Wed - 2019 January 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187412
Published : 23/5/2017 17:42

وہابی قیادت کی تعلیمات میں تشدّد(۱)

بعض مؤرخین نے اس حملہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد ڈیڑھ لاکھ لکھی ہے،بتاتے ہیں کہ کربلا کی گلیوں کی نالیوں میں خون بہنے لگا تھا اور اس پر طرہ یہ کہ اسے جہاد فی سبیل اللہ اور نشر توحید کے لئے مقابلہ کا نام دیاگیا۔

ولایت پورٹل:قارئین کرام! سب سے پہلے ہم وہابیوں کے پیشوا اور رہبر کی تاریخ زندگی پر مشرق و مغرب کے تاریخ نویسوں کی تحریروں سے ماخوذ ایک مختصر رپورٹ آپ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں،اس کے بعد اپنے اصلی موضوع کی طرف آپ کی توجہات کو مبذول کریں گے۔
مشہور ہے کہ وہابی مسلک کے پیشوا محمد بن عبدالوہاب نے سن ۱۱۱۵ہجری میں حجاز کے ایک چھوٹے سے دیہات«عُیینہ»میں آنکھ کھولی اور ۱۲۰۷ہجری میں وفات پائی۔
اس کا باپ حنبلی فرقے کا قاضی تھا اور بچپن میں اسے خود تعلیم دیتا تھا،صاحب کتاب«ازالة الشبهات»لکھتے ہیں کہ وہ بچپن میں ابن تیمیہ اور ابن قیّم کی کتابوں کے پڑھنے میں بہت دلچسپی رکھتا تھا جو کہ آٹھویں صدی ہجری میں پیدا ہوئے تھے اور اس نے اپنی فکر کی سرشت کو انہیں دونوں سے آراستہ کیا تھا۔
بہت سے لوگوں نے لکھا ہے کہ اس کے باپ نے بہت پہلے ہی سمجھ لیا تھا کہ فکری اعتبار سے یہ بچہ بہت سی غلطیوں کا شکار ہے چنانچہ اس کے مستقبل سے وہ بہت پریشان تھا اور ہمیشہ اس کی ان باتوں پر ملامت کرتا رہتا اور متنبہ کیا کرتا تھا اس نے بہت زیادہ سفر کئے ،مدتوں مدینہ اور مکہ میں رہا پھر بصرہ چلا گیا، وہاں سے ایران آیا، اصفہان میں اس نے ایک عالم میرزا جان اصفہانی سے درس پڑھا پھر قم گیا،کچھ مدت وہاں رہا بعد میں عثمانی حکومت کے شہروں اور شام ومصر گیا،آخر میں جزیرۃ العرب«نجد»‘واپس آگیا اور اس نے اپنے عقیدہ کا اظہار کرنا شروع کردیا۔
ابتداء میں بعض جماعتوں نے اس کی مخالفت کی اور شہر حریملہ سے اسے نکال باہر کر دیا،یہ شخص اپنے گاؤں«عُیینہ»آگیا اس کے غلط افکار کی خبر احساء و قطیف،کے حاکم سلیمان بن محمد کو ملی، اس نے عیینہ کے حاکم عثمان کو حکم دیا کہ اس کو قتل کر دے لیکن چونکہ عثمان نے اس  کے قتل میں اپنے ہاتھ کو ملوث کرنا نہیں چاہا اس لئے اس کو وہاں سے دربدر کردیا۔
آخر کار شہر«درعیہ»میں اس نے پناہ لی،اس علاقہ کاحاکم«غنیزہ قبیلہ»کا ایک شخص بنام محمد بن سعود تھا،شیخ محمد بن عبد الوہاب نے اس سے ملاقات کی اور اپنے نظریات کو اس کے سامنے پیش کیا اور اس سے وعدہ کیا کہ اگر وہ اس کی مدد کرے تو تمام حجاز پرتسلّط حاصل کیا جاسکتا ہے، سعودی حکمرانوں کے جد اعلیٰ محمد بن سعود نے محسوس کیا کہ محمد بن عبد الوہاب سے مدد لے کر اپنی حکومت کے دائرہ کو بڑھایا جاسکتا ہے،کیونکہ اس نے دیکھا کہ جوانوں کا ایک گروہ اس کا طرفدار اور حلقہ بگوش ہے جو اس کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں بہترین ذریعہ اور طاقت شمار ہوسکتا ہے۔
چنانچہ«ابن سعود»نے شیخ کی مدد کا دو شرطوں کے ساتھ وعدہ کیا، پہلی شرط یہ تھی کہ شیخ اس کے علاوہ کسی دوسرے سے رابطہ قائم نہیں کرے گا،دوسری شرط یہ تھی کہ در عیہ کے لوگوں سے جو سالانہ ٹیکس وصول کیا جاتاہے وہ بھی قائم رہے گا،شیخ نے پہلی شرط تو مان لی لیکن دوسری شرط کایہ اشارہ کرکے انکار کر دیا کہ امید ہے کہ فتوحات اور غنائم کی صورت میں ملنے والا سامان درعیہ کے لوگوں کے ذریعہ ادا کردہ ٹیکس سے کہیں زیادہ ہوگا جو تمہیں نصیب ہوگا۔
یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ شیخ محمد نے جس غنیمت کی طرف اشارہ کیا تھا وہ مکہ و مدینہ اور حجاز میں رہنے والے مسلمانوں اور ان سبھی اسلامی ملکوں کے باشندے تھے جنہوں نے اس کی پیروی نہیں کی تھی کیونکہ جیسا کہ ہم نے پہلے بتایا وہ سبھی مسلمانوں کو مشرک سمجھتا تھا اور ان کے خون اور اموال پر تصرف کو مباح جانتا تھا۔
محمد بن عبد الوہاب کے پیروکاروں نے حجاز کے مختلف شہروں پر حملہ کر دیا اور وہابیت کے فروغ بلکہ در حقیقت ملکی توسیع کی خاطر بھیانک قتل عام اور خونریزی شروع کی اور بہت سا مال واسباب لوٹ لیا۔
محمد بن عبد الوہاب کی موت کے بعد سعودی بادشاہوں نے اس کے نظریات کو جاری رکھا اور اپنی حکومت کے دائرہ کو وسیع سے وسیع تر کرتے گئے یہاں تک کہ پورے نجد و حجاز پر قبضہ کر لیا،ان کے وحشیانہ اور بہیمانہ اعمال جو تاریخ وہابیت میں درج ہیں یہاں تک کہ وہابی تاریخ نویسوں نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے کہ:طائف کے لوگوں کا قتل عام اور اس سے زیادہ وحشتناک و بھیانک عراق اور کربلا کے لوگوں کا بے رحمانہ قتل عام تھا۔
وہابیوں نے ۱۲۱۶ہجری کے بعد (محمد بن عبد الوہاب کی موت کے تقریباً دس سال بعد ) مال غنیمت کے حصول اور ملکی توسیع کی غر ض سے بظاہر توحید (ان کے زعم ناقص میں جو توحید تھی)کے پیغام کو نشر کرنے کے لئے کئی مرتبہ نجف اور کربلا پر حملہ کیا۔
ایک مرتبہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہ امام علی علیہ السلام کی زیارت کے ایام تھے اور کربلا کے زیادہ تر لوگ زیارت کیلئے نجف اشرف تشریف لائے تھے،کربلا پر اچانک حملہ کر دیا، شہر کی دیوار کو توڑ ڈالا اور شہر میں داخل ہو گئے، شہر کے بازاروں اور گلیوں میں ہزاروں مردوں عورتوں ،بچوں اور بوڑھوں کا خون بہایا جو بھی ان کے سامنے آیا بر باد کر دیا،امام حسین(ع)کے روضہ پر حملہ کرکے جو بھی اس کے اندر تھا تہہ تیغ اور قیمتی جواہرات اور سامان لوٹ کر اپنے ساتھ لے گئے۔
بعض مؤرخین نے اس حملہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد ڈیڑھ لاکھ لکھی ہے،بتاتے ہیں کہ کربلا کی گلیوں کی نالیوں میں خون بہنے لگا تھا اور اس پر طرہ یہ کہ اسے جہاد فی سبیل اللہ اور نشر توحید کے لئے مقابلہ کا نام دیاگیا۔
کربلا کے ان خونیں واقعات کا تذکرہ مشرق و مغرب کے بہت سے مورخین حتی کہ سعودی تاریخ نویسوں نے بھی کیا ہے۔ آپ حضرات« تاریخ المملکة العربیة السعودیة» «عنوان المجد فی تاریخ نجد»،«تاریخ العربیة والسعودیة» جو کہ «ناسی لیف»نامی مستشرق دانشورکی لکھی ہوئی ہے اور سید جواد عاملی کی«مفتاح الکرامة» نیز دوسری کتابوں کی طرف رجوع کر سکتے ہیں ۔(وہابیت کے عقائد اور ان کے واقعات سے مزید آگاہی کے لئے درج ذیل کتابوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
۱۔الاسلام فی القرن العشرین۔
۲۔جزیرۃ العرب فی القرن العشرین۔
۳۔تاریخ المملکة السعودیة۔
۴۔تاریخ نجد آلوسی۔
۵۔کشف الارتیاب۔
۶۔مرحوم فقیہی کی کتاب:«تاریخ وهابیان»۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2019 January 16