Saturday - 2018 Dec 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186853
Published : 23/4/2017 16:49

امام موسی کاظم علیہ السلام اورعلی بن یقطین

علی بن یقتین نے ایک شخص سے کہا کہ میرے مکان میں جاکر میرے فلاں کمرہ سے میراصندوق اٹھالا، جب وہ بتایاہوا صندوق لے آیاتو آپ نے اس کی مہرتوڑی اورچغہ نکال کراس کے سامنے رکھ دیا، جب بادشاہ نے اپنی آنکھوں سے چغہ دیکھ لیا،تواس کاغصہ ٹھنڈاہوا، اورخوش ہوکرکہنے لگا، کہ اب میں تمہارے بارے میں کسی کی کوئی بات نہ مانوں گا۔

ولایت پورٹل:ایک مرتبہ ہارون رشید نے علی بن یقطین بن موسی کوفی بغدادی کہ جو کہ امام موسی کاظم علیہ السلام کے خاص ماننے والے تھے اور اپنی کارکردگی کی وجہ سے ہارون رشید کے مقربین میں سے تھے، بہت سی چیزیں دیں جن میں خلعت فاخرہ اور ایک بہت عمدہ قسم کا سیاہ زربفت کا بنا ہوا چغہ تھا جس پر سونے کے تاروں سے پھول کڑھے ہوئے تھے اورجسے صرف خلفاء اور بادشاہ پہنا کرتے تھے علی ین یقطین نے از راہ تقرب و عقیدت اس سامان میں اوربہت سی چیزوں کا اضافہ کرکے حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی خدمت میں بھیج دیا آپ نے ان کا ہدیہ قبول کر   لیا، لیکن اس میں سے اس لباس مخصوص کو واپس کردیا جو زربفت کا بنا ہوا تھا اور فرمایا کہ اسے اپنے پاس رکھو، یہ تمہارے اس وقت کام آئے گا جب تمہاری جان جوکھم،میں پڑی ہوگی انہوں نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ امام نے نہ جانے کس واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہو اسے اپنے پاس رکھ لیا تھوڑے دنوں کے بعد ابن یقطین اپنے ایک غلام سے ناراض ہوگئے اور اسے اپنے گھر سے نکال دیا اس نے جاکر رشید خلیفہ سے ان کی شکایت کردی  اور کہا کہ آپ نے جس قدر خلعت و غیرہ انہیں دی ہے انہوں نے سب کا سب امام موسی کاظم علیہ السلام کو دیدیا ہے، اور چونکہ وہ شیعہ ہیں، اس لیے امام کو بہت مانتے ہیں، بادشاہ نے جونہی یہ بات سنی، وہ آگ بگولہ ہوگیا اوراس نے فوراً سپاہیوں کوحکم دیا کہ علی بن یقطین کو اسی حالت میں دربار میں لائیں جس حال میں بھی وہ ہو ،الغرض ابن یقطین لائے گئے ،بادشاہ نے پوچھا میرا دیا ہوا چغہ کہاں ہے؟
انہوں نے کہا بادشاہ میرے پاس ہے اس نے کہا میں دیکھنا چاہتاہوں اورسنو! اگرتم اس وقت اسے نہ دیکھا سکے تومیں تمہاری گردن ماردوں گا، انہوں نے کہا بادشاہ میں ابھی پیش کرتاہوں، یہ کہہ کرانہوں نے ایک شخص سے کہا کہ میرے مکان میں جاکر میرے فلاں کمرہ سے میراصندوق اٹھالا، جب وہ بتایاہوا صندوق لے آیاتو آپ نے اس کی مہرتوڑی اورچغہ نکال کراس کے سامنے رکھ دیا، جب بادشاہ نے اپنی آنکھوں سے چغہ دیکھ لیا،تواس کاغصہ ٹھنڈاہوا، اورخوش ہوکرکہنے لگا، کہ اب میں تمہارے بارے میں کسی کی کوئی بات نہ مانوں گا۔
(شواہد النبوت ص ۱۹۴) ۔
علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ پھراس کے بعد رشیدنے اوربہت ساعطیہ دے کرانہیں عزت واحترام کے ساتھ واپس کردیا اورحکم دیاکہ چغلی کرنے والے کو ایک ہزارکوڑے لگائے جائیں چنانچہ جلادوں نے مارنا شروع کیا اور وہ پانچ سوکوڑے کھاکرمرگیا۔
(بحارالانوار ص ۱۳۰) ۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Dec 15