Monday - 2018 Dec 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186824
Published : 22/4/2017 16:13

شوہر کے فرائض:

بیوی کے ساتھ خوش اخلاقی کا مظاہرہ(2)

فقط زمانہ میں رونما ہونے والے حادثات تو ہماری تمام مشکلات کا سرچشمہ نہیں ہیں بلکہ ہمارا ضعف سبب بنتا ہے کہ ہم ان سے پریشان ہوجائیں پس اگر ہم اپنے نفس پر مسلط ہوجائیں اور اپنے کو کنٹرول میں رکھیں کہ حوادث زمانہ سے کبیدہ خاطر نہ ہوں تو یہ پریشانیاں اور کوفت خود بخود معدوم ہوجائیں گے۔


ولایت پورٹل:
ہم نے گذشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ  ہمیشہ گھر میں اپنی بیوی بچوں کے ساتھ خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے چونکہ جن گھروں میں بد خلقی ،ہر وقت کا چڑھ چڑا ھا پن حاکم رہے تو ممکن ہے کہ  آپ کے سبب آپ کے پورے گھر میں ایک خوف کا سایہ موجود رہے اور ایسا معلوم ہو کہ گھر میں باپ نہیں کوئی موت کا فرشتہ نازل ہوگیا ہو،لہذا گذشتہ کالم پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
بیوی کے ساتھ خوش اخلاقی کا مظاہرہ(1)
گذشتہ سے پیوستہ:ایسے برے اور حقیر گھرانے کی وضیعت بخوبی واضح ہے ، اس میں ہمیشہ لڑائی جھگڑا  اور تلخیوں  کے علاوہ کچھ بھی نصیب نہیں ہوگا  اور کسی کے حلق سے ایک گھونٹ پانی بھی آرام کے ساتھ نیچے نہیں اترے گا اور گھر کی حالت درہم برہم ہوجائے گی بیوی  گھر کی چاردیواری اور شوہر نامدار کے ماتھے پر پڑی سلوٹیں دیکھنے سے بیزار ہوجائے گی پس اس  خاتون  کی زندگی کہ جس نے ہمیشہ اپنے شوہر سے بداخلاقی کے علاوہ کوئی چیز ہدیہ نہ لیا ہو، کیسے  پر سکون  بسر ہوگی  اور وہ کس احساس کے پیش نظر اپنے شوہر کی خدمت اور بچوں کی تربیت پر توجہ دے پائے گی ؟
ظاہر ہے اس ماحول میں تربیت پانے والے بچے ، تند مزاج ، بد بین ، کینہ توز ، اور ظالم اور پژمردہ ہوں گے چونکہ انہیں اپنے گھر میں تو سکون نصیب نہیں ہوا پس وہ آوارہ مزاج بن جائیں گے جس کے نتیجہ میں ممکن ہے کہ وہ طرح طرح کے فسادات میں ملوث ہوجائیں  اور جرائم کے ان جالوں میں پھنس جائیں جن کو سماج کے پیشہ ور شکارچیوں نے ایسے افراد کو  منحرف  کرنے کے لئے بچھایا ہوا ہے   اور ہمیشہ کے لئے بدنصیب اور نامراد ہوجائیں  اور یہ بھی ممکن ہے کہ اپنے وجود کی داخلی خلیشوں کو مٹانے کے لئے بڑے اور سنگین جرائیم  مانند قتل ، ڈکیتی ، بے آبروئی اور خود کشی  وغیرہ میں  ملوث  ہوجائیں۔
لہذا  فوق الذکر مطلب کی وضاحت کے لئے  طرح طرح کے فسادات میں ملوث بچوں کے کیسیز کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے  اور وہ اعداد و شمار کہ جو اس طرح کے بچوں کے سلسلہ میں ہر روز اخبار اور مجلات میں شائع ہوتے رہتے ہیں وہ اس مطلب کے بہترین گواہ ہیں  غرض!  ان تمام جرائیم اور بدبختیوں کا ذمہ دار گھر کا  وہ سرپرست ہے کہ جو اپنے کو کنٹرول میں نہیں رکھتا تھا  اور  گھر میں آکر بد اخلاقیوں کا مظاہرہ کرتا تھا لہذا اسے اس  دنیا میں بھی  خوشی نصیب نہیں ہوگی نیز آخرت میں بھی  جہنم کا  عذاب اس کا منتظر ہے۔  
جناب عالی! اس عالم کا نظام ہمارے اختیار میں نہیں ہے  مصیبتیں، پریشانیاں  اس کائنات  کا جزو لاینفک ہیں  اور ہر کسی کو چاہے یا نہ چاہے یہ پریشانیاں اور مصیبتیں درپیش ہیں پس ان کو برداشت کرنے کے لئے اپنے کو آمادہ کرنا چاہیے  اور انہیں مواقع پر تو انسان کی شخصیت نکھر کر سامنے آتی ہے  پس  بغیر کسی چوں چرا کے بغیر یہ زندگی میں پیش آئیں گے لہذا ان کے مقابلہ کے لئے چارہ کار تلاش کرنا چاہیئے چونکہ انسان میں یہ توانائی پائی جاتی ہے کہ وہ سینکڑوں چھوٹی بڑی مشکلات کو بڑھ کر اپنے سینہ سے لگا لے اور اس کے ماتھے  پر بل بھی نہ آئے۔
فقط زمانہ میں رونما ہونے والے حادثات تو ہماری تمام مشکلات کا سرچشمہ نہیں ہیں بلکہ  ہمارا ضعف سبب بنتا ہے کہ ہم ان سے پریشان ہوجائیں پس اگر ہم اپنے نفس پر مسلط ہوجائیں اور اپنے کو کنٹرول میں رکھیں کہ حوادث زمانہ سے کبیدہ خاطر نہ ہوں تو یہ پریشانیاں اور کوفت خود بخود معدوم ہوجائیں  گے۔  
چونکہ جو حادثہ بھی آپ کی زندگی میں رونما ہوتا ہے وہ دوحال سے خالی نہیں ہے یا تو وہ اس  عالم کے ضروری اور لاینفک چیزوں میں سے ہے کہ جو مادہ اور مادیات سے ہرگز جدا نہیں ہوتا تو  اس میں ہماری سعی و کوشش بے کار ہے یا پھر ان امور میں سے ہے کہ جس میں ہماری کوشش اور تدبیر کارگر ہوسکتی ہے پس اگر حادثات پہلی قسم میں سے ہیں تو یہ رونا اور گڑگڑانا ، غم و غصہ کوئی فائدہ نہیں رکھتا بلکہ ایک ایسا امر ہے کہ جو مافوق عقل ہے چونکہ ایسے مواقع پر ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے چاہے ہم پسند کریں یا ناپسند کریں اس عالم مادہ کے یہ لوازم ہیں بلکہ اپنے آپ کو ایسے حادثات کے لئے آمادہ کرنا چاہیئے اور مسکراتے ہوئے ان کا استقبال کرنا چاہیئے لیکن اگر وہ حوادث دوسری قسم میں سے ہو (یعنی کوشش اور تدبیر کارگر ہوسکتی ہو )تو  ہمیں ان سے بچنے کے راستے  تلاش کرنے چاہیئے۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Dec 17