Thursday - 2018 Sep 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186783
Published : 19/4/2017 18:5

طالبان اور دنیائے اسلام کی مشکلات:

طالبان کے اقتدار کا عروج و زوال (2)

طالبان گروہ کے لیڈرملا محمد عمر نے اپنے سعودی سفر میں وہاں کے اعلیٰ رتبہ افسران سے ملاقات اور بات چیت کی اور ریاض کی مملکت نے بھی۱۰ ملین ڈالر کی مدد اس گروہ کے حوالے کی تھی تاکہ وہ اپنی بے جا اور نا مناسب سختیوں اور شدت پسندی کے عمل کو جاری رکھیں لیکن جیسا کہ اشارہ کیا گیا کہ آخر میں سب نے منہ پھیر لیا اور طالبان تاریخ کا ایک ادھورا ورق بن کر رہ گیا۔


ولایت پورٹل:
ہم نے گذشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ طالبان نے ۱۹۹۴ء۔ سے۱۹۹۵ ء۔ میں اپنی جنگ افغانستان کے جنوب اور مغرب میں شروع کی اورقندھار،ھرات نیز آس پاس کے دوسرے شہروں پر قبضہ کر لیا،سن ۱۹۹۵ء۔ میں وہ کابل کے اطراف میں پہنچ گئے لیکن اسی سال حکومتی دستوں کے توسط سے انہیں پیچھے کھدیڑ دیا گیا ،لیکن یہ بار بار کابل پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے رہے یہاں تک کہ سن ۱۹۹۶ء۔ میں کابل پر پورا کنٹرول کر لیا جس کے نتیجہ میں پچاس ہزار انسان مارے گئے،چنانچہ اس کالم کو مکمل پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
طالبان کے اقتدار کا عروج و زوال (1)
گذشتہ سے پیوستہ:طالبان حکومت نے اسامہ بن لادن کو پناہ دے رکھی تھی،کیونکہ ۱۹۸۰ء۔ کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف اس نے افغانستان کے فائدہ میں بہت زیادہ کاروائیاں انجام دی تھیں،اسی جنگ کے خاتمہ پر اس نے «القاعدہ» نامی ایک گروہ کی بنیاد ڈالی تھی اور القاعدہ گروہ طالبان کی حفاظت میں بہت زیادہ سر گرم عمل بھی تھا اورطالبان سے ملحق ہوکر شمال میں اتحادی فوجوں سے لڑ رہا تھا۔
«بن لادن»وہ شخص تھا جس کو امریکیوں نے ایک چالاک اور با صلاحیت دہشت گرد سے تعبیر کیا تھا کیونکہ اس نے ۱۹۹۸ ء ۔مین تنزانیہ اور کینیا میں امریکی سفارت خانوں پر حملہ کروا کر تقریبا ً ۲۵۰ یا ۱۹۰ افرادکو ہلاک اور ۱۴۰۰ سے زیادہ کو زخمی کردیا تھا۔
امریکیوں کے مطابق ۱۱ ستمبر کا حملہ بن لادن کے ذریعہ ہی انجام دیا گیا تھا اور واضح تھا کہ امریکی «اسامہ» کو طالبان سے طلب کرتے لیکن طالبان کے لیڈر نے امریکہ کی درخواست قبول نہیں کی کیونکہ وہ «بن لادن» کا قرضدار تھا اور اسے اپنے مفاد کا محافظ جانتا تھا۔
اکتوبر کے مہینے میں امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف اپنی لڑائی کا آغاز کر دیا چنانچہ اپنے حملوں کا شکار اس نے طالبان اور القاعدہ کو بنایا ،برطانیہ نے بھی اس جنگ میں اس کا ساتھ دیا اور ساتھ ہی شمال میں اتحادی فوجیں بھی طالبان کے خلاف حرکت میں آگئیں جن کی امریکہ کی طرف سے مدد کی جارہی تھی جس کے نتیجے میں کابل اور تمام دوسرے اہم شہروں پر اتحادی فوجوں کا قبضہ ہو گیا اور طالبان اپنی طاقت کھوتے گئے بالآخراسی سال وہ «هرات»شہر کو بھی چھوڑ کر بھاگ گئے۔
طالبان کو ان کے اقتدار کے وقت پاکستان ،سعودی عرب اور امریکہ سے حمایت حاصل تھی لیکن یہ حمایت زیادہ دنوں تک جاری نہیں رہی۔
اندازہ کے مطابق طالبان تحریک کو  ۱۹۹۵ء ۔و ۱۹۹۶ء۔ میں اپنی فوجی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لئے سالانہ ۷۰ ملین ڈالر کی ضرورت ہوتی تھی اور ایک ہندوستانی جریدے «سوق الجیشی تجزیہ نگار»کے مطابق اس بجٹ کا زیادہ تر حصہ سعودی عرب کے ذریعہ پورا کیا جاتا تھا ۔
(News Week)ہفتہ نامہ اس موضوع سے متعلق اپنی ایک رپورٹ میں لکھتا ہے کہ:طالبان تحریک کے مالی ذرائع کی فراہمی کا اہم ترین مرکز ریاض (سعودی کی راجدھانی)ہے۔
طالبان گروہ کے لیڈرملا محمد عمر نے اپنے سعودی سفر میں وہاں کے اعلیٰ رتبہ افسران سے ملاقات اور بات چیت کی اور ریاض کی مملکت نے بھی۱۰ ملین ڈالر کی مدد اس گروہ کے حوالے کی تھی تاکہ وہ اپنی بے جا اور نا مناسب سختیوں اور شدت پسندی کے عمل کو جاری رکھیں لیکن جیسا کہ اشارہ کیا گیا کہ آخر میں سب نے منہ پھیر لیا اور طالبان تاریخ کا ایک ادھورا ورق بن کر رہ گیا۔(ماخوذاز عالمی ذرائع ابلاغ)۔
بہر حال جب طالبان کی شدت پسندی کے نتیجہ میں امریکہ نے جو خود دنیا میں دہشت گردوں کا سر غنہ ہے ان پر حملہ کیا تو نہ صرف یہ کہ کسی نے طالبان کا بچاؤ نہیں کیا بلکہ ان کا تختہ پلٹنے میں ان کی مدد بھی کی اور تمام تر مشکلات کے با وجود امریکیوں کے ذریعہ جو افغانستان کے لوگوں پر لادی گئیں ،افغانی لوگوں نے طالبان پر ان کو ترجیح دی کیونکہ ان کی نظر میں طالبان کی سختی اور ظلم امریکی ظلم سے کہیں زیادہ تھا،جیسا کہ ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ طالبانیوں نے اس ملک کی عورتوں اور لڑکیوں کو حصول علم سے محروم کرنے کے ساتھ ہی زندگی کے سبھی نئے ذرائع اور جدید وسائل کے خلاف جو کہ مفید و مثبت تھے، مورچہ کھول دیا اور سب کو بدعت شمار کرنے لگے،ان لوگوں نے لوگوں کو لمبی ڈاڑھی نہ رکھنے کے جرم میں سزا ئیںدیں اور قید میں ڈال دیا کرتے تھے،بلکہ افغانستان میں منشیات کی کھیتی کو بڑھاوا دیا اور اسمگلنگ کے فروغ میں مدد فراہم کی جبکہ سگریٹ پینے کو حرام قرار دیتے تھے،یہ اس لئے تھا کہ انہیں منشیات کی کھیتی اور اس کی اسمگلنگ سے اچھی خاصی آمدنی ہوتی تھی جس سے وہ اسلحہ خریدتے اور اپنے دینی بھائیوں کا خون بہاتے تھے،کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ اس عملی تضاد اور ٹکراؤ کا جواز کیسے پیش کرتے تھے ،ایک طرف توسگریٹ حرام تھی،لمبی لمبی داڑھی رکھنا واجب تھا اور دوسری طرف منشیات کی کھیتی اور اس کی اسمگلنگ وسیع پیمانہ پر جائز تھی؟!

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Sep 20