Friday - 2018 july 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186838
Published : 22/4/2017 18:51

امام کاظم(ع) کے دور کے متعلق رہبر انقلاب کا تجزیہ:

امام کاظم علیہ السلام کا سب سے عظیم جہاد تقیہ تھا:رہبر انقلاب

اس زمانہ میں جو چیز اہل بیت(ع)کے جہاد، ان کی فکری و سیاسی تحریک اور ان کے دوستوں کو رشد و ارتقاء گنجائش دے سکتی تھی وہ ان کی انتھک کوشش اور ان بزرگواروں کا بڑا جہاد اور الٰہی طریقۂ کار تقیہ سے توسل اس طرح ہے کہ امام موسیٰ بن جعفر(ع) کے جہاد کی حیرت زدہ اور انگشت بدنداں کر دینے والی عظمت آشکار ہوجاتی ہے۔

ولایت پورٹل:یہ پینتیس سال کا عرصہ (۱۴۸ھ سے ۱۸۳ھ تک) یعنی حضرت ابوالحسن موسیٰ بن جعفر(ع) کی امامت کا زمانہ ائمہ(ع)کے زندگی نامہ کا ایک اہم موڑ ہے،اس زمانہ میں بنی عباس کے دو مقتدر ترین (منصور و ہارون) اور ان کے دو ظالم ترین بادشاہ، مہدی و ہادی کی حکومت تھی، انہوں نے خراسان و افریقہ میں، موصل کے جزیرہ میں، دیلمان و جرجان میں، شام و نصیبین میں، مصر میں، آذربائیجان میں، ارمنستان میں اور دوسرے علاقوں میں بہت سے انقلابوں، شورشوں اور شورش کرنے والوں کو کچل کر انہیں اپنا مطیع بنالیا تھا اور وسیع اسلامی قلمرو کے مشرق و مغرب اور شمال میں بہت سی نئی فتوحات ہوئی تھیں، وافر مقدار میں مال غنیمت ہاتھ آیا تھا جس سے بنی عباس کو استحکام و وسعت ملی تھی۔
اس زمانہ میں فکری و عقیدتی رجحان میں کافی اضافہ ہوا تھا، بعض مذاہب اوج پر پہنچ گئے تھے اور بعض نئے وجود میں آگئے تھے، ذہنی فضا متعارض افکارسے پر تھی، یہ حکام و مقتدر لوگوں کا ایک حربہ تھا۔
لوگوں کی اسلامی بیداری و سیاسی ہوشیاری کے لئے ایک آفت تھی اور خالص اسلامی معارف کے پرچم داروں اور علوی مبلغین کے لئے میدان تنگ کردیا گیا تھا۔ شعراء، فقہاء و محدثین یہاں تک کہ زُہّاد و اہل تقویٰ بھی صاحبان اقتدار کی خدمت میں مشغول تھے۔ ان کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بن گئے تھے،یہ دور نہ تو بنی امیہ کے عہدِ آخر کی مانند تھا اور نہ ہی بنی عباس کے ابتدائی دس برسوں جیسا تھا اور نہ ہی ہارون رشید کی موت کے بعد جیسا تھا کہ ہرایک کو حکومت کی طرف سے خوف لاحق تھا اور حکومتِ وقت کو ایسا کوئی خوف نہیں تھا کہ جس سے خلیفۂ وقت اہل بیت(ع) کی عمیق و مسلسل دعوت سے غافل رہتا۔
اس زمانہ میں جو چیز اہل بیت(ع)کے جہاد، ان کی فکری و سیاسی تحریک اور ان کے دوستوں کو رشد و ارتقاء گنجائش دے سکتی تھی وہ ان کی انتھک کوشش اور ان بزرگواروں کا بڑا جہاد اور الٰہی طریقۂ کار تقیہ سے توسل اس طرح ہے کہ امام موسیٰ بن جعفر(ع) کے جہاد کی حیرت زدہ اور انگشت بدنداں کر دینے والی عظمت آشکار ہوجاتی ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 july 20