Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186880
Published : 24/4/2017 18:21

سپاہ صحابہ کی شدت پسندی اور اس کی تباہ کاریاں

سپاہ صحابہ»کے وجود اور اس کے جنم کی اصل علت تشیع سے لاحق ہونے والے احتمالی خطرات اور اس کی عسکری ولشکری طاقت میں اضافہ ،نیز علاقہ میں اس کے سیاسی اور مذہبی نفوذ کے بڑھنے کا خوف تھا،ان اعداد و شمار کے مطابق جنکا اعلان«پرویز مشرف»(پاکستان کے سابق صدر اور جنرل )نے کیا تھا ،صرف ایک سال میں دونوں طرف سے ہونے والے حملوں کے نتیجے میں چار سو افراد مارے جا چکے ہیں۔

ولایت پورٹل:بر صغیر ہند میں صدیوں سے شیعہ اور سنی ایک دوسرے کے شانہ بشانہ زندگی گذارتے چلے آرہے تھے یہاں تک کہ شدت پسند وہابیوں بنام سپاہ صحابہ نے شیعوں کا قتل عام کرنا شروع کیا اور سفاکانہ دہشت گردی کے ذریعہ مسلمانوں کابے دردی سے خون بہایا،ان میں مرد، عورتیں بوڑھے،بچے وغیرہ سبھی کو تہہ تیغ کیا،بالآخر یہ لوگ بھی بعض مواقع پر مقابلے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور ماحول میں بد امنی پھیل گئی۔
اس گروہ«سپاہ صحابہ»کا وجود اور سرگرمیاں دنیا کی خبررساں ایجنسیوں کی نظر میں کچھ اس طرح ہیں:
سپاہ صحابہ کے افراد جو اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام (ص)کے دین کے پیروکار ہیں اور اس اعتبار سے اپنے کو سپاہ صحابہ کہتے ہیں،انتہا پسندوں کا ایک گروہ ہے جو اہل سنت کا ایک فرقہ ہے،یہ گروہ ۱۹۸۰ء  کے اوائل میں ایک سنی عالم مولانا حق نواز جھنگوی کے توسط سے وجود میں آیا جو انقلاب اسلامیٔ ایران کا ابتدائی دور تھا،اس کے قیام کا مقصد پاکستان کے لوگوں میں انقلاب اسلامیٔ ایران کے اثرات کو روکنا تھا۔
اس گروہ کا سب سے اہم مقصد امام حسین(ع) کی عزاداری کو روکنا تھا،در حقیقت یہ لوگ امام حسین(ع)کے انقلاب کو بے اثر ثابت کرنا چاہتے تھے چنانچہ خلافت راشدہ میگزین اپنی اشاعت کے برسوں کے دوران یہ گروہ ان مطالبات کو پیش کرنے کے ساتھ ہی پاکستانی حکومت سے یہ مطالبہ کرتا آیا ہے کہ تمام امام بارگاہوں اور حسینیوں کوبند کردیا جائے اور تمام مدارس اور کالجوں میں عاشورا کی عزاداری کے مراسم  کے انعقاد پر پابندی لگائی جائے،البتہ اس قسم کے مطالبات پاکستانی حکومت کی طرف سے کبھی بھی قبول نہیں کئے گئے۔
اس گروہ کے دوسرے مقاصد میں شیعہ پارٹی بنام «تحریک جعفری»سے مقابلہ کرنا تھا جس کی بنیاد  ۱۹۷۹ء میں ڈالی گئی تھی۔
«سپاہ صحابہ»کے وجود اور اس کے جنم کی اصل علت تشیع سے لاحق ہونے والے احتمالی خطرات اور اس کی عسکری ولشکری طاقت میں اضافہ ،نیز علاقہ میں اس کے سیاسی اور مذہبی نفوذ کے بڑھنے کا خوف تھا۔
ان اعداد و شمار کے مطابق جنکا اعلان«پرویز مشرف»(پاکستان کے سابق صدر اور جنرل )نے کیا تھا ،صرف ایک سال میں دونوں طرف سے ہونے والے حملوں کے نتیجے میں چار سو افراد مارے جا چکے ہیں۔
سپاہ صحابہ نے شیعوں پر حملہ کرنے کے علاوہ ان ایرانیوں کو بھی اپنے حملوں کا نشانہ بنایا جو پاکستان میں مقیم تھے،انہوں نے یہ بہانہ بنایا کہ یہ لوگ ایرانی حکومت سے حمایت حاصل کرتے ہیں لہٰذا ان کا خاتمہ ہونا چاہیئے۔
یہ گروہ یہ چاہتا ہے کہ پاکستان سرکاری طور پر سنی آبادی والا ملک قرار پائے۔
اس گروہ کے زیادہ ترعسکری ٹھکانے اور محاذ جنوبی پاکستان کے مرکزی علاقہ «پنجاب» کے اطراف اور کراچی کے باہری حدود میں واقع ہیں۔
ان کے دفاتر اورسرگرمی کے مراکز تقریباً ۵۰۰ سے زیادہ ہیں اورپنجاب صوبہ کے ہر حصہ میں ان کی برانچیں موجود ہیں،تقریباً ایک لاکھ افرادا س کے ممبر ہیں،دوسرے ملکوں میں بھی اس کے دفاتر اور مراکز ہیں جیسے متحدہ عرب امارات سعودی عرب،بنگلہ دیش ،کینڈا ۔۔۔وغیرہ کہ جہاں سے ان کی سرگرمیاں جاری ہیں۔
پنجاب صوبہ میں اکثر مدارس اور اسکول اس گروہ کے زیر تسلط ہیں،بتایا جاتا ہے کہ پاکستانی ملک سے باہر اکثر سنی مدرسے «سپاہ صحابہ»گروہ کے اساتذہ اور علماء کے زیر نگرانی چل رہے ہیں اور یہ لوگوں کو اپنے مخالفین کو قتل کرنے کی ٹریننگ دیتے ہیں۔
«مولانا جھنگوی»کو  ۱۹۹۰ء میں مار ڈالا گیا، وہ اسی سال قومی اسمبلی کے الیکشن میں کھڑا ہوا لیکن منہ کی کھانی پڑی پھر بھی وہ اپنے افراد کے درمیان مقبول و محبوب تھا،اس کے بعد مولانا اعظم طارق نے اس گروہ کی ذمہ داری سنبھالی۔
گروہ «سپاہ صحابہ»طالبان فوجیوں کے ذریعہ حمایت یافتہ تھا اور اعظم طارق نے بھی کھلم کھلا طالبان کے لئے اپنی حمایت کا اعلان کیاتھا،وہ بھی ٹیلی ویژن اور سینما کے حرام ہونے پر مبنی قوانین کی شدت سے حمایت کرتا تھا۔
اعظم طارق شروعات میں«لشکر جھنگوی»کی حمایت کرتا تھا لیکن بعد میں فروری ۲۰۰۳ء۔ میں اس نے«لشکر جھنگوی»سے اپنے تعلقات منقطع کرلئے اور اعلان کیا کہ لشکر صحابہ کے بعض افراد اسلامی قوانین کو لاگو کرنے پر مبنی ہماری مصلحانہ روش کے مخالف ہوکر«لشکر جھنگوی» بنا بیٹھے ہیں اس لئے آج سے ہمارا ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
اعظم طارق پریہ الزام ہے کہ وہ تقریباً۱۰۳معاملوں میں اہم شیعہ شخصیتوں کے قتل میں ملوث ہے۔
اس گروہ کی آمدنی کا ایک ذریعہ سعودی عرب اورخلیج فارس میں موجود انتہا پسند سنیوں کا ایک مالدار اور متموّل طبقہ ہے جو امداد بہم پہنچاتا ہے اور کبھی کبھی دوسری جانب ملک کے اندر موجود جماعت اسلامی اور جماعت علماء اسلامی نیز اسی طرح کے دوسرے ہم عقیدہ متعصب افراد کی جانب سے بھی ان کی مالی مدد ہوتی رہی ہے۔
۱۴ ؍اگست  ۲۰۰۱ء ۔ کو پاکستانی سرکار نے یہ طے کیا کہ شدت پسند گروہ پر لگام لگائی جائے،اس فیصلہ کے پانچ مہینے تک سپاہ صحابہ گروہ نے اُسی طرح اپنی کاروائیوں کو جاری رکھا جس کے نتیجہ میں پرویز مشرف  نے۱۲ ؍ جنوری  ۲۰۰۲ء۔ کو ان کی کاروائیوں کو ممنوع قرار دے دیا اور سپاہ صحابہ پر حکومتی حملہ ہوا اور بہت سے افراد قید کر لئے گئے۔
اس واقعہ کے بعد اعظم طارق نے اپنی کاروائیاں نئے نام ـ«ملت اسلامیہ» کے تحت شروع کیں اور بہت سا پیسہ اپنے غیر ملکی طرفداروں سے وصول کیا۔
۱۵ ؍نومبر ۲۰۰۳ء۔ کو پاکستانی سرکار نے اس پر بھی پابندی عائد کردی اور اس کے ممبران کو گرفتار کر لیا نیز ان کے بینک کھاتوں کومنجمد کر دیااور ان کے اجتماعات پر خواہ گھروں میں ہوں یا مسجدوں میں حملہ کیا گیا۔
پاکستانی حکومت نے اس مقصد سے کہ کہیں پھر کسی دوسرے نام سے یہ لوگ کام کرنا شروع نہ کر دیں تقریباً ۶۰۰ گرفتار شدہ افراد پر ایک ایک لاکھ روپیہ کا جرمانہ لگا دیا۔
اکتوبر  ۲۰۰۱ء۔ کے شروع میں «اعظم طارق خان»کو گرفتار کر لیا گیا اور اس نے اسی قید کی حالت میں ۱۰ ؍ اکتوبر ۲۰۰۱ء۔ کے انتخابات میں شرکت کی اور کامیابی حاصل کر کے پنجاب صوبے کی اسمبلی میں بعنوان ممبر منتخب ہو گیا جس کے نتیجے میں ۳۰ ؍اکتوبر کو اسے چھوڑ دیا گیا۔
اس  نے اپنی رہائی کے چند مہینے تک «ظفر اللہ خان جمالی»کی منتخب حکومت کی حمایت کی اورساتھ ہی شیعوں کے خلاف اپنی انتہا پسندانہ اور دہشت گردانہ کاروائیوں کو جاری رکھا۔
بالآخر اسے ۶؍اکتوبر ۲۰۰۳ء۔ کو قتل کر دیا گیا،اس کے قتل کے بعد علاقہ میں حفاظتی فوجی عملے کو تعینات کردیا گیا پھر دوسرے دن اس کی قیادت میں چلنے والے مدرسے کے افراد نے بڑے ہنگامے کے ساتھ اس کی تشییع جنازہ میں شرکت کی اور اسلام آباد اسمبلی کے سامنے نماز جنازہ پڑھائی، نماز کے بعد شرکت کرنے والوں نے شہر میں بڑا ہنگامہ مچایا،ہوٹلوں،دکانوں اور سنیما گھروں پر حملہ کرکے ان میں سے کچھ میں آگ لگا دی جس کے نتیجے میں بہت سا مالی خسارہ برداشت کرنا پڑا ،بہر حال،سپاہ صحابہ ،ایک شدت پسند، سخت گیر اور بے رحمانہ قتل و غارت گری کے نام سے یاد کئے جانے والا گروہ ہے جس نے مسجدوں ، امامبارگاہوں اور نماز گذاروں تک کو نہیں بخشا ،پاکستان کا چپہ چپہ ان کے ذریعے وجود میں لائے جانے والے خونی واقعات کا گواہ ہے۔
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11