Wed - 2018 Dec 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186729
Published : 17/4/2017 17:26

کیا وہابیت اپنی زندگی کے آخری مراحل میں ہے؟

تمام تر مشاہدات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ شدت پسند وہابیت کی عمر اختتام کے قریب ہے اور وہ اپنے حامیوں اور طرفداروں کوبڑی تیزی کے ساتھ کھوتی جارہی ہے اور خود کو تاریخ کے قبرستان میں دفن کرتی جارہی ہے اور اب اس کے زوال کے آثار نمایاں ہو نے لگے ہیں کیونکہ شدت پسند وہابیت کے اصولوں میں ایسی باتیں پوشیدہ ہیں جو آج کی دنیا میں باقی و ثابت نہیں رہ سکتی ہیں۔

ولایت پورٹل:سوویت یونین کے زوال سے دس سال پہلے«مارکس ازم کی زندگی کے خاتمہ»کے عنوان کے تحت ایک کتاب میں آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اس نکتہ پر زیادہ توجہ دی تھی کہ قرائن و شواہد اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ «مارکس ازم»اپنی زندگی کے آخری دور میں ہے اور بہت جلد اس کا سورج ڈھل جائے گا ۔کتاب کے مقدمہ میں کچھ اس طرح لکھا تھا ،میرے خیال میں آج یہ حقیقت ـ’’شاید بعض افراد کے لئے بہت تلخ و ناگوار اور بعض کے لئے تعجب خیز بھی‘‘ مان لینی چاہیئے کہ مارکس ازم جس کا نتیجہ کمیونزم ہے، اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہے، بہت جلد اس کا خاتمہ ہونے والا ہے ۔
واضح لفظوں میں کہوں کہ ایک آزاد فکرمحقق کی نظر میں مارکس ازم گزرے ہوئے زمانے سے متعلق نظریہ ہے جو دھیرے دھیرے تاریخ کی فائلوں میں بند ہوکر رہ جائے گا۔
مارکس ازم اپنے تمام تجربات کو بروئے کار لانے کے بعد انسانی معاشروں میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا ،آج یہ مارکس ازم منطقی اور فلسفی دونوں اعتبار سے ایک زندہ نظریہ نہیں رہا اور جو خواب مارکس اور انگلس نیز لینن نے دنیا کو دکھائے تھے وہ اکثر شرمندۂ تعبیر بھی نہ ہو سکے یا غلط ثابت ہوئے۔
بہ الفاظ دیگر مارکس ازم ایک ایسا نظریہ ہے جوناکارہ اوربوسیدہ ہو گیا ہے اوراس کا آئیڈیل پہلو لوگوں پر نمایاں ہوچکا ہے ۔
مارکس ازم اپنی عزلت گزینی کی جانب گامزن ہے اور کئی گروہوں میں دنیا کے مختلف ملکوں میں دسیوں ٹکڑوں میں بٹ گیا ہے ۔ رفیق ’’ماؤ‘‘کا مارکس ازم ،بر ژنف‘‘ کے مارکس ازم کے ساتھ اور ’’رفیق ٹیٹو‘‘کا ’’انور خوجہ‘‘کے کمیونزم سے کوئی شباہت نہیں رکھتااور یہ دونوں ’’فیڈرل کاسٹرو‘‘ سے اوریہ سب کے سب ایک دوسرے سے مماثلت و مشابہت نہیں رکھتے اور ایک دوسرے سے متفاوت و مختلف ہیں۔
یہ زوال وقوع پذیر ہوگیا اورسوویت یونین کا شیرازہ جس نے بڑے بڑے دعوے کئے تھے اور نعرے دئیے تھے کہ عنقریب سرمایہ دارانہ نظام ختم ہو جائے گا اور مارکس ازم پوری دنیا پر چھا جائے گا ،بکھر گیا اورتاریخ کے کوڑے دان میں چلا گیا ۔
یہ پیشین گوئی نہ کوئی علم غیب تھی اور نہ ہی جادوگری بلکہ مارکس ازم کی اصل فطرت کا نتیجہ تھی۔
اسی طرح آج تمام تر مشاہدات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ شدت پسند وہابیت کی عمر اختتام کے قریب ہے اور وہ اپنے حامیوں اور طرفداروں کوبڑی تیزی کے ساتھ کھوتی جارہی ہے اور خود کو تاریخ کے قبرستان میں دفن کرتی جارہی ہے اور اب اس کے زوال کے آثار نمایاں ہو نے لگے ہیں کیونکہ شدت پسند وہابیت کے اصولوں میں ایسی باتیں پوشیدہ ہیں جو آج کی دنیا میں باقی و ثابت نہیں رہ سکتی ہیں ۔
وہ اصول یہ ہیں:
(۱)حد سے زیادہ سختی اورتشدّد
(۲)اپنے عقیدہ کو دوسروں پر مسلط کرنا
(۳)سخت اور انتہاپسندانہ تعصّب
(۴)تہذیب و تمدن کی اقدار سے عدم واقفیت
(۵)تعطّل وجمود اورہر نئی بات کی مخالفت ۔
(۶)منطقی کمزوری اور چھ قرآنی اصطلاحات سے غلط نتیجہ نکالنا ۔
ان تمام باتوں کی شرح آنے والی بحثوں میں آپ ملاحظہ فرمائیں گے ۔
حد سے زیادہ سختی اورتشدد
شدت پسند وہابیوں کا حد سے زیادہ تشدّد آج کسی بھی انسان پر پوشیدہ نہیں ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں انتہا پسند وہابیت کے ہاتھوں کافر حربی نہیں بلکہ مسلمانوں کا قتل عام بہت ہی بھیانک اور ڈراؤنا رہا ہے، کربلا شہر میں شیعوں کے خون کا سیلاب جاری کرنا اوران کے مال و متاع کی لوٹ پاٹ اور کربلا شہر کی تاراجی سبھی کے دلوں میں آج بھی زندہ ہے ۔اس سے بھی زیادہ تعجب خیز یہ کہ شہر طائف میں اہل سنت حضرات کا زبردست قتل عام کیا گیا اوران کا خون بہایاگیا یہ ساری باتیں اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ وہابیت کی تعلیمات میں تشدد اور عداوت اصل موضوع کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس کی دلیل بھی وہ تمام غلط نتائج ہیں جنہیں کفر و ایمان اور توحید و شرک سے نکالتے ہوئے بہ آسانی ہر ایک کو مشرک قرار دے کر ان کی جان و مال کو مباح قرار دیتے ہیں۔
وہابیوں کے پیشوا ان حتمی ثبوتوں کی بنیاد پرجن کی جانب اشارہ کیا جائے گا،ہمارے زمانے کے مسلمانوں کو متعدد دلیلوں سے دور جاہلیت کے مشرکوں سے بھی بد تر سمجھتے ہیں، اس طرح کی سوچ کے ساتھ واضح ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں پر کیا آفتیں لاسکتے ہیں، اس سلسلے میں تاریخ دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ خود اپنے زمانے پر ایک نگاہ ڈال لیں، وہی کافی ہوگا۔
ہمارے دور میں عداوت وتشدد کے اس درخت کے جملہ تلخ میوے اورثمرات میں سے طالبان ، سپاہ صحابہ اور القاعدہ جیسے دوسرے گروہوں کی موجودگی ہے اور ہم نے دیکھ لیا کہ انہوں نے آج دنیا کے ذہنوں میں اسلام کی کتنی غلط تصویر پیش کی ہے اور اس ترقی یافتہ دنیا میں اسلام کوجو نقصان پہنچایا ہے وہ کس قدر نا قابل تلافی ہے۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 19