Friday - 2018 july 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186830
Published : 22/4/2017 17:25

امام کاظم(ع) اور ہارون کا مناظرہ

جب ہارون نے علی بن یقطین کو اپنا وزیر بنانا چاہا اورعلی بن یقطین نے امام موسیٰ کاظم(ع) سے مشورہ کیا تو آپ نے اجازت دیدی امام کا ہدف یہ تھا کہ اس طریقہ سے جان و مال و حقوق شیعیان محفوظ رہیں، امام نے علی بن یقطین سے فرمایا تو ہمارے شیعوں کی جان و مال کو ہارون کے شر سے بچانا ہم تیری تین چیزوں کی ضمانت لیتے ہیں کہ اگر تو نے اس عہد کو پورا کیا تو ہم ضامن ہیں،تم تلوار سے ہرگز قتل نہیں کئے جاۆگے، ہرگز مفلس نہ ہو گے،تمہیں کبھی قید نہیں کیا جائے گا، علی بن یقطین نے ہمیشہ امام کے شیعوں کو حکومت کے شر سے بچایا اور امام کا وعدہ بھی پورا ہوا، نہ ہارون، پسر یقطین کو قتل کرسکا،- نہ وہ تنگدست ہوا،نہ قید ہوا۔

ولایت پورٹل:
امام موسی کاظم علیہ السلام نے مختلف حکاّم دنیا کے دور میں زندگی بسر کی آپ کا دور حالات کے اعتبار سے نہایت مصائب اور شدید مشکلات اور خفقان کا دور تھا ہرآنے والے بادشاہ کی امام پرسخت نظر تھی لیکن یہ آپ کا کمالِ امامت تھا کہ آپ انبوہ مصائب کے دورمیں قدم قدم پر لوگوں کو درس علم وہدایت عطافرماتے رہے، اتنے نامناسب حالات میں آپ نے اس دانشگاہ کی جو آپ کے پدر بزرگوارکی قائم کردہ تھی پاسداری اور حفاظت فرمائی آپ کا مقصد امت کی ہدایت اورنشرعلوم آل محمد تھا جس کی آپ نے قدم قدم پر ترویج کی اور حکومت وقت توبہرحال امامت کی محتاج ہے۔
چنانچہ تاریخ میں ملتا ہے کہ ایک مرتبہ مہدی جو اپنے زمانے کا حاکم تھا مدینہ آیا اور امام مو سیٰ کاظم(ع)سے مسلۂ تحریم شراب پر بحث کرنے لگا وہ اپنے ذہنِ ناقص میں خیال کرتا تھا کہ معاذاللہ اس طرح امام کی رسوائی کی جائے لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ وارث باب مدینتہ العلم ہیں چنانچہ امام سے سوال کرتا ہے کہ آپ حرمتِ شراب کی قرآن سے دلیل دیجیے امام نے فرمایا:خداوند سورۂ اعراف میں فرماتا ہے اے حبیب !کہہ دو کہ میرے خدا نے کارِ بد چہ ظاہر چہ مخفی و اثم و ستم بنا حق حرام قرار دیا ہے اور یہا ں اثم سے مراد شراب ہے، امام یہ کہہ کر خاموش نہیں ہوتے ہیں بلکہ فرماتے ہیں خداوند عالم  نیز سورۂ بقر میں فرماتا ہے اے میرے حبیب! لوگ تم سے شراب اور قمار کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہہ دو کہ یہ دونوں بہت عظیم گناہ ہے اسی وجہ سے شراب قرآن میں صریحاً حرام قرار دی گئی ہے مہدی، امام کے اس عالمانہ جواب سے بہت متاثر ہوا اور بے اختیارکہنے لگا ایسا عالمانہ جواب سوائے خانوادۂ عصمت و طہارت کے کوئی نہیں دے سکتا یہی سبب تھا کہ لوگوں کے قلوب پر امام کی حکومت تھی اگر چہ لوگوں کے جسموں پر حکمران حاکم تھے،ہارون کے حالات میں ملتا ہے کہ ایک مرتبہ قبرِ رسول اللہ پر کھڑ ے ہو کر کہتا ہے اے خدا کے رسول آپ پر سلام اے پسرِ عمّو آپ پر سلام، وہ یہ چاہتا تھا کہ میرے اس عمل سے لوگ یہ پہچان لیں کہ خلیفہ سرور کائنات کا چچازاد بھائی ہے،اسی ہنگام امام کاظم قبر پیغمبر کے نزدیک آئے اورفرمایا:اے اللہ کے رسول! آپ پرسلام،اے پدر بزرگوار! آپ پرسلام، ہارون امام کے اس عمل سے بہت غضبناک ہوا، فوراً امام کی طرف رخ کر کے کہتا ہے:آپ فرزند رسول ہونے کا دعوہ کیسے کرسکتے ہیں ؟جب کہ آپ علی مرتضیٰ کے فرزند ہیں۔
امام نے فرمایا تونے قرآن کریم میں سورۂ انعام کی آیت نہیں پڑھی جس میں خدا فرماتا ہے کہ:قبیلۂ ابراہیم سے داۆد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ، ہارون، زکریا، یحییٰ، عیسیٰ، اورالیاس یہ سب کے سب ہمارے نیک اورصالح بندے تھے ہم نے ان کی ہدایت کی اس آیت میں اللہ نے حضرت عیسیٰ کو گزشتہ انبیاء کا فرزند قرار دیا ہے، حالانکہ عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے، حضرت مریم کی طرف سے پیامبران سابق کی طرف نسبت دی ہے اس آیۂ کریمہ کی رو سے بیٹی کا بیٹا فرزند شمار ہوتا ہے، اس دلیل کے تحت میں اپنی ماں فاطمہ کے واسطہ سے فرزند نبی ہوں، اس کے بعدامام فرماتے ہیں کہ اے ہارون! یہ بتا کہ اگر اسی وقت پیغمبر دنیا میں آجائیں اور اپنے لئے تیری بیٹی کا سوال فرمائیں تو تو اپنی بیٹی پیغمبر کی زوجیت میں دے گایا نہیں؟ ہارون برجستہ جواب دیتا ہے نہ صرف یہ کہ میں اپنی بیٹی کو پیامبر کی زوجیت میں دونگا بلکہ اس کارنامے پرتمام عرب و عجم پر افتخار کرونگا امام فرماتے ہیں کہ تو اس رشتے پر تو سارے عرب و عجم پر فخر کریگا لیکن پیامبر(ص) ہماری بیٹی کے بارے میں یہ سوال نہیں کر سکتے اس لئے کہ ہماری بیٹیاں پیامبر کی بیٹیاں ہیں اور باپ پر بیٹی حرام ہے امام کے اس استدلال سے حاکم وقت نہایت پشیمان ہوا،امام موسیٰ کاظم نے علم امامت کی بنیاد پر بڑے بڑے مغرور اور متکبر بادشاہوں سے اپنا علمی سکّہ منوالیا امام قدم قدم پر لوگوں کی ہدایت کے اسباب فراہم کرتے رہے،چنانچہ جب ہارون نے علی بن یقطین کو اپنا وزیر بنانا چاہا اورعلی بن یقطین نے امام موسیٰ کاظم(ع) سے مشورہ کیا تو آپ نے اجازت دیدی امام کا ہدف یہ تھا کہ اس طریقہ سے جان و مال و حقوق شیعیان محفوظ رہیں، امام نے علی بن یقطین سے فرمایا تو ہمارے شیعوں کی جان و مال کو ہارون کے شر سے بچانا ہم تیری تین چیزوں کی ضمانت لیتے ہیں کہ اگر تو نے اس عہد کو پورا کیا تو ہم ضامن ہیں،تم تلوار سے ہرگز قتل نہیں کئے جاۆگے، ہرگز مفلس نہ ہو گے،تمہیں کبھی قید نہیں کیا جائے گا، علی بن یقطین نے ہمیشہ امام کے شیعوں کو حکومت کے شر سے بچایا اور امام کا وعدہ بھی پورا ہوا، نہ ہارون، پسر یقطین کو قتل کرسکا،- نہ وہ تنگدست ہوا،نہ قید ہوا،لوگوں نے بہت چاہا کہ فرزند یقطین کو قتل کرا دیا جائے لیکن ضمانتِ امامت، علی بن یقطین کے سر پر سایہ فگن تھی، ایک مرتبہ ہارون نے علی بن یقطین کو لباس فاخرہ دیا علی بن یقطین نے اس لباس کو امام موسیٰ کاظم کی خدمت میں پیش کر دیا مولا یہ آپ کی شایانِ شان ہے،امام نے اس لباس کو واپس کر دیا اے علی ابن یقطین اس لباس کو محفوظ رکھو یہ برے وقت میں تمہارے کام آئے گا ادھر دشمنوں نے بادشاہ سے شکایت کی کہ علی ابن یقطین امام کاظم کی امامت کا معتقد ہے یہ ان کو خمس کی رقم روانہ کرتا ہے یہاں تک کہ جو لباس فاخرہ تو نے علی ابن یقطین کو عنایت کیا تھا وہ بھی اس نے امام کاظم کو دے دیا ہے،بادشاہ سخت غضب ناک ہوا اور علی ابن یقطین کے قتل پر آمادہ ہو گیا فوراً علی ابن یقطین کو طلب کیا اور کہا وہ لباس کہاں ہے جو میں نے تمہیں عنایت کیا تھا؟ علی ابن یقطین نے غلام کو بھیج کر لباس، ہارون کے سامنے پیش کر دیا ہارون بہت زیادہ خجالت زدہ ہوا یہ ہے تدبیر امامت اور علم امامت-



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 july 20