Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187458
Published : 25/5/2017 18:44

علم بہتر یا مال(نہج البلاغہ کا ایک سبق)

اے کمیل!یاد رکھو!کہ علم مال سے بہتر ہے (کیونکہ)علم تمہاری حفاظت کرتا ہے اورمال کی تمہیں حفاظت کرنی پڑتی ہے اور مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے لیکن علم صرف کرنے سے بڑھتا ہے ،اور مال و دولت کے نتائج و اثرات مال کے فنا ہونے سے فنا ہوجاتے ہیں۔
ولایت پورٹل:کمیل ابن زیاد نخعی کہتے ہیں کہ:امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑا اور قبر ستان کی طرف لے چلے جب آبادی سے باہر نکلے تو ایک لمبی آہ بھری اور فرمایا:
اے کمیل !دل اسرار و حکمتوں  کے ظروف ہیں اور لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو ان کی زیادہ حفاظت کرنے والا ہو،لہٰذا میں جو  تمہیں بتاؤں اسے یاد رکھنا۔
دیکھو!دنیا میں تین قسم کے لو گ پائے جاتے ہیں ایک عالم ربانی دوسرا متعلم کہ جو نجات کی راہ کا متلاشی ہے اور تیسرا گروہ وہ  عوام الناس ہیں کہ جو ہر پکارنے والے کے پیچھے چل پڑتا ہے اور ہر ہو اکے رخ پر مڑ جاتا ہے،نہ انہوں نے نور علم سے کسب ضیا کیا ،نہ کسی مضبوط سہارے کی پناہ لی۔
اے کمیل!یاد رکھو!کہ علم مال سے بہتر ہے (کیونکہ)علم تمہاری حفاظت کرتا ہے اورمال کی تمہیں حفاظت کرنی پڑتی ہے اور مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے لیکن علم صرف کرنے سے بڑھتا ہے ،اور مال و دولت کے نتائج و اثرات مال کے فنا ہونے سے فنا ہوجاتے ہیں۔
اے کمیل !علم کی شناسائی دین ہے کہ جس کی اقتداء کی جاتی ہے اسی سے انسان اپنی زندگی میں دوسروں سے اپنی اطاعت کرواتا ہے اور مرنے کے بعد نیک نامی حاصل کرتا ہے،یاد رکھو کہ علم حاکم ہوتا ہے اور مال محکوم۔
اے کمیل !مال اکٹھا کرنے والے زندہ ہونے کے باوجود مردہ ہوتے ہیں اور علم حاصل کرنے والے رہتی دنیا تک باقی رہتے ہیں، بے شک ان کے اجسام نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں،مگر ان کی صورتیں دلوں میں موجود رہتی ہیں (اس کے بعد حضرت نے اپنے سینہ اقدس کی طرف اشارہ کیا اورفرمایا)دیکھو!یہاں علم کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے کاش اس کے اٹھانے والے مجھے مل جاتے،ہاں ملا ،کوئی تو،یا ایسا جو ذہین تو ہے مگر ناقابل اطمینان ،اور جودنیا کے لیے دین کو آلہ کار بنانے والا، اور اللہ کی ان نعمتوں کی وجہ سے اس کے بندوں پر اور اس کی حجتوں کی وجہ سے اس کے دوستوں پر تفوق و برتری جتلانے والا ،یا جو ارباب حق و دانش کا مطیع تو ہے مگر اس کے دل کے گوشوں میں بصیرت کی روشنی نہیں ہے،بس ادھر ذرا سا شبہہ عارض ہوا کہ اس کے دل میں شکوک و شبہات کی چنگاریاں بھڑکنے لگیں تو معلوم ہونا چاہیے کہ نہ یہ اس قابل ہے اور نہ وہ اس قابل ہے یا ایسا شخص ملتا ہے کہ جو لذتوں پر مٹا ہوا ہے اور بآسانی خواہش نفسانی کی راہ پر کھنچ جانے والا ہے یا ایسا شخص جو جمع آوری و ذخیرہ اندوزی پر جان دیئے ہوئے ہے یہ دونوں بھی دین کے کسی امر کی رعایت و پاسداری کرنے والے نہیں ہیں ان دونوں سے انتہائی قریبی شباہت چرنے والے چوپائے رکھتے ہیں ،اسی طرح تو علم کے خزینہ داروں کے مرنے سے علم ختم ہوجاتا ہے۔
ہاں !مگر زمین ایسے افراد خالی نہیں رہتی کہ جو خدا کی حجت کو برقرار رکھیں، چاہے وہ ظاہر و مشہور ہو، یا خائف و پنہاں، تاکہ اللہ کی دلیلیں اور نشان مٹنے نہ پائیں اور وہ ہیں ہی کتنے اور کہاں پر ہیں۔؟
خدا کی قسم وہ تو گنتی میں بہت تھوڑے ہیں،اور اللہ کے نزدیک قدرومنزلت کے لحاظ سے بہت بلند،خداوند عالم ان کے ذریعہ سے اپنی حجتوں اور نشانیوں کی حفاظت کرتا ہے،یہاں تک کہ وہ ان کو اپنے ایسوں کے سپرد کردیں اور اپنے ایسوں کے دلوں میں انہیں بودیں،علم نے انہیں ایک دم حقیقت و بصیرت کے انکشافات تک پہنچا دیا ہے،وہ یقین و اعتماد کی رو ح سے گھل مل گئے ہیں اور ان چیزوں کو جنہیں آرام پسند لوگوں نے دشوار قرار دے رکھا تھا اپنے لیے سہل و آسان سمجھ لیا ہے اور جن چیزوں سے جاہل بھڑک اٹھتے ہیں ان سے وہ جی لگائے بیٹھے ہیں،وہ ایسے جسموں کے ساتھ دنیامیں رہتے سہتے ہیں کہ جن کی روحیں ملاء اعلیٰ سے وابستہ ہیں یہی لوگ تو زمین میں اللہ کے نائب اور اس کے دین کی طرف دعوت دینے والے ہیں،ہائے ان کی دید کے لیے میرے شوق کی فراوانی (پھر حضرت نے کمیل سے فرمایا)اے کمیل !(مجھے جو کچھ کہنا تھا کہہ چکا )اب جس وقت چاہو واپس چلے جاؤ۔

کلمات قصار:نھج البلاغۃ


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18