Sunday - 2018 Dec 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186800
Published : 20/4/2017 15:55

عرب معاشرہ میں عورت

واقعات گواہ ہیں کہ شوہر کے مرنے کے بعد اس کا بڑا لڑکا اگر اس عورت کو رکھنے کا خواہش مند ہوتا تھا (یعنی اپنی بیوی بنانا چاہتا تھا) تو اس کے اوپر ایک کپڑا ڈال دیتا تھا اور اس طریقہ سے میراث کے طور پر عورت اسے مل جایا کرتی تھی اس کے بعد اگر وہ چاہتا تھا تو اسے بغیر کسی مہر کے ،صرف میراث ملنے کی بنا پر اس سے شادی کرلیتا تھا اور اگر اس سے شادی کا خواہش مند نہ ہوتا تو دوسروں سے اس کی شادی کردیتا تھا اور اس عورت کا مہر خود لے لیتا تھا اور اس کے لئے یہ بھی ممکن تھا کہ اسے ہمیشہ کے لئے دوسرے مردوں سے شادی کرنے سے منع کردے،یہاں تک وہ مرجائے اور اس کے مال کا مالک بن جائے۔


ولایت پورٹل:جاہل عربوں میں جہالت اور خرافات کا ایک واضح نمونہ،عورت کے بارے میں ان کے مخصوص نظریات تھے،اس دور کے معاشرے میں عورت انسانیت کے معیار، سماجی حقوق اور آزادی سے بالکل محروم تھی اور اس سماج میں گمراہی اور سماج کے وحشی پن کی بنا پر لڑکی اور عورت کا وجود باعث ذلت ورسوائی سمجھا جاتا تھا۔(۱)
وہ لڑکیوں کو میراث کے قابل نہیں سمجھتے تھے،ان کا کہنا تھا کہ ارث کے حقدار صرف وہ لوگ ہیں جو تلوار چلاتے ہیں اور اپنے قبیلہ کا دفاع کرتے ہیں۔(۲) ایک روایت کی بناپر عرب میں عورت کی مثال اس مال جیسی تھی جو شوہر کے مرنے کے بعد(لڑکا نہ ہونے کی صورت میں)شوہر کے دوسرے اموال اور ثروت کی طرح سوتیلی اولاد کے پاس منتقل ہوجاتی تھی۔(۳)
واقعات گواہ ہیں کہ شوہر کے مرنے کے بعد اس کا بڑا لڑکا اگر اس عورت کو رکھنے کا خواہش مند ہوتا تھا (یعنی اپنی بیوی بنانا چاہتا تھا) تو اس کے اوپر ایک کپڑا ڈال دیتا تھا اور اس طریقہ سے میراث کے طور پر عورت اسے مل جایا کرتی تھی اس کے بعد اگر وہ چاہتا تھا تو اسے بغیر کسی مہر کے ،صرف میراث ملنے کی بنا پر اس سے شادی کرلیتا تھا اور اگر اس سے شادی کا خواہش مند نہ ہوتا تو دوسروں سے اس کی شادی کردیتا تھا اور اس عورت کا مہر خود لے لیتا تھا اور اس کے لئے یہ بھی ممکن تھا کہ اسے ہمیشہ کے لئے دوسرے مردوں سے شادی کرنے سے منع کردے،یہاں تک وہ مرجائے اور اس کے مال کا مالک بن جائے۔(۴)
چونکہ باپ کی بیوی سے شادی کرنا اس وقت قانوناً منع نہیں تھا،لہٰذا قرآن کریم نے ان کو اس کام سے منع کیا۔(۵) دور اسلام میں مفسرین کے کہنے کے مطابق ایک شخص جس کا نام «ابو قبس بن اسلت»تھا جب وہ مرگیا تو اس کے لڑکے نے چاہا کہ اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ شادی کرے تو خدا کی جانب سے یہ آیت نازل ہوئی:«لایَحِلُّ لَکُمْ اَن تَرِثُوْا النَّسَاء۔۔۔»۔(۶) تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ تم عورت کو ارث میں لو۔
غرض!اس سماج میں متعدد شادیاں بغیر کسی رکاوٹ کے رائج تھیں۔(۷)
...........................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔سید محمد حسین طباطبائی،تفسیر المیزان(قم:مطبوعاتی اسماعیلیان،ط۳،۱۳۹۳ ھ ۔ ق ) ج: ۲، ص:۲۶۷۔
۲۔ابوالعباس المبرد،الکامل فی اللغۃ والادب ،مع حواشی: نعیم زرزور(اور)تغاریدبیضون(بیروت:دارالکتب العلمیہ،ط۱،۱۴۰۷ ھ۔ق)،ج۱،ص۳۹۳؛محمد بن حبیب ،المحبر(بیروت:دارالافاق الجدیدۃ) ص۳۲۴۔
۳۔کلینی،الفروع من الکافی،(تہران:دارالکتب الاسلامیہ،ط۲،۱۳۶۲)،ج۶ ،ص۴۰۶۔
۴۔طباطبائی،ایضاً ،ج۴،ص۲۵۸،۲۵۴،سیوطی ،الدرالمنثور فی التفسیر بالماثور،(قم:مکتبۃ آیۃ اللہ مرعشی نجفی،۱۴۰۴ ھ،ق)ج۲ تفسیر آیۂ۲۲ سورۂ نساء،ص ۱۳۲،۱۳۱،شہر ستانی،الملل والخل (قم: منشورات الرضی،ط۲) ج۲، ص۲۵۴، حسن،حسن ،حقوق زن دراسلام و یورپ (ط۷، ۱۳۵۷)ص:۳۴۔عرب اس شخص کو «ضیزن»کہتے تھے جو باپ کے مرنے کے بعد اس کی بیوی کو اپنی بیوی بنا لیتا تھا۔(محمد بن حبیب ،المحبر،ص۳۲۵)ابن قتیبہ دینوری نے اس قسم کی عورتوں کی تعداد کو ذکر کیا ہے،جنھوں نے شوہر کے مرنے کے بعد اپنے لڑکوں سے شادی کرلی تھی(المعارف ،تحقیق :ثروۃ عکاشہ،قم: منشورات الرضی ،ص۱۱۲)۔
۵۔«ولا تنکحوا ما نکح آبائکم من النساء»(سورۂ نساء ،۴،آیت ۲۲)
۶۔طباطبائی ،ایضاً،ج:۴،ص:۲۵۸،طبری،جامع البیان فی تفسیر القرآن (بیروت: دارالمعرفہ، ط۲،۱۳۹۲ ھ۔ق) ج۴،ص۲۰۷،سورۂ نساء کی آیت نمبر ۱۹ کی تفسیر کے ذیل میں۔
۷۔طباطبائی ،ایضاً،ج۲،ص۲۶۷۔

 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Dec 16