Saturday - 2018 April 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186755
Published : 18/4/2017 17:28

دینی اور ثقافتی وراثت

دینی میراث اور اس کے مقدسات کا بعد والی نسلوں میں منتقل کرنا،افکار و عقائد رسم و رواج اور عمل کا ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کرنے کا نام دینی ثقافت ہے،اس میراث کو منتقل کرنے کے کچھ قواعد و ضوابط ہیں،ان قوانین پر عمل کرنے کے سبب، مذہب کو اس کی تمام ذاتی وراثتوں کے ساتھ بخوبی ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کیاجاسکتاہے۔

ولایت پورٹل:دینی میراث اور اس کے مقدسات کا بعد والی نسلوں میں منتقل کرنا،افکار و عقائد رسم و رواج اور عمل کا ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کرنے کا نام دینی ثقافت ہے،اس میراث کو منتقل کرنے کے کچھ قواعد و ضوابط ہیں،جیساکہ نباتات ،اور انسانوں کی زندگی کے لئے بھی کچھ قواعد و ضوابط مقرر کئے گئے ہیں۔
ان قوانین پر عمل کرنے کے سبب، مذہب کو اس کی تمام ذاتی وراثتوں کے ساتھ بخوبی ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کیاجاسکتاہے،چنانچہ جس مقام پر گذشتہ نسل کا خاتمہ ہوتا ہے وہیں سے آنے والی دوسری نسل کا آغاز ہوتا ہے،انھیں اسباب کے ذریعہ اس عظیم دینی اور فکری تحریک کاآغازجو حضرت آدم(ع) سے لے کر حضرت ابراہیم(ع)،نوح(ع)،موسیٰ(ع)،عیسیٰ(ع)  اور حضرت محمد مصطفی(ص) کے ذریعہ ہم تک پہنچاہے،ہم بھی اسی مستحکم اور استوار ماضی کاایک حصہ اور تاریخ کی گہرائیوں میں انہیں عمیق اور طولانی جڑوں کی شاخوں میں ہمارا شمار ہوتاہے،ان اسلامی معارف اور عقائد کے خزانوں کو دینی میراث کے ذریعہ اس کے مقدسات کو سینہ بہ سینہ اور نسل در نسل منتقل کرنے میں مشغول ہیں۔
بیشک،یکے بعد دیگرے، ان ارتباطی پُلوں کی حفاظت نے، مذہبی وراثت کے انتقال کے کام میں سرعت بخشی ہے، جیساکہ ان ارتباطی پُلوں میں رکاوٹ ایجاد کرنا اور ان کو ڈھا دینا، ایک نسل سے دوسری نسلوں کے درمیان بہت بڑی رکاوٹ اور سدّ راہ محسوب ہوگی۔
نتیجتاً اگر ان ارتباطی پُلوںکی سرگرمی کو سماج میں مذہبی فرائض کی انجام دہی سے روک دیا جائے تو بیشک نسل حاضر کا گذشتہ نسلوں اور آنے والی تمام نسلوں کے درمیان رابطہ یکسر ختم ہو جائے گا۔
اور وہ اہمیت کے حامل خاص ارتباطی پُل مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔گھر
۲۔مدرسہ
۳۔مسجد
ان تینوں ارتباطی پُلوں کے ذریعہ ہمیشہ سیاست اور دین کی جدائی کے مسئلہ میں دینی تحریک( یعنی دین اور سیاست میں جدائی ممکن نہیں ہے)ہمیشہ آگے آگے اور پیش قدم رہی ہے، زمانۂ حاضر کو گذشتہ زمانہ سے اور اولاد کو ان کے باپ دادا(آباء اجداد)سے اس طرح منسلک کر دیاہے جس طرح تسبیح کے دانوں کوایک دوسرے پرو دیا جاتا ہے،گھر، مدرسہ (School) اور مسجد کے اس اہم اور کلیدی کردارکے ذریعہ جو مذہب کی تبلیغ و ترویج اور نسلوں کو آپس میں ایک دوسرے سے جوڑنے کا وسیلہ ہیں،دین اسلام نے ان تینوں مراکز پر خصوصی توجہ مبذول کرائی ہے اوران کے پروگراموں پر خاص توجہ رکھنے کی سفارش اور نصیحت کی ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 April 21