Wed - 2019 January 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187429
Published : 24/5/2017 16:56

وہابی قیادت کی تعلیمات میں تشدّد(۲)

محمد بن عبد الوہاب کہتا ہے:دو وجوہات سے ہمارے زمانے کے مشرکین،پیغمبر(ص) کے زمانے کے مشرکین سے بد تر ہیں:پہلی وجہ: پیغمبر اسلام (ص) کے زمانے کے مشرکین صرف سکون و اطمینان کی حالت میں غیر خدا سے متوسل ہوتے تھے لیکن قرآنی آیات کے مطابق جب وہ بلا اور مصیبت میں مبتلا ہوتے تھےتو خدا کو مخلصانہ پکارتے تھے،لیکن ہمارے زمانے کے مشرکین دونوں حالت میں غیر خدا سے متوسل ہوتے ہیں،دوسری وجہ: ایام جاہلیت کے مشرکین تو پتھر اور لکڑیوں کی پرستش کرتے تھے جو کہ اللہ کی مطیع اور اس کی مخلوق ہے لیکن ہمارے زمانے کے مشرکین فاسق لوگوں کی پرستش کرتے ہیں۔

ولایت پورٹل:
قارئین کرام! گذشتہ کالم میں ہم نے نہایت ہی اختصار کے ساتھ بانی فرقہ وہابیت محمد بن عبد الوہاب کے حالات کو آپ کی خدمت میں عرض کیا نیز خاندان سعود سے شیخ کے روابط کی تفصیل قدرے بیان ہوئی ،ہم آج ہم اصلی بحث یعنی«وہابی قیادت اور شدت پسندی» کے کچھ اہم نمونہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں،لہذا اس کالم کو ابتداء سے مطالعہ کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
وہابی قیادت کی تعلیمات میں تشدّد(۱)
گذشتہ سے پیوستہ:آئیے ہم اپنی اصل بحث«وہابیت میں شدت پسندی کی جڑیں»کی طرف پلٹیں،محمد بن عبد الوہاب نے کچھ چھوٹی موٹی کتابیں لکھی ہیں جس میں اس نے اپنے عقائد کو کھلم کھلا بیان کیا ہے،وہ اسلامی علوم سے بہت کم آگاہ تھا،اس نے کبھی بھی اسلام کی اہم علمی درسگاہوں اور دینی مدارس میں یا سابق کے بزرگ علماء دین سے زیادہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی جس کے نتیجے میں بہت زبردست غلطیوں کا شکار تھا اور صد افسوس کہ وہ اپنی غلطیوں پر شدت سے بضد بھی رہا۔
اس کی کتابوں میں ایک چھوٹی سی کتاب«کشف الشبهات»ہے (جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے) اکثریت پر مشتمل اہلسنت علماء کے جوابات میں لکھی گئی ہے جنہوں نے اس کے افکار پر اعتراضات کئے تھے۔(۱)
اس کتاب کا مطالعہ اور تحقیق ہی وہابیوں کے عقائد میں تشدّد کی جڑوں کے سمجھنے کے لئے کافی ہے۔
۱۔توحید اور شرک کے سلسلے میں مذکورہ شخص کے غلط تصورات ہیں اور جیسا کہ آئندہ بحثوں میں آئے گا وہ ان تمام لوگوں کو جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واسطے سے عند اللہ شفاعت کا تقاضہ کرتے ہیں جو کہ آیات و روایات کے عین مطابق ہے ،مشرک و کافر جانتا ہے اور ان کی جان و مال اور ناموس کو مباح سمجھتا ہے۔(۲)
یقینی طور پر تمام مسلمان خواہ سنی ہوں یا شیعہ (وہابیوں کوچھوڑ کر )پیغمبر اکرم(ص) کے ذریعہ بارگاہ پروردگار میں شفاعت طلب کرتے ہیں پس اسی بنا پر اس کے نزدیک سارے لوگ کافر ہیں لہٰذا جان و مال نیز ان کی عورتیں وہابیوں پر حلال اور جائز ہیں۔
۲۔اس سے آگے بڑھ کر وہ صاف لفظوں میں کہتا ہے:
دو وجوہات سے ہمارے زمانے کے مشرکین،پیغمبر(ص) کے زمانے کے مشرکین (آنحضرت(ص) نے جن سے جنگ کی)سے بد تر ہیں۔
اولاً: پیغمبر اسلام (ص) کے زمانے کے مشرکین صرف سکون و اطمینان کی حالت میں غیر خدا سے متوسل ہوتے تھے لیکن قرآنی آیات کے مطابق جب وہ بلا اور مصیبت میں مبتلا ہوتے تھے(مثلاً کشتی میں سوار ہوں اور دریائی موجوں میں پھنس جائیں )تو خدا کو مخلصانہ پکارتے تھے:«فَاِذَا رَکِبُوْا فِی الْفُلْکِ دَعَوُااللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ فَلَمَّا نَجَّاھُمْ اِلَی الْبَرِّ اِذَا ھُمْ یُشْرِکُوْنَ»۔(۳) ۔لیکن ہمارے زمانے کے مشرکین دونوں حالت میں غیر خدا سے متوسل ہوتے ہیں آرام و اطمینان اور مصیبت و بلا دونوں میں۔
ثانیاً:ایام جاہلیت کے مشرکین تو پتھر اور لکڑیوں کی پرستش کرتے تھے جو کہ اللہ کی مطیع اور اس کی مخلوق ہے لیکن ہمارے زمانے کے مشرکین فاسق لوگوں کی پرستش کرتے ہیں (ظاہراً یہاں صوفیوں کے سردار مراد ہیں) اس لحاظ سے ان کا خون اور مال نیز ناموس اور بھی زیادہ مباح ہوجاتے ہیں۔
یہ نتائج در حقیقت ان کی غلط فہمیوں کی دین ہیں۔ کسی دن ہم اس حقیقت سے بھی پردہ ہٹائیں گے۔یہاں ہمارا مقصد صرف غیر وہابی مسلمانوں کی جان و مال کی بہ نسبت ان کی شدت پسندی اور تشدّد کو روشن کرنا ہے۔(۴)
۳۔ان کی دشمنی اور شدت پسندی کی دوسری مثال یہ ہے کہ اپنے مخالفین(جو علماء اہل سنت کے بزرگ علماء کا ایک گروہ ہے) کو بات چیت کے وقت برے اور توہین آمیز القاب سے مخاطب قرار دیتے ہیں،ایک جگہ کہتے ہیں: أَیُّھَاالْمُشرِک !(اے مشرک )۔(۵)
دوسری جگہ کہتے ہیں:اَعدَاء اللّٰهِ!(دشمنان خدا )۔(۶)
ایک جگہ کہتے ہیں:لِلْمُشْرِکِیْن شُبْھَةٌ اُخرَیٰ !(مشرکین کا دوسرا اعتراض)۔(۷)
پھر کہتے ہیں:ھَؤُلَاءِ الْمُشْرِکِیْنَ الْجُھَّالُ !(یہ جاہل مشرکین )۔(۸)
ایک مقام پر کہتے ہیں:اَعدَاء التَّوْحِیْدِ!(دشمنان توحید)۔(۹)
دوسری جگہ کہتے ہیں:ایک جاہل عام انسان مشرک علماء پر، یعنی ان مسلمان عالموں پر جو شفاعت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ایسے ہزاروں لوگوں پر تسلط حاصل کرسکتا ہے۔(۱۰)
جیسا کہ پہلے اشارہ کیا جا چکا ہے کہ اس مسلک کا پیشوا اسلامی معلومات سے بے بہرہ تھا اور ایسا لگتا ہے کہ بزرگ علماء اہل سنت کے جوابات سے بہت غضبناک ہوجاتا تھا اسی لئے انہیں مختلف اہانت آمیز کلمات سے مخاطب کرتا ہے اور سب پر شرک و کفر و جہالت کا الزام لگاتا ہے جبکہ قرآن مجید صراحت کے ساتھ اعلان کر رہا ہے کہ:جو کوئی اسلام کا اظہار کرے اور مصالحت کے ساتھ پیش آئے تو یہ نہ کہو کہ تم مسلمان نہیں ہو تاکہ ان کے اموال پر بعنوان غنیمت قبضہ کر سکو۔«وَلَا تَقُوْلُوا لِمَنْ أَلْقَی أِلَیْکُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِناً تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا»۔(۱۱)
......................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔ ان افراد میں جنہوں نے اس رسالہ پر شرح لکھی ہے محمد بن صالح العثیمین کا نام شامل جوہے کہ نسبتاً اعتدال پسند اور پڑھا لکھا تھا لیکن بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس نے اپنے مقام و منصب کے چلے جانے کے خوف سے یا ازروئے تقیہ محمد بن عبد الوہاب کی باتوں کا جواز پیش کیا ہے (سوائے کچھ مواقع کے)اور میں نے جو نقل کیا ہے وہ اس کتاب کے متن سے ہے۔
۲۔شرح کشف الشہبات عثیمین، ص۸۱۔
۳۔سورۂ عنکبوت:۶۵۔
۴۔اِعْلَم أَنّ شِرْکَ الَاوَّلِینَ أَخَفُّ مِن شِرْکِ اَھلِ زَمَانِنَا بِأَمْرَین: أَحَدُھُمَا: اِنَّ الَاوَّلِیْن لَا یُشرِکُونَ وَلَایَدْعُون الْمَلَائِکَۃ وَالْاَوْلِیَائَ وَالْاَوْثَانَ مَعَ اللّٰہِ أِلَّا فِی الرَّخَائِ وَ أَمَّاالشِّدَّۃُ فَیَخلِصُونَ لِلّٰہِ الدُّعَائَ کَمَا قَالَ تَعَالیٰ: فَاِذَا رَکِبُوا فِی الْفُلْکِ۔۔۔) الْاَمرُ الثَّانِی:اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اُنَاساً مُقَرَّبِیْنَ عِنْدَاللّٰہِ۔۔۔۔وَاَھْلَ زَمَانِنَا یَدعُونَ اُنَاساً مَن اَفسِقُ النَّاسِ:شرح کشف الشبھات،ص۱۰۰۔
۵۔شرح کشف الشبھات،ص۷۷۔
۶۔ایضاً،ص۷۹۔
۷۔ایضاً،ص۱۰۹۔
۸۔ایضاً،ص۱۲۰۔
۹۔ ایضاً،ص۶۵۔    
۱۰۔ایضاً،ص۶۸۔    
۱۱۔ نساء:۹۴۔

 
 
 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2019 January 16