Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186859
Published : 23/4/2017 17:46

اثبات امامت پر قرآنی نصوص(۱)

جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا گیا لفظ«انما»اختصاص پر دلالت کرتا ہے اور اس طرح آیت کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر(ص) کے بعد (جب تک حضرت علی(ع) مسلمانوں کے درمیان ہیں)آپ کے علاوہ کسی اور کوئی ولایت وامامت کا حق نہیں ہے۔


ولایت پورٹل:گذشتہ فصل میں امامت کی حقیقت ،ابعاد اورصفات وکمالات بیان کئے گئے اوریہ نتیجہ حاصل ہوا کہ امام کی تعیین کا واحد راستہ خدا کی جانب سے «منصوب اور منصوص» ہونا ہے،اس فصل میں نصوص امامت کے بارے میں گفتگو کی جائے گی،امامیہ متکلمین نے اپنی کلامی کتب میں ائمہ کی امامت پر قرآن وسنت سے بے شمار نصوص کا تذکرہ کیا ہے ان سب کو بیان کرنے کے لئے ایک الگ کتاب کی ضرورت ہے،یہاں بطور نمونہ فقط چند نصوص کا تذکر ہ کیا جا رہا ہے۔
۱۔آیۂ ولایت
«إِنَّمَا وَلِیُّکُمْ ﷲُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاۃَ وَهُمْ رَاکِعُونَ»۔(۱)اس آیۂ کریمہ میں تمام مسلمان مخاطب ہیں اور اس میں یہ حکم بیان ہوا ہے کہ خدا ،پیغمبر(ص) اور مخصوص صفات کے مالک صاحبان ایمان کو ان پر ولایت حاصل ہے،دوسری جانب «إِنَّمَا»۔(۲)حصر واختصاص پردلالت کرتا ہے اس طرح آیۂ کریمہ کے معنی یہ ہوں گے کہ:مسلمانوں کی ولایت صرف خدا،رسول اور بعض مؤمنین سے مخصوص ہے«یعنی خدا ،رسول اور مخصوص مؤمنین کے علاوہ مسلمانوں کا ولی کوئی اور نہیں ہے چنانچہ زمخشری کہتے ہیں «و معنی انما،وجوب الاختصاص فیھم بالموالاۃ»انما کے معنی یہ ہیں کہ ولایت ان ہی سے مخصوص ہے۔
لفظ ولایت کے معانی میں سے یہاں جن معانی کا احتمال دیاگیا ہے وہ نصرت ، محبت اور زعامت (دوسروں کے امور میں تصرف کا حق)ہیں،مذکورہ معانی میں سے نصرت ومحبت میں عمومیت پائی جاتی ہے اور یہ تو اسلام وایمان کا لازمہ ہے یعنی اسلام وایمان کا لازمہ یہ ہے کہ ہر مسلمان اور مؤمن دوسرے مسلمان اور مؤمن سے محبت کرے اس کی مدد کرے ان معانی میں ولایت کے چند ذوات سے مخصوص ہونے کا کوئی تعلق نہیں ہے لیکن تیسرے معنی میں ولایت اسلام وایمان کے لوازم میں سے نہیں ہے اور اس میں عمومیت نہیں پائی جاتی بلکہ اس کے لئے خاص اذن اور تشریع کی ضرورت ہے۔خدا وند عالم چونکہ کائنات اور انسان کا خالق ومالک ہے لہٰذا اسے ذاتاً ولایت حاصل ہے اور چونکہ پیغمبر(ص)کو اس نے ولایت عطا کی ہے:«النَّبِیُّ أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ أَنْفُسِهِم»(۳)لہٰذا پیغمبر (ص) کو بھی یہ ولایت یعنی مسلمانوں کے امور میں تصرف کا حق حاصل ہے،قرآن کریم کی یہ آیت اعلان کرتی ہے کہ پیغمبر (ص) کے علاوہ    آیت میں مذکور مخصوص صفات کے مالک کچھ مومنین کو بھی ایسی ولایت حاصل ہے۔
یہاں تک یہ بات واضح ہو گئی کہ مذکورہ آیۂ کریمہ میں«ولایت»مسلمانوں کے امور میں حق تصرف یعنی زعامت وسرپرستی اور رہبری کے معنی میں ہے،اب دیکھنا یہ ہے کہ جن خاص مؤمنین کو یہ ولایت حاصل ہے وہ کون ہیں؟اور اس آیت کا مصداق کون ہے؟اس آیت کی شان نزول کے بارے میں شیعہ  اور سنی دونوں طریقوں سے بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں جو یہ بیان کرتی ہیں کہ آیۂ کریمہ حضرت علی(ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے۔(۴)اس بنا پریہ آیت امت مسلمہ پر حضرت علی(ع) کی امامت و رہبری ثابت کرتی ہے،چونکہ پیغمبر اکرم (ص) کے دور میں آنحضرت(ص) کو سب پر ولایت حاصل تھی اور حضرت علی(ع) بھی دیگر مؤمنین کی مانند آیۂ کریمہ:«النَّبِیُّ أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ»کے ذیل میں شامل تھے اس لئے حضرت علی(ص) کی ولایت و امامت کا واقعی آغاز رحلت پیغمبر(ص) کے بعد ہوا۔
اس موقع پر عموماً یہ سوال ہوتا ہے کہ اگر آیۂ کریمہ حضرت علی(ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے تو «مؤمنین» کیوں کہا گیا یعنی جمع کا صیغہ کیوں استعمال ہوا؟
مفسرین نے اس سوال کے مختلف جوابات دئیے ہیں،زمخشری کہتے ہیں:اس تعبیر کا مقصد یہ ہے کہ حضرت علی(ع) کی روش مؤمنین کے لئے نمونہ کے عنوان سے پیش کی جائے تاکہ وہ بھی راہ خدا میں انفاق کو اہمیت دیں حتی کہ امکانی صورت میں حالت نماز میں بھی اس سے غافل نہ رہیں۔(۵)طبرسی کہتے ہیں:اس تعبیر کا مقصدحضرت علی(ع) کی شخصیت کی عظمت بیان کرنا ہے عربی محاورہ اور دیگر زبانوں میں بھی یہی طریقہ رائج ہے کہ جب کسی شخص کی تکریم وتعظیم مراد ہوتی ہے تو اس کے لئے جمع کا صیغہ استعمال کیا جاتاہے ۔(۶)
اس نکتہ کی یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ«لغوی» اعتبار سے لفظ «زکوٰۃ» کے معنی فقہ میں رائج اصطلاحی معنی زیادہ سے وسیع ہیں،لغوی اعتبار سے ہر طرح کے مالی انفاق کو (خواہ واجب ہویا مستحب)زکوٰۃ کہا جاتاہے،جس کی واضح دلیل یہ ہے کہ مکی سورتوں اور آیتوں میں یہ لفظ مکرر استعمال ہوئی ہے حالانکہ اس وقت تک فقہی اصطلاح کے مطابق زکوٰۃ کا حکم نہیں آیا تھا۔(۷)
فقہاء اسلام نے اس شان نزول کومسلّم مانتے ہوئے نماز میں فعل کثیر اور زکات کے باب میں نیز صدقہ کوزکاۃ کہا جاتا ہے یا نہیں جیسے مسائل کے بارے میںاس آیت سے استناد کیا ہے،ان احادیث کے پیش نظر ابن تیمیہ کی جانب سے حدیث کے جعلی ہونے کا دعویٰ عجائبات میں سے ہے ۔
مذکورہ مطالب کے پیش نظر «المنار» کے مصنف کا قول غلط ثابت ہو جاتا ہے جنھوں نے مذکورہ دونوں باتوں (ایک شخص کے لئے جمع کا صیغہ،صدقہ مستحبی کو زکوٰۃ کہنا)کے باعث شان نزول کی احادیث میں شک کیا ہے(۸)
اس سلسلہ میں ایک شبہہ یہ پیش کیا جاتاہے کہ حضرت علی(ع) کی امامت کا تعلق عہد پیغمبر (ص) سے بعدکا ہے اور اس آیت سے صرف یہ استفادہ ہوتا ہے کہ حضرت علی(ع) پیغمبر اکرم(ص) کے بعد اسلامی معاشرہ کے امام و قائد ہوں گے لیکن اس آیت میں یہ صراحت نہیں ہے کہ آپ کی امامت بلا فاصلہ ہو گی یا کچھ عر صہ کے بعد اس طرح تو آیت کا مطلب اہل سنت کے نظریہ کے مطابق بھی ہو سکتا ہے۔(۹)
یہ شبہہ بھی بے بنیاد ہے اس لئے کہ اولاً تو اجماع مسلمین کے خلاف ہے اس لئے کہ حضرت علی(ع) کی امامت کے سلسلہ میں مسلمانوں کے دونظریے ہیں ایک نظریہ یہ ہے کہ آپ کی امامت منصوص اور بلا فصل ہے دوسرا نظریہ یہ ہے کہ آپ کی امامت انتخاب اور بیعت کے ذریعہ عثمان کے بعد ہے لیکن یہ کہ آپ کی امامت منصوص اور عثمان کے بعد ہے شیعوں یا اہل سنت دونوں میں کوئی فرقہ اس کا قائل نہیں ہے۔
دوسرے یہ کہ جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا گیا لفظ«انما»اختصاص پر دلالت کرتا ہے اور اس طرح آیت کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر(ص) کے بعد (جب تک حضرت علی(ع) مسلمانوں کے درمیان ہیں)آپ کے علاوہ کسی اور کوئی ولایت وامامت کا حق نہیں ہے۔

......................................................................................................................................................................................................

حوالہ جات:
۱۔مائدہ/۵۵۔
۲۔لفظ «إِنَّمَا» نفی واثبات کا فائدہ دیتا ہے جب کہا جاتا ہے «انما زید قائم تو اس کے معنی یہ ہیں کہ زید میںقیام کے علاوہ کوئی اور صفت نہیں پا ئی جا تی «ما زید الا قائماً» کا مطلب ہے «زید صرف قائم ہے»،مختصر المعانی ،ص/۸۲ باب قصر ملاحظہ فرمائیں۔
۳۔احزاب/۶۔
۴۔آیہ کریمہ حضرت علی(ع) کی شان میں نازل ہونے سے متعلق احادیث شیعہ طرق سے متواتر اور اہل سنت کے طرق سے متعدد ہیں،المیزان ج/۶،ص/۱۶تا۲۰،تفسیر ابن کثیر ج/۲،ص/۵۹۷،تفسیر قرطبی ج/۶،ص/۲۲۱،شواہد التنزیل حسکانی ج/۱،ص/۱۶۱، اسباب النزول واحدی ص/۱۳۲،الریاض النضرۃ طبری ج/۳،ص/۲۰۸ ملاحظہ فرمائیں۔
۵۔الکشاف ج/۱،ص/۶۴۹۔
۶۔مجمع البیان ج/۲،ص/۲۱۱      ۔
۷۔المیزان ج/۶،ص/۱۰،۱۱۔
۸۔المنار ج/۶،ص/۴۴۲    ۔
۹۔تفسیر کبیر فخر الدین رازی ، ج/۱۲،ص/۲۹ ۔

 
 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11