Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186759
Published : 18/4/2017 18:12

طالبان اور دنیائے اسلام کی مشکلات:

طالبان کے اقتدار کا عروج و زوال (1)

طالبان نے ۱۹۹۴ء۔ سے۱۹۹۵ ء۔ میں اپنی جنگ افغانستان کے جنوب اور مغرب میں شروع کی اورقندھار،ھرات نیز آس پاس کے دوسرے شہروں پر قبضہ کر لیا،سن ۱۹۹۵ء۔ میں وہ کابل کے اطراف میں پہنچ گئے لیکن اسی سال حکومتی دستوں کے توسط سے انہیں پیچھے کھدیڑ دیا گیا ،لیکن یہ بار بار کابل پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے رہے یہاں تک کہ سن ۱۹۹۶ء۔ میں کابل پر پورا کنٹرول کر لیا جس کے نتیجہ میں پچاس ہزار انسان مارے گئے۔«برہان الدین ربانی»اور «گلبد الدین حکمت یار»ملک کے شمال میں بھاگ گئے اور طالبانیوں نے کابل پر قبضہ کرنے کے بعد «محمد نجیب اللہ»کو جو کہ سوویت یونین کی جانب سے وہاں کام کر رہے تھے پھانسی پر چڑھا دیا۔

ولایت پورٹل:
طالبانی گروہ   ۱۹۹۴ء ۔ میں ملا محمد عمر کے توسط سے «جنوبی افغانستان» کے قندھار شہر میں معرض وجود میں آیا اور سن ۱۹۹۶ء۔ سے ۲۰۰۱ء  ء۔تک افغانستان کے بیشتر علاقوں پر ان کا کنٹرول رہا۔
طالبان کی ابتدائی تحریک۱۹۷۹ء۔ سے ۱۹۸۵ء۔ تک کمزور صورت میں رہی جبکہ ان دنوں افغانستان اور سوویت یونین کے درمیان جنگ ہو رہی تھی اور افغانستان کے اندر بد انتظامی کی صورتحال تھی جسے غنیمت سمجھ کر اس تحریک نے فائدہ اٹھایا۔
سن ۱۹۸۰ء۔کی دہائی میں افغانستان پر سوویت یونین کا قبضہ ہو گیا،اس لڑائی میں افغانی مجاہدین کی طاقت کو امریکہ کی حمایت حاصل تھی تاہم سوویت یونین کا قبضہ زیادہ دنوں تک افغانستان پر باقی نہ رہا۔
۱۹۸۹ء۔میں سوویت فوجوں کی شکست اور ان کی واپسی کے بعد «ازبک»اور «تاجیک» جیسے شہروں میں چھوٹے چھوٹے دوسرے گروہ بھی طاقتور ہوگئے ،ان ہی دنوں میں طالبان نے اپنے آپ کو «اسلام پسندوں» کے نام سے پہچنوانا شروع کر دیا ۔یہ لوگ جو اکثر «پشتو» قبیلے سے تعلق رکھتے تھے دوبارہ کابل پر قبضہ کرنے کا ارادہ کرکے آگے بڑھے درایں اثناء ان لوگوں کو امریکہ سے اسلحہ جاتی مددبھی ملتی رہی۔
ابتدائی دور میں ہزاروں جوان جو کہ اکثر پناہگاہوں اور کیمپوں میں رہ رہے تھے اور یتیم و بے سر پرست تھے وہ اس گروہ میں شامل ہو گئے۔
طالبان نے ابتدا میں خود کو لشکر صلح کے عنوان سے متعارف کرایا اور بہت سے لوگ جو بیشتر پشتو نسل سے تھے اور پہلی جنگوں اور موجودہ بد انتظامی سے جو ملک پر حاکم تھی، تھک چکے تھے اس گروہ کی حمایت پر آمادہ ہو گئے حالانکہ طالبان کے اکثر افراد پاکستان میں شدت پسند وہابیوں کے مدرسوں کے تربیت یافتہ تھے۔
طالبان نے ۱۹۹۴ء۔ سے۱۹۹۵ ء۔ میں اپنی جنگ افغانستان کے جنوب اور مغرب میں شروع کی اورقندھار،ھرات نیز آس پاس کے دوسرے شہروں پر قبضہ کر لیا،سن  ۱۹۹۵ء۔ میں وہ کابل کے اطراف میں پہنچ گئے لیکن اسی سال حکومتی دستوں کے توسط سے انہیں پیچھے کھدیڑ دیا گیا ،لیکن یہ بار بار کابل پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے رہے یہاں تک کہ سن ۱۹۹۶ء۔ میں کابل پر پورا کنٹرول کر لیا جس کے نتیجہ میں پچاس ہزار انسان مارے گئے۔«برہان الدین ربانی»اور «گلبد الدین حکمت یار»ملک کے شمال میں بھاگ گئے اور طالبانیوں نے کابل پر قبضہ کرنے کے بعد «محمد نجیب اللہ»کو جو کہ سوویت یونین کی جانب سے وہاں کام کر رہے تھے پھانسی پر چڑھا دیا۔
یہ وہ دن تھے کہ جب طالبان اپنے شدت پسندانہ خشک قوانین کو عملی جامہ پہنانے میں لگے ہوئے تھے۔
ملا محمد عمر نے جو طالبان فوجیوں میں ایک اہم حیثیت کا مالک تھا ایک شوریٰ تشکیل دی جو بڑے طالبانیوں پر مشتمل تھی،البتہ قانون پر آخری مہر ملا محمد عمر ہی کی لگتی تھی۔
طالبان،کابل ریڈیو اور گاڑیوں پر لاؤڈسپیکر لگا کر اپنے قوانین سے لوگوں کو باخبر کرتے تھے انہوں نے سنیما گھروں اور تھیٹروں کو بند کرا دیا ،مردوں کو کوڑے لگا کر مسجدوں میں نماز پڑھنے پر مجبور کرنے لگے ،لڑکیوں کے اسکولوں کو بند کر دیا ،عورتوں کے گھر سے باہر کام کرنے کو حرام قرار دیاجس کے نتیجہ میں زیادہ تر اسپتال بند ہو گئے،یہ اس حالت میں ہو رہا تھا کہ اکثر عورتوں نے اپنے مردوں کو جنگ میں کھو دیا تھا اور انہیں حصول معاش و روزگار میں پریشانیوں کا سامنا تھا۔
طالبان عدالت اور کورٹ قائم کئے بغیر مجرم کو سزا دیتے اور بھیڑبکریوں کے مثل ان کے سر قلم کرتے تھے، ان کے لئے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں تھی کہ وہ کسے قتل کر رہے ہیں،شیعہ یا سنی جو بھی ان کا مخالف ہوتا ان کی تلوارکے ذریعے قتل کردیا جاتا۔
 جاری ہے ۔۔۔۔۔۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21