Tuesday - 2018 july 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186846
Published : 23/4/2017 15:43

شوہر کے فرائض:

بیوی کے ساتھ خوش اخلاقی کا مظاہرہ(3)

کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ جب آپ اپنی تھکاوٹ کو دور کرنے کے لئے اپنی آرام گاہ (گھر) میں آئیں تو اس امر پہ غور کریں کہ بدمزاجی اور بد اخلاقی میری مشکل کو حل نہیں کرسکتی بلکہ مجھے مزید مشکل میں ڈال دے گی اور ممکن ہے کہ مجھے اس سے بڑی مشکل میں گرفتار کردے پس اس وقت میں قدرے آرام کروں تاکہ سکون ذہنی اور راحت قلب کے ساتھ راہ حل پیدا کروں اور اس وقت حوادث اور مشکلات کو بھول کر مسکراتے ہوئے گھر میں داخل ہوجائیں اور اپنی نرم گرم باتوں سے گھروالوں کے دل کو خوش کریں۔

ولایت پورٹل:ہم نے مسلسل گذشتہ دو کالم میں اپنے قارئین کی خدمت میں یہ گذارش کی کہ جب گھر میں داخل ہوں تو اپنے بیوی اور بچوں کے ساتھ محبت،نرمی اور اخلاق سے پیش آئیں،چونکہ مشکلات اور پریشانیاں ہر ایک کی زندگی میں ایک معمولی امر ہے ،لہذا اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس پر کلک کیجئے!
بیوی کے ساتھ خوش اخلاقی کا مظاہرہ(1)
بیوی کے ساتھ خوش اخلاقی کا مظاہرہ(2)
گذشتہ سے پیوستہ:اگر ہم  مشکلات کے مقابل نہ ہاریں اور اپنے آپ کو کنٹرول میں رکھیں اور فکر و تدبیر کے ساتھ میدان عمل میں وارد ہوں تو اکثر مشکلات حل ہوجاتی ہیں  اور اس مرحلہ میں غصہ اور بد اخلاقی  ہماری کوئی  مدد نہیں کرسکتے  بلکہ  اکثر و بیشتر  مشکلات میں اضافہ کا سبب بنتی ہیں، اسی بنا پر عقلمند اور ہوشیار آدمی کو چاہیئے کہ اپنے پر قابو رکھے   اور حوادث زمانہ سے ہرگز متاثر نہ ہو  چونکہ انسان ایک ایسا قوی  موجود ہے کہ جو صبر اور کوشش کے ساتھ بڑی سے بڑی مشکلات کا مقابلہ کرسکتا ہے، واقعاً کیا افسوس کا مقام نہیں ہے کہ انسان ایک چھوٹی سی مشکل کے مقابلہ میں اپنے کو شکست خوردہ محسوس کرے  اور  داد و فریاد بلند کرتا پھرے؟
اور اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ زندگی کی مشکلات اور لوگوں کی دل آزاری  نے تمہارے  غم و غصہ کے اسباب  فراہم کئے ہیں تو معصوم بچوں اور بے چاری بیوی کا اس میں کیا قصور ہے؟
آپ کی بیوی صبح سے اب تک گھر میں کام کررہی ہے ، کھانا بنایا ، کپڑے دھوئے ، گھر کی صفائی کی،آپ کے بچوں کے ساتھ سرکھپایا  تھکی ماندی آپ کے انتظار میں بیٹھی ہے کہ جب آپ گھر آئیں گے تو خوش اخلاقی  اور مہر و محبت کے ساتھ اس سے گفتگو کرکے اس کی روح اور بدن کی ساری تھکاوٹ کو دور کردیں گے۔
نیز آپ کے بچے صبح سے اب تک اسکول میں گئے تھے اور پورا دن پڑھنے میں مشغول رہے یا کسی دوکان یا کارخانہ میں کام کر رہے تھے اور اب تھکے ماندے گھر لوٹ کر اپنے باپ کا انتظار کررہے ہیں کہ وہ آکر اپنی شریں کلامی اور خوش اخلاقی کے سبب اظہار محبت کریں گے اور ہمارے سارے دن کی تھکاوٹ کو دور کرکے ہمیں اگلے دن کی طاقت فراہم کریں گے۔
ہاں! آپ کی بیوی اور بچے اس جیسی بہت سی آرزوئیں اپنے دل میں لیے آپ کا انتظار کررہے ہیں تو کیا آپ کو زیب دیتا ہے کہ آپ  ماتھے پر بل ڈالے ہوئے  منھ بگاڑ کر بد اخلاقی کے ساتھ ان کے پاس جائیں؟
وہ آپ کا انتظار کررہے تھے تو آپ ان کے لئے رحمت کا فرشتہ بن کر جائیں اور اپنی خوش اخلاقی ، اور مسکراتے ہوئے چہرے سے گھر کی فضا کو منور کردیں اور اپنی گرم  اور اچھی باتوں سے ان کے تھکے ہوئے ذہن کو سکون فراہم کریں، ایسا نہ ہو کہ آپ تند اخلاقی اور منھ چڑھائے ہوئے گھر میں جاکر گھر کی فضا کو تاریک  بنا دیں اور ان تھکے ماندوں کو مزید دکھ پہونچا کر اور تھکا دیں، کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کی ان بداخلاقیوں اور تندی کے کیا اثرات ان کی روح و جسم پر  مرتب ہوں گے اور کون سے عواقب آپ کے دامن گیر ہو سکتے ہیں؟ اگر آپ ان بے چاروں کے حال پر رحم نہیں کرتے تو کم سے کم اپنے حال پر تو رحم کریں؟  کیا اس طرح آپ کا جسم اور روح صحیح و سالم رہ پائیں گے؟
اس کیفیت میں آپ کس طرح اپنے کام کو آگے بڑھا سکیں گے  اور زندگی کی مشکلات اور زمانہ کے مصائب کا مقابلہ کر سکیں گے؟کیوں آپ اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی  آرام گاہ کو ایک قیدخانہ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں کہ جس کا نتیجہ خود آپ ہی طرف پلٹے گا؟
کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ آپ ہمیشہ  شاد و خوش حال رہیں اور اگر آپ کےسامنے کوئی  مشکل بھی ہے تو بغیر کسی غم و غصہ کے عقل و تدبیر کے سبب اس سے بچنے کی سبیل کریں؟
کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ جب آپ اپنی تھکاوٹ کو دور کرنے کے لئے اپنی آرام گاہ (گھر) میں آئیں تو اس امر پہ غور کریں کہ بدمزاجی اور بد اخلاقی میری مشکل کو حل نہیں کرسکتی بلکہ مجھے  مزید مشکل میں ڈال دے گی  اور ممکن ہے کہ مجھے اس سے بڑی مشکل میں گرفتار کردے  پس اس وقت میں  قدرے آرام کروں تاکہ سکون ذہنی  اور راحت قلب کے ساتھ  راہ حل پیدا کروں  اور اس وقت حوادث اور مشکلات کو بھول کر  مسکراتے ہوئے  گھر میں داخل ہوجائیں اور اپنی نرم گرم باتوں سے گھروالوں کے دل کو خوش کریں ان سے باتیں کریں اور قہقہ لگائیں آرام کریں اور ہنسی خوشی  کھانا کھائیں  اور سکون سے سوئیں  اس طرح آپ کے بیوی بچوں کو بھی سکون ملے گا اور وہ اپنے آنے والے دن کے لئے آمادہ ہوجائیں گے اور آپ بھی سکون و اطمینان کے ساتھ اپنے  تلاش معاش میں نکلیں گے اور زندگی کی مشکلات سے چھٹکارا نصیب ہوگا۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 july 17