Thursday - 2018 April 26
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186751
Published : 18/4/2017 16:40

بچوں کے لئے کھلونوں کا انتخاب(5)

اجتماعى كھیلوں كى ایک مشكل یہ ہے كہ ان سے بچوں میں كدورت اور لڑائی جھگڑا پیدا ہوتا ہے،چونکہ آپس میں كھیلنے والے بچے كبھى ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے بھى ہیں۔


ولایت پورٹل:ہم نے کھیل کود میں تربیت کے کردار پر خاطر خواہ رشنی ڈالی اور آج اس سیریز کی آخری کڑی پیش قارئین ہے،لہذا ہماری اس بحث سے مرتبط ہونے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
بچوں کے لئے کھلونوں کا انتخاب(3)
بچوں کے لئے کھلونوں کا انتخاب(4)
گذشتہ سے پیوستہ:اس سلسلہ بحث كے آخر پر اس نكتے كا ذكر بھى ضرورى ہے كہ بچے كو اگر چہ كھیل كى ضرورت ہے اور یہ اس كے لیے ضرورى ہے لیكن كھیل كے اوقات محدود ہونے چاہیئے، ایک سمجھدار اور با شعور مرّبى بچے كے كھیل كے اوقات اس طرح سے مرتب كرتا ہے كہ بچہ خود بخود اجتماعى اور فائدہ مند سرگرمیوں كى طرف مائل ہو جاتا ہے،یوں زندگى كے دوسرے مرحلے میں كھیل كو چھوڑ كرحقیقى اور سودمند كام انجام دینے لگتا ہے،ایسا مربى اس امر كى اجازت نہیں دیتا كہ بچے كا مزاج ہى كھیل كودكا بن جائے اور اس كا كمال یہى كھیل كود بن جائے اور وہ اس بات پر فخر كرنے لگے كہ میں بہترین كھلاڑى ہوں۔
حضرت على علیہ السلام نے کا ارشاد گرامی ہے:جو كھیل كا ہو کر رہ جائے،وہ کبھی كامیاب نہ ہو سكے گا۔(غرر الحكم، ص 854)
رسل اس كے متعلق لكھتا ہے:
یہ نظریہ كہ كسى انسان كى شخصیت كا معیار كھیل میں اس كا سابقہ ہے ، ہمارے سماجى عجز و تنزل كى علامت ہے كہ ہم یہ بات نہیں سمجھ سكے كہ ایک جدید اور پیچیدہ دنیا میں رہنے كے لیے معرفت اور تفكر كى ضرورت ہے۔(در تربیت،ص 122)
اجتماعى كھیلوں كى ایک مشكل یہ ہے كہ ان سے بچوں میں كدورت اور لڑائی جھگڑا پیدا ہوتا ہے،چونکہ آپس میں كھیلنے والے بچے كبھى ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے بھى ہیں۔
ایسے موقع پر سرپرست حضرات كى ذمہ دارى ہے كہ فوراً مداخلت كریں اور ان میں صلح و محبت پیدا كركے انہیں كھیل میں مشغول كردیں یہ كام اتنا مشكل بھى نہیں ہے كیونكہ ابھى تک عناد اور دشمنى بچوں كے دل میں جڑ پیدا نہیں کرتی، اس لیے وہ بہت جلد ایک دوسرے سے پھر گھل مل جاتے ہیں۔
بد قسمتى سے بعض اوقات بچوں كا جھگڑا بڑوں میں سرایت كرجاتا ہے اور وہ كہ جو عقل مند ہیں ایک دوسرے كے مقابل كھڑ ے ہو جاتے ہیں، پھرماں باپ بغیر تحقیق كے اور  بات سمجھے بغیر اپنے بچے كا دفاع شروع كردیتے ہیں اور یہ امر كبھى لڑائی جھگڑا مار پیٹ یہاں تک كہ كبھى تھانے پولس تک جا پہونچتا ہے،جب كہ ایسا كرنے سے بچوں كى غلط تربیت ہوتى ہے اور یہ بچے پر بہت بڑا ظلم ہے جو بچے ایسے واقعات كو دیكھتا ہے سو چتا ہے كہ جق و حقیقت كى كوئی اہمیت نہیں اور كسى كو حق سے سرو كاو نہیں اور ہر ماں باپ تعصب كى بنا پر اپنے بچے كا دفاع كررہے ہیں، اس طرح كا بچہ بے جا تعصب اور حق كشى كا عملى سبق اپنے ماں باپ سے لیتا ہے اور كل كے معاشر ے میں اس سے كام لیتا ہے۔

 
 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 April 26