۔امریکہ نے حالیہ برسوں میں روس کی سرحدوں کے قریب اپنے حملہ آور اور دفاعی فوجی سسٹموں کی تقویت کی ہے۔ان حالات میں روس نے توازن برقرار رکھنے کےلئے اپنی فوجی توانائیوں میں اضافہ کیا ہےسرد جنگ کے یہ دو دشمن یعنی روس اور امریکہ نے سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد اپنے مسائل حل کرنے کے لئے مستحکم سکیورٹی راہیں تلاش نہیں کی ہیں۔ البتہ امریکہ نے اپنے دیرینہ رقیب کو کمزور بنانے کی بھرپور کوششیں جاری رکھی ہیں۔ امریکہ کی کوششوں کے باوجود روس ایک نئی طاقت بن کر ابھرا ہے اور امریکہ کے مقابلے میں اپنی دیٹیرینٹ طاقت کو بدستور محفوظ رکھنے کی کوشش کررہا ہے،ماسکو اور واشنگٹن کے تعلقات یوکرین اور شام کے بحرانوں کی وجہ سے کشیدہ ہوگئے ہیں اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ دونوں رقیب دنیا کے مختلف علاقوں میں ایک دوسرے کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ روس اپنی فوجی توانائیوں میں اضافہ کرکے امریکہ کے خودسرانہ خطروں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کررہے جن سے عالمی برادری کو بھی خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔
سحر

 




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 April 22