Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186796
Published : 20/4/2017 15:26

امام کو معین کرنے کا طریقہ

ابن ہشام نقل کرتے ہیں کہ بنی عامر جب حج کے لئے آئے تو پیغمبر اکرم (ص) نے انہیں اسلام کی دعوت دی ان کے سردار نے کہا:اگر ہم آپ کی بیعت کر لیں اور خدا آپ کو مخالفین کے مقابلہ میں کامیاب کردے تو کیا آپ کے بعد قیادت ورہبری میں ہمارا حصہ ہوگا؟آنحضرت(ص) نے فرمایا:«الامر الیٰ اللہ یضعه حیث یشاء»۔ قیادت ورہبری کا مسئلہ خدا کے اختیار میں ہے وہ چاہے جس کے حوالہ کرے۔


ولایت پورٹل:گذشتہ مطالب سے واضح ہو جاتا ہے کہ « نص » کے علاوہ کسی اور طریقہ سے امام کی تعیین ممکن نہیں ہے اس لئے کہ مذکورہ صفات خصوصاً «صفت عصمت» کا علم خدا کے علاوہ کسی کو نہیں ہوتا لہٰذا جیسے خدا نبوت کے بارے میں فرماتا ہے:«ﷲُ أَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَه»یہی اصول اور قاعدہ امامت کے سلسلہ میں بھی اپنی جگہ بر قرار ہے جیسے کہ نبوت خدا کی رحمت خاص ہے اور اس کی تقسیم وتعیین خدا کے ہاتھ میں ہے۔
کسی دوسرے کو رحمت الٰہی تقسیم کرنے کا حق نہیں ہے:«أَهُمْ یَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّک»۔(زخرف/۳۲)
امامت بھی خد ا کی خصوصی رحمت ہے اور اس کی تقسیم وتعیین بھی صرف پروردگار کے ہاتھوں میں ہے۔
ابن ہشام نقل کرتے ہیں کہ بنی عامر جب حج کے لئے آئے تو پیغمبر اکرم (ص) نے انہیں اسلام کی دعوت دی ان کے سردار نے کہا:اگر ہم آپ کی بیعت کر لیں اور خدا آپ کو مخالفین کے مقابلہ میں کامیاب کردے تو کیا آپ کے بعد قیادت ورہبری میں ہمارا حصہ ہوگا؟
آنحضرت(ص) نے فرمایا:«الامر الیٰ اللہ یضعه حیث یشاء»۔
قیادت ورہبری کا مسئلہ خدا کے اختیار میں ہے وہ چاہے جس کے حوالہ کرے۔
امامت کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کا یہ جواب نبوت کے بارے میں خدا کے کلام:«ﷲُ أَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهُ»سے مکمل ہماھنگ ہے۔

 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23