Friday - 2018 july 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186724
Published : 17/4/2017 16:29

شعب ابو طالب میں آل ابو طالب(ع)

پیغمبر(ص) کے ساتھ آپ پر ایمان لانے والے ہاشمی جن میں سر فہرست حضرت علی(ع) تھے سب نے اس شعب میں قیام کیا اور وہ مسلسل وہیں رہے اور اس سے باہر نہیں نکلے وہ بد ترین حالات میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہے اور ام المؤمنین خدیجہ (س)نے ان کی تمام ضروریات کو پورا کیا یہاں تک کہ اسی راستہ میں ان کی عظیم دولت کام آگئی

ولایت پورٹل:
قریش کے سر کردہ لیڈروں نے یہ طے کیا کہ نبی(ص) کو شِعب ابو طالب میں قید کردیاجائے اور آپ کو وہاں رہنے پر مجبور کیاجائے تا کہ آپ کا لوگوں سے ملنا جلنا بند ہو جائے اور ان کے عقائد میں کوئی تبدیلی نہ ہو سکے اور وہ آپ ان کے اذہان کو جا ہلیت کے چنگل سے نہ چھڑا سکیں لہٰذا انھوں نے بنی ہاشم کے خلاف مندرجہ ذیل معاہدے پر دستخط کئے:
۱۔وہ ہاشمیوں سے شادی بیاہ نہیں کریں گے ۔
۲۔ان میں سے کو ئی ایک بھی ہاشمی عورت سے شادی نہیں کر ے گا۔
۳۔وہ ہاشمیوں سے خرید و فروخت نہیں کریں گے،انھوں نے یہ سب لکھ کر اور اس پر مہر لگا کرخانۂ کعبہ کے اندر لٹکادیا۔
پیغمبر(ص) کے ساتھ آپ پر ایمان لانے والے ہاشمی جن میں سر فہرست حضرت علی(ع) تھے سب نے اس شعب میں قیام کیا اور وہ مسلسل وہیں رہے اور اس سے باہر نہیں نکلے وہ بد ترین حالات میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہے اور ام المؤمنین خدیجہ (س)نے ان کی تمام ضروریات کو پورا کیا یہاں تک کہ اسی راستہ میں ان کی عظیم دولت کام آگئی ،نبی اکرم(ص)شعب میں اپنے اہلبیت (ع) کے ساتھ دو یا دو سال سے زیادہ رہے، یہاں تک کہ خدا نے دیمک کو قریش کے معاہدہ پر مسلط کیا جس سے وہ اس کو کھا گئیں ،اُدھر رسول اکرم(ص)نے جناب ابوطالب(ع)کے ذریعہ یہ خبر پہنچائی کہ عہد نامہ کو دیمک نے کھا لیا ہے وہ جلدی سے عہد نامہ کے پاس آئے توانھوں نے اس کو ویسا ہی پایا جیسا کہ نبی اکرم(ص) نے اس کی خبر دی تھی تو ان کے ہوش اڑگئے ، قریش کی ایک جماعت نے ان کے خلاف آواز اٹھا ئی اور ان سے نبیؐ کو آزاد کرنے کا مطالبہ کیا جس سے انھوں نے نبی(ص) کو چھوڑ دیا ،آنحضرت(ص) اپنے اہلبیت(ع)کے ساتھ قید سے نکلے جب کہ ان پر قید کی سختیوں کے آثار نمایاں تھے۔
نبی اکرم(ص) نے شعب سے باہر نکل کر قریش کی دھمکیوں کی پرواہ نہیں کی اور پھر سے دعوت توحید کا اعلان کیا ،ان کا مقابلہ کرنے میں آپ کے چچا ابو طالب ،حضرت علی(ع) اور بقیہ دوسرے افراد نے بڑی مدد کی،یہی لوگ آپ(ع) کی مضبوط و محکم قوت بن گئے اور ابو طالب(ع)رسالت کا حق ادا کرنے کے متعلق یہ کہہ کر آپ(ع) کی ہمت افزائی کر رہے تھے:
اِذْھَبْ بَنِيّ فَمَا عَلَیْکَ غَضَاضَۃُ
اِذْھَبْ وَقُرَّ بِذَاکَ مِنْکَ عُیُونَا
وَاللہِ لَنْ یَصِلُوا اِلَیْکَ بِجَمْعِھِمْ
حَتّٰی اُوَسِّدَ فِی التُّرَابِ دَفِیْنَا
وَدَعَوْتَنِي وَعَلِمْتُ اَنَّکَ ناصِحِي
وَلَقَدْ صَدَقْتَ وَکُنْتَ قَبْلُ اَمِیْنَا
وَلقد علِمتُ بِاَنَّ دِینَ محمدٍ
مِنْ خَیْرِ اَدْیَانِ الْبَرِیَّۃِ دِیْنَا
فَاصْدَعْ بِاَمْرِکَ مَاعَلَیْکَ غضَاضَۃُ
وَابْشِرْ بِذَاکَ وَقُرَّ عُیُوْنَا۔(حیاۃ الامام امیرالمؤمنین،ج۱،ص۱۳۷)
ترجمہ:بیٹے جاؤ تمھیں کوئی پریشانی نہیں ہے ،جاؤ اور اس طرح اپنی آنکھیں روشن کرو۔
خدا کی قسم وہ اپنی جماعت کے ساتھ اس وقت تک تم تک نہیں پہنچ سکتے جب تک میں دنیا سے نہ اٹھ جاؤں ۔
تم نے مجھے دعوت دی اور مجھے یقین ہو گیا کہ تم میرے خیر خواہ ہو ،تم نے سچ کہا اور پہلے بھی تم امانتدار تھے۔
مجھے یقین ہو گیا ہےکہ محمد کا دین دنیا کا سب سے بہترین دین ہے۔
لہٰذا اپنی دعوت کا اعلان کرو اور تمھیںذرہ برابر ملال نہ ہو ،تم خوش رہو اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرو۔
یہ اشعار ابوطالب(ع) کے صاحب ایمان ،اسلام کے حا می اور مسلمانوں میں پہلے مجاہد ہونے پر دلالت کر تے ہیں اور ان لوگوں کے ہاتھ ٹوٹ جا ئیںجو ابو طالب کو صاحب ایمان نہیں سمجھتے ،اس طرح کی فکر کرنے والوں کا ٹھکانہ جہنم ہے ،حالانکہ ان کو یہ علم ہے کہ ابوطالب(ع) کا بیٹا جنت و جہنم کی تقسیم کرنے والا ہے۔
بے شک ابو طالب(ع) اسلامی عقائد کے ایک رکن ہیں ،اگر آپ(ع) ابتداء میں پیغمبر کے موافق نہ ہوتے تو اسلام کا نام اور دستور وا ٓئین کچھ بھی باقی نہ رہتے اور قریش ابتداء ہی میں اس کا کام تمام کردیتے۔
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 july 20