Thursday - 2018 Sep 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186805
Published : 20/4/2017 16:48

امر بالمعروف و نہی عن المنکر رہبر انقلاب کی نظر میں:

امربالمعروف اور نہی عن المنکر کو لوگوں کے درمیان رواج پانا چاہیئے:رہبر انقلاب

امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا مسئلہ نماز کی طرح ہے،سیکھنے کی چیز ہے،اسے جاکر سیکھنے کی ضرورت ہے، اس میں ایسے مسائل پائے جاتے ہیں کہ جنہیں جاکر سیکھنا ہوگا کہ کہاں اور کیسے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بجالایا جاسکتا ہے۔


ولایت پورٹل:امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اسلامی واجبات میں سے ایک واجب ہے کہ جسے لوگوں کے درمیان رواج پانا چاہیئے۔(۱)
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فروع دین میں سے ایک ہے جو نماز، روزہ، حج اور جہاد کے زمرے میں الٰہی واجبات میں شمار ہوتا ہے اور ایک تعبیر کے لحاظ سے سبھی اسلامی فرائض کی انجام دہی کی ضمانت فراہم کرنے کے عنوان سے جانا جاتا ہے لیکن جس طرح سے اس پر مسلمانوں کی جانب سے توجہ دی جانی چاہیئے اور اہتمام وانصرام ہونا چاہیئے ویسا ہوتا نہیں ہے،حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ خامنہ ای مدظلہ العالی نے اس ضروری شرعی واجب کے سلسلہ میں آیات وروایات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مقام و مرتبہ کو واضح کیا ہے:نماز کی طرح امر بالمعروف بھی واجب ہے۔ نہج البلاغہ میں ارشاد ہوا ہے:«وَمَااَعْمَالُ الْبِرِّ کُلُّھَا وَالْجِهَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ عِنْدَ الْاَمْرِبِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِاِلَّا کَنَفْثَةٍ فِیْ بَحْرٍ لُجِّیٍّ»۔(۲)
ترجمہ:اور یاد رکھو کہ جملہ اعمال خیر مع جہاد راہ خدا،امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے مقابلے میں وہی حیثیت رکھتے ہیں جو گہرے سمندر میں لعاب دہن کے ذرات کی حیثیت ہوتی ہے۔
یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی وسعت و میزان اس قدر زیادہ ہے کہ اسے عمومی لحاظ سے جہاد سے بھی بڑھ کر قرار دیا گیا ہے۔ کیوں کہ یہ دین کی بنیادوں کو مستحکم کرتا ہے،جہاد کی بنیاد کی استواری کا انحصار امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر ہے،امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا مسئلہ نماز کی طرح ہے،سیکھنے کی چیز ہے،اسے جاکر سیکھنے کی ضرورت ہے، اس میں ایسے مسائل پائے جاتے ہیں کہ جنہیں جاکر سیکھنا ہوگا کہ کہاں اور کیسے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بجالایا جاسکتا ہے۔(۳)
چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے:اَلَّذِیْنَ إِن مَّکَّنَّاهُمْ فِیْ الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاۃَ وَآتَوُا الزَّکَاۃَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنکَر»۔(۴)
ترجمہ:یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے زمین میں اختیار دیا تو انہوں نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی اور نیکیوں کا حکم دیا اور برائیوں سے روکا۔
سبھی افراد و معاشرہ کو اچھے کاموں کو انجام دینے اور برے کاموں سے روکنے پر مبنی اپنے فرائض انجام دینے چاہئیں، کیوں کہ اسلامی نظام میں حیات طیبہ کی فراہمی اسی سے ہوسکتی ہے۔ ہمیں عمل کرنا ہوگا تاکہ اس کے آثارونتائج کے شاہد ہوسکیں۔(۵)
...........................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔علماء ومبلغین سے خطاب:۴؍مارچ؍۱۹۹۲ء    ۔
۲۔نہج البلاغہ، کلمات قصار: ۳۷۴۔
۳۔عوامی رضا کار فوج کے کمانڈروں اور اعلیٰ افسران سے ملاقات کے دوران خطاب: ۱۳؍جنوری؍۱۹۹۲ء۔
۴۔  سورۂ حج، آیت:۴۱۔
۵۔قم کے عوام سے خطاب:۹؍جنوری؍۱۹۹۳ء ۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Sep 20