Wed - 2018 Dec 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186779
Published : 19/4/2017 17:27

آغوش نبی(ص)میں علی(ع) کی پرورش

مولائے کائنات نے پیغمبر اکرم(ص)کی پرورش کے انداز اور آپ سے اپنی مضبوط رشتہ داری گہری قرابت داری کے بارے میں ارشاد فرمایا:تم جانتے ہی ہو کہ رسول اللہ سے قریب کی عزیز داری اور مخصوص قدر و منزلت کی وجہ سے میرا مقام اُن کے نزدیک کیا تھا ؟میں بچہ ہی تھا کہ رسول(ص) نے مجھے گود میں لے لیا تھا،آنحضرت(ص)مجھے اپنے سینہ سے چمٹائے رکھتے تھے، بستر میں اپنے پہلو میں جگہ دیتے تھے، اپنے جسم مبارک کو مجھ سے مس کر تے تھے اور اپنی خوشبو مجھے سونگھاتے تھے۔

ولایت پورٹل:حضرت علی علیہ السلام کے عہد طفولیت میں نبی(ص) نے آپ کی پرورش کرنے کی ذمہ داری اس وقت لے لی تھی جب آپ بالکل بچپن کے دور سے گذر رہے تھے ،جس کا ماجرا یوں بیان کیا جاتا ہے کہ جب آنحضرت(ص) کے چچا حضرت ابوطالب(ع) کے اقتصادی حالات کچھ بہتر نہیں تھے تو نبی اکرم(ص)اپنے چچاعباس اور حمزہ کے پاس گفتگو کرنے کے لئے تشریف لے گئے اور ان سے اپنے چچا ابوطالب(ع) کے اقتصادی حالات کے سلسلہ میں گفتگو کی اور ان کا ہاتھ بٹانے کا مشورہ دیا تو انھوں نے آپ کی اس فرمائش کو قبول کرلیا، چنانچہ جناب عباس نے طالب ، حمزہ نے جعفر اور نبی اکرم(ص) نے حضرت علی(ع) کی پرورش کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لی، لہٰذا اس وقت سے آپ (علی ) رسول اللہ(ص) کی آغوش تربیت میں آگئے اور آنحضرت ہی کے زیر سایہ اورانھیں کے دامن محبت و عطوفت میں پروان چڑھے ،اسی لئے آپ کی رگ و پئے اور آپ کی روح کی گہرائی میں پیغمبر اکرم(ص)کے پاکیزہ کردار اور اخلاق حسنہ اور تمام صفات کریمہ اسی وقت سے سرایت کر چکے تھے اسی لئے آپ نے زندگی کے آغاز سے ہی ایمان کو سینہ سے لگائے رکھا ،اسلام کو بخوبی سمجھا اور آپ ہی پیغمبر(ص) کے سب سے زیادہ نزدیک تھے  ان کے مزاج و اخلاق نیز آنحضرت(ص) کی رسالت کو سب سے بہتر انداز میں سمجھتے تھے۔
مولائے کائنات نے پیغمبر اکرم(ص)کی پرورش کے انداز اور آپ سے اپنی مضبوط رشتہ داری گہری قرابت داری کے بارے میں ارشاد فرمایا:تم جانتے ہی ہو کہ رسول اللہ سے قریب کی عزیز داری اور مخصوص قدر و منزلت کی وجہ سے میرا مقام اُن کے نزدیک کیا تھا ؟میں بچہ ہی تھا کہ رسول(ص) نے مجھے گود میں لے لیا تھا،آنحضرت(ص)مجھے اپنے سینہ سے چمٹائے رکھتے تھے، بستر میں اپنے پہلو میں جگہ دیتے تھے، اپنے جسم مبارک کو مجھ سے مس کر تے تھے اور اپنی خوشبو مجھے سونگھاتے تھے ،پہلے آپ کسی چیز کو چباتے پھر اس کے لقمے بنا کر میرے منہ میں دیتے تھے ،انھوں نے نہ تو میری کسی بات میں جھوٹ کا شائبہ پایا نہ میرے کسی کام میں لغزش و کمزوری دیکھی ... میں ان کے پیچھے پیچھے یوں لگا رہتا تھا جیسے اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کے پیچھے رہتا ہے، آپ ہر روز میرے لئے اخلاق حسنہ کے پرچم بلند کر تے تھے اور مجھے ان کی پیروی کا حکم دیتے تھے۔
آپ نے نبی اور امام(ص) کے مابین بھروسہ اور قابل اعتماد رابطہ کا مشاہدہ کیااور ملاحظہ کیاکہ کس طرح نبی اکرم حضرت علی(ص) کی مہربانی اور محبت کے ساتھ تربیت فرماتے اور آپ کو بلند اخلاق سے آراستہ کرتے تھے ؟اور پیارے نبی نے کیسے حضرت علی(ص) کی لطف و مہربانی اور بلند اخلاق کے ذریعہ تربیت پائی؟
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 19