Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186878
Published : 24/4/2017 17:32

ایمان ابو طالب(ع)

محققین کے ایک گروہ کی نظر میں ،بعض لوگوں نے جوکوشش کی ہے کہ جناب ابوطالب(ع) کے کفر کو ثابت کریںیہ سیاسی جذبہ اور بعض تعصّبات کی بنا پر ہے کیونکہ پیغمبر(ص) کے بڑے اصحاب (جو کہ بعد میں علی (ع)کے سیاسی رقیب بنے)عام طور پر پہلے بت پرست تھے،صرف علی(ع) تھے جو سابقۂ بت پرستی نہیں رکھتے تھے اور بچپنے سے پیغمبر(ص) کے مکتب میں پرورش پائی،جولوگ یہ چاہتے تھے کہ علی(ص) کے مقام اور مرتبہ کو کم کریں اور نیچا دکھائیں تاکہ آئندہ ان کے برابر ہوسکیں مجبوری کی بناپر ان کی پوری کوشش تھی کہ وہ ان کے والد بزرگوار کے کفر کو ثابت کریں تاکہ ان کا بت پرست ہونا ثابت ہوسکے۔


ولایت پورٹل:تمام شیعہ علماء کا عقیدہ ہے کہ حضرت ابوطالب(ع) مسلمان اور مؤمن تھے۔(۱) لیکن پیغمبر اسلام(ص) کی حمایت کی خاطر آپ نے اسلام کا اظہار نہیں کیا تھا اور چونکہ اس سماج میں خاندانی تعصب پایا جاتا تھا،لہٰذا ظاہری طور پر آپ نے آنحضرت کی حمایت کی خاطر خاندان کا عنوان دیا تھا۔(۲)
ابو طالب(ع) اصحاب کہف کی مانند تھے جو اپنے ایمان کو چھپائے رہے اور خدا نے اس کا اجر عطا کیا۔(۳)
اہل سنت کے ایک گروہ نے جناب ابو طالب(ع) کے ایمان کا انکار کیا ہے، اس کا کہنا ہے کہ وہ مرتے دم تک ایمان نہیں لائے اور دنیا سے کفر کی حالت میں گئے،لیکن ان کے اس کے دعوے کے برخلاف بے شمار دلیلیں اور شواہد موجود ہیں جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ آئین اسلام اورنبوت حضرت محمد(ص) پر ایمان و اعتقاد رکھتے تھے۔اختصار کے طور پر ہم صرف دو دلیلیں پیش کرتے ہیں:
۱۔ان کے اشعار اور اقوال :جناب ابو طالب(ع) کے بے شمار اشعار و اقوال جو ہم تک پہنچے ہیں ان میں سے بعض میں آپ نے صراحت کے ساتھ پیغمبر اسلام(ص) کی نبوت اور ان کی حقانیت کا ذکر فرمایاہے۔(۴)
اور یہ اشعار و اقوال اسلام کے سلسلہ میں ان کے ایمان اور عقیدہ کا واضح اور روشن ثبوت ہیں۔ان کے چند اشعار نمونہ کے طور پر یہاں پیش ہیں:
تعلم ملیک الحبش ان محمداً          نبی کموسیٰ و المسیح بن مریم
أتیٰ بالھدیٰ مثل الذی اتیابه          وکل بامر اللّٰه بھدی و یعصم ۔(۵)
ترجمہ:اے حبشہ کے بادشاہ !یہ جان لے کہ محمد مانند موسیٰ اور مسیح پیغمبر ہیں،وہی نور ہدایت جسے وہ دونوں لے کر آئے تھے وہ بھی لے کر آئے اور تمام پیغمبران الٰہی خدا کے حکم سے لوگوں کی ہدایت کرکے گناہ سے روکتے ہیں)۔
الم تعلموا اَنَّا وَجَدنَا محمداً      رسولاً کموسیٰ خطّ فی اول الکتب۔(۶)
ترجمہ:کیاتمھیں نہیں معلوم کہ ہم نے محمد کو مانند موسی پیغمبر پایا ہے اور اس کا نام و نشان گزشتہ آسمانی کتابوں میں ذکر ہے۔
ولقد علمت ان دین محمدٍ              من خیر ادیان البریه دیناً۔(۷)
ترجمہ:مجھے یقینی طور پر معلوم ہے کہ دین محمد،دنیا کے بہترین ادیان میں سے ہے۔
پیغمبر اسلام(ص) سے ابو طالب(ع) کی حمایتیں:پیغمبر اسلام(ص) کے لئے جناب ابوطالب(ع) کی بے انتہا پشت پناہی اور حمایتیں جو تقریباً سات سال تک بغیر کسی وقفہ اور سستی کے جاری رہیں اور اس مدت میں قریش کے مقابل میں استقامت اور بے شمار مصائب اور مشکلات کو برداشت کرنا آپ کے ایمان اور عقیدے کے سلسلے میں دوسرا واضح ثبوت ہے،آپ کے ایمان کے منکر یہ تصور کرتے ہیںکہ آپ نے یہ ساری مشکلات اور پریشانیاں خاندانی جذبہ کے تحت سہیں،جبکہ خاندانی روابط انسان کو اس طرح کی طاقت فر سازحمتوں اور قربانیوں اور طرح طرح کے خطرات مول لینے پر ہرگز آمادہ نہیں کرسکتے ہیں،اس طرح کی قربانیوں کے لئے ہمیشہ ایمانی اور اعتقادی جذبہ ضروری ہے،اگر جناب ابوطالب(ع) کا جذبہ صرف خاندانی روابط تھا تو حضرت محمدؐ کے دوسرے چچائوں نے جیسے عباس اور ابولہب نے ایسا کام کیوں نہیں کیا؟!۔(۸)
محققین کے ایک گروہ کی نظر میں ،بعض لوگوں نے جوکوشش کی ہے کہ جناب ابوطالب(ع) کے کفر کو ثابت کریںیہ سیاسی جذبہ اور بعض تعصّبات کی بنا پر ہے کیونکہ پیغمبر(ص) کے بڑے اصحاب (جو کہ بعد میں علی (ع)کے سیاسی رقیب بنے)عام طور پر پہلے بت پرست تھے،صرف علی(ع) تھے جو سابقۂ بت پرستی نہیں رکھتے تھے اور بچپنے سے پیغمبر(ص) کے مکتب میں پرورش پائی،جولوگ یہ چاہتے تھے کہ علی(ص) کے مقام اور مرتبہ کو کم کریں اور نیچا دکھائیں تاکہ آئندہ ان کے برابر ہوسکیں مجبوری کی بناپر ان کی پوری کوشش تھی کہ وہ ان کے والد بزرگوار کے کفر کو ثابت کریں تاکہ ان کا بت پرست ہونا ثابت ہوسکے۔در حقیقت ابوطالب(ع) کااس کے علاوہ کوئی جرم نہیںتھا کہ وہ علی(ع) کے باپ تھے ۔اگران کے علی(ع) جیسے فرزند نہ ہوتے تو ایسے الزامات ان پر نہ لگائے جاتے!۔
ان حق پامالیوں اور عباسی اور اموی کوششوں کو بھی،نظر انداز نہیں کرنا چاہییٔ کیونکہ ان میںسے کسی ایک کے جد، اس مرتبہ پر فائز نہیں ہوئے تھے۔اور اسلام میں پہل نہیں رکھتے تھے ۔اسی وجہ سے وہ کوشش کرتے تھے کہ ان کے باپ کے کفر کو ثابت کریں تاکہ اس طریقہ سے ان کے مقام اور مرتبہ کو کم کرسکیں!۔
جو الزام جناب ابو طالب(ع) پر لگایا گیا وہ آپ کی بہ نسبت عباس بن عبدالمطلب(ع) (پیغمبراسلام(ع) اور حضرت علی(ع) کے چچا اور سلسلۂ خلفاء عباسی کے جد) سے زیادہ مناسبت رکھتا تھا کیونکہ عباس ،فتح مکہ ۸ ہجری تک کفر کی حالت میں مکہ میں رہے اور جنگ بدر میں مشرکوں کے لشکر کے ساتھ اسیر ہوئے اور فدیہ دے کر آزاد ہوئے، فتح مکہ کے واقعہ پر مکہ کے راستے میں آپ لشکر اسلام تک گئے اور پھر مکہ واپس پلٹ آئے اور بہت ہی کوششوں کے بعد پیغمبر(ص) سے ابوسفیان (مشرکوں کا سرغنہ) کے لئے امان لی!اس کے باوجود کسی نے نہیں کہا کہ عباس کافر تھے!کیا اس طرح کا فیصلہ ان دو لوگوں کے بارے میں فطری اور عقلی نظر آتا ہے؟!اس اعتبار سے محققین جناب ابو طالب کے کفر کے سلسلے میں پائی جانے والی حدیثوں کو جعلی سمجھتے ہیں۔(۹)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:    
۱۔شیخ مفید،اوائل المقالات (قم:مکتبۃ الداوری)ص۱۳،قتال نیشاپوری،ایضاً،ص۱۵۵،ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ،ج۱۴،ص۶،طبری ،مجمع البیان ، ج۳،ص۲۸۷،تفسیر آیۂ ۲۶ سورۂ انعام،علی بن طاووس، الطرائف فی معرفۃ مذاہب الطّوائف(قم:مطبعۃالخیام،۱۴۰۰  ہجری)ص۲۹۸۔
۲۔طبرسی،ایضاً،ج۷،ص۳۶۰،تفسیر آیۂ ۵۶ سورۂ قصص۔
۳۔کلینی،ایضاً،ج۱،ص۴۴۸،صدوق الامالی،(قم: المطبعۃ الحکمہ)،ص۳۶۶(مجلسی ۸۹)النیشاپوری،ایضاً،ص۱۵۶،علامہ امینی،الغدیر،ج۷،ص۳۹۰،مفید،الاختصاص(قم: منشورات جماعۃ المدرسین) ص۲۴۱۔
۴۔ابو طالب کے شعر کا ایک دیوان ہے جس کو ابو نعیم علی بن حمزہ بصری تمیمی لغوی(م۳۷۵ھ۔ق سیسیل میں ) نے جمع کیا ہے اور شیخ آغا بزرگ تہرانی نے اس کا ایک نسخہ بغداد میں آل سید عیسیٰ عطار کی لائبریری ی میں دیکھا ہے،(الذریعہ ،ج۹،قسم اول ،ص ۴۳۔۴۲)اور اسی طرح قبیلۂ بنی مھرم سے ابو ھفان عبداللہ بن احمد عبدی (جو کہ ایک شیعہ شاعر،مشہور ادیب اور بصرہ کے رہنے والے تھے)کے پاس ایک کتاب،شعرابی طالب بن عبدالمطلب و اخبارہ،کے نام سے تھی(رجال نجاشی ،تحقیق :محمد جواد النائینی ، بیروت، ط۱، ۱۴۰۸؁ھ) ج۲،ص۱۶،نمبر ۵۶۸)مرحوم شیخ آغابزرگ تہرانی نے اس کا ایک نسخہ بغداد میں آل سید عطار کی لائبریری میں دیکھا ہے جس میں پانچ سو(۵۰۰) سے زیادہ اشعار تھے اور ۱۳۵۶ہجری میں نجف میں شائع ہوا۔(الذریعہ، ج۱۴،ص۱۹۵)امیر المومنین علی(ع)چاہتے تھے کہ ابو طالب کے اشعار نقل اور جمع آوری ہوں اور آپ نے فرمایا:ان کو یاد کر و اور اپنی اولاد کو بھی یاد کروائو،ابو طالب دین خدا کے پیرو تھے اور ان اشعار میں بے شمار علوم پائے جاتے ہیں۔(الغدیر،ج۷،ص۳۹۳)۔
۵۔طبرسی،اعلام الوریٰ ،ص۴۵،مجمعالبیان ،ج۴،ص۲۸۸،علامہ امینی،الغدیر،ج۷،ص۳۳۱۔
۶۔کلینی،ایضاً،ج۱،ص۴۴۹،طبرسی،مجمع البیان، ج۴، ص۲۸۷،ابن ہشام، السیرۃالنبویہ، ج۱، ص۳۷۷، ابن ابی الحدید ،ایضاً،ج۱۴،ص۱۸۱،شیخ ابو الفتح الکراجکی،کنزالفوائد،تحقیق:الشیخ عبداللہ تعمہ (قم: دار الذاخائر ط۱، ۱۴۱۰  ہجری)ج۱،ص۱۸۱،امینی،الغدیر،ج۷،ص۳۳۲۔
۷۔ ابن ابی الحدید،ایضاً،ص۵۵،امینی،ایضاً،ص۳۳۴،عسقلانی،الاصابہ فی تمییز الصحابہ (بیروت: دار احیاء التراث العربی)ج۴،ص۱۱۶،ابن کثیر،البدایہ (بیروت: مکتبۃ المعارف، ط۲، ۱۹۷۷م) ج۳،ص۴۲۔
۸۔  ایمان ابوطالب کے بارے میں متعدد کتابیں لکھی جاچکی ہیں کہ جن میں سے کچھ کا تذکرہ شیخ آغا بزرگ تہرانی نے اپنی کتاب الذریعہ میں،ج۲،ص۵۱۰ سے ۵۱۴ پر کیا ہے ۔اور مرحوم علامہ امینی نے بھی کتاب الغدیر میں ، ج۷،ص۳۳۰ سے ۴۰۳ تک تفصیلی طور پر بحث کی ہے اور انیس کتابیں جو کہ اسلام کے جید علماء کے ذریعہ ایمان ابو طالب کے اثبات اور ان کے حسن عاقبت کے سلسلے میںلکھی گئی ہیں ان کا ذکر فرمایا ہے اور چالیس حدیثیں ان کے ایمان کے اثبات میں نقل کی ہیںاور جلد ہشتم کے آغاز میںبھی اس سلسلے میں مخالفوں کے اعتراضات اور شبہات کا جواب دیاہے۔
۹۔ڈاکٹر عباس زریاب،سیرۂ رسول خدا(تہران:سروش ،ج۱،۱۳۷۰)،ص۱۷۸  اور ۱۷۹۔

   
 
 
 
 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11