Monday - 2018 April 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186739
Published : 18/4/2017 13:15

داعش کی تربیت یافتہ نورین لغاری لاہور سے گرفتار

سندھ پولیس نے پنجاب پولیس سے رابطہ کرتے ہوئے زیر حراست خاتون کی شناخت کی تصدیق کی،ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ خاتون سے دہشت گرد نیٹ ورک سے طریقہ کار اور اس سے منسلک دیگر لوگوں کی معلومات حاصل کرنے کے لیے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے۔

ولایت پورٹل:صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ایک کارروائی کے دوران حراست میں لی جانے والی میڈیکل کی طالبہ نورین لغاری نے فروری میں اپنا گھر چھوڑنے کے بعد شدت پسند تنظیم داعش کا حصہ بننے کے لیے شام کا رخ کیا،ذرائع کے مطابق، لیاقت میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کی طالبہ نورین لغاری تین ہفتے قبل لاہور واپس آئی تھی، جس کے بعد سے سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے انہیں ٹریک کیا جارہا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ طالبہ ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت حاصل کرنے کے لیے شام بھی گئی،خیال رہے کہ محکمہ قانون نے جمعہ (14 اپریل) کی شب لاہور کے فیکٹری ایریا میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران ایک مشتبہ دہشت گرد کو ہلاک اور اس کی اہلیہ اور ایک ساتھی کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
پاک فوج کے شبعہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ہلاک ہونے والادہشت گرد اور اس کے ساتھی شہر میں مسیحیوں کے مذہبی تہوار «ایسٹر» کے دوران حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔
اطلاعات کے مطابق، نورین لغاری سوشل میڈیا کے ذریعے عسکریت پسندوں سے رابطے میں تھی،فروری میں اپنا گھر چھوڑنے کے بعد لاہور کے بیدیاں روڈ کے رہائشی علی طارق سے شادی کرنے والی نورین کا کالج کارڈ اور اس کے والد کا شناختی کارڈ سیکیورٹی اہلکاروں کو ان افراد کے ٹھکانے سے ملا جس کے بعد انہوں نے حیدرآباد میں نورین لغاری کے اہل خانہ سے رابطہ کیا۔
واضح رہے کہ پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ سی ٹی ڈی اور خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے جمعے کی شب تقریباً 10 بجے کے قریب پنجاب ہاؤسنگ سوسائٹی میں سرچ آپریشن شروع کیا،اسی دوران علاقے کے ایک گھر سے چھاپہ مار ٹیم پر فائرنگ کی گئی جس کے بعد جوابی فائرنگ کی گئی اور مقابلہ شروع ہوگیا،جب فائرنگ کا سلسلہ رکا تو چھاپہ مار ٹیم گھر کے اندر داخل ہوئی اور 32 سالہ علی طارق کو مردہ پایا۔
دوسری جانب سندھ پولیس نے پنجاب پولیس سے رابطہ کرتے ہوئے زیر حراست خاتون کی شناخت کی تصدیق کی،ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ خاتون سے دہشت گرد نیٹ ورک سے طریقہ کار اور اس سے منسلک دیگر لوگوں کی معلومات حاصل کرنے کے لیے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز نورین لغاری کے بھائی محمد افضل لغاری نے میڈیا سے گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ لاہور سے حراست میں لی جانے والی لڑکی اس کی بہن نورین ہی ہے۔
ابلاغ





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 April 23