Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186864
Published : 23/4/2017 18:54

امام کاظم(ع) کے دور کے متعلق رہبر انقلاب کا نظریہ:

امام کاظم(ع) کے جہاد کے آثار ملک چین تک دیکھے جاستکے ہیں:رہبر انقلاب

علی بن یقطین جو ہارون رشید کے دربار میں بلند منصب پر فائز اور امام کے شیدائیوں میں سے تھے ان کو ایک تقیہ آمیز عمل کی تعلیم کیوں دیتے ہیں اور صفوان جمال کو اسی دربار کا تعاون کرنے پر پھٹکارکیوں لگاتے ہیں اور انہیں خلیفہ سے قطع روابط کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ اسلام کے وسیع قلمرو میں اپنے دوستوں اور اصحاب کے درمیان کس طرح اور کس ذریعہ سے روابط ایجاد کرتے ہیں اور ایسا چینل بناتے ہیں جو چین تک پھیلا ہوا تھا۔

ولایت پورٹل:یہاں مجھے یہ عرض کرنا چاہیئے کہ جب مورخین و محققین امام صادق(ع) کی سوانح عمری لکھ رہے تھے تو اس وقت اس امام ہمام کے طویل المدت قید وبند جیسے عظیم و بے نظیر حادثہ کو شائستہ طریقہ اور ہوشیاری سے خاص جگہ دی جانی چاہیئے تھی، لیکن اسے خاص جگہ نہیں دی گئی اورنتیجہ میں لوگ امام صادق(ع) کے عظیم جہاد سے غافل رہ گئے۔
امام عالی مقام کی سوانح عمری میں مختلف قسم کے بے ربط حوادث نقل کردئیے گئے ہیں اور اس فرزند رسول(ص) کی علمی و معنوی اور قدسی صفات و مدارج کے بیان پر زور دیا ہے اور آپ کے خاندانی واقعات اور آپ کے اصحاب و شاگردوں کے حالات و اقدار اور علمی و کلامی مناظروں کو آپ کے مسلسل جاری رہنے والے اس جہاد کو ملحوظ رکھے بغیر نقل کردیا ہے کہ جس میں آپ(ع)کی امامت کے پینتیس سال گزرے ہیں نتیجہ میں آپ(ع)کی سوانح عمری نامکمل رہ گئی، آپ(ع) کی زندگی کے اس پہلو کی تشریح و توضیح جو کہ اس پُرفیض زندگی کے تمام اجزاء کو آپس میں مربوط کرتی ہے اور ایسی مکمل و واضح اور جہت دار تصویر پیش کرتی ہے جس میں ہر بامعنی وقوعہ وحادثہ اور ہر جنبش موجود ہے۔
امام صادق(ع)، مفضّل سے کیوں فرماتے ہیں کہ امرامامت کو صرف قابل بھروسہ اور معتمد نوجوانوں سے بیان کیا کرو؟ اور عبدالرحمن بن حجاج سے تصریح کے بجائے کنایہ کی صورت میں فرماتے ہیں:
اِس کے بدن پر زرہ راست آئی ہے؟ صفوان جمال جیسے معتمد صحابہ کو اس کی علامت بتا دیتے ہیں؟ آخرکار اپنے وصیت نامہ میں اپنے فرزند کا نام وصی کے عنوان سے تحریر کرتے ہیں اور پھر چار افراد کے نام لکھتے ہیں، ان میں پہلا نام منصور عباسی اور دوسرا مدینہ کے حاکم کا نام ہے پھر دو عورتوں کا نام ہے،اس طرح آپ(ع) کے ارتحال کے وقت بعض شیعہ بزرگوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ آپ کے جانشین یہی بیس سالہ جوان ہیں؟
ہارون سے گفتگو کے دوران کیوں فرماتے ہیں:«خَلِیْفَتَانِ یَجِیُٔ اِلَیْھِمَا الخَرَاجُ»
نرم و انکار آمیز لہجہ میں لب کشا ہوتے ہیں مگر شروع میں ایک زاہد و بھرم رکھنے والے شخص حسین بن عبداللہ سے معرفت ا مام کے بارے میں فرماتے ہیں پھر خود کو مفترض الطاعۃ یعنی خود اس منصب پر فائز بتاتے ہیں جس پر اس وقت عباسی خلیفہ متمکن تھا؟
علی بن یقطین جو ہارون رشید کے دربار میں بلند منصب پر فائز اور امام کے شیدائیوں میں سے تھے ان کو ایک تقیہ آمیز عمل کی تعلیم کیوں دیتے ہیں اور صفوان جمال کو اسی دربار کا تعاون کرنے پر پھٹکارکیوں لگاتے ہیں اور انہیں خلیفہ سے قطع روابط کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ اسلام کے وسیع قلمرو میں اپنے دوستوں اور اصحاب کے درمیان کس طرح اور کس ذریعہ سے روابط ایجاد کرتے ہیں اور ایسا چینل بناتے ہیں جو چین تک پھیلا ہوا تھا۔
 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11