Wed - 2019 January 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187474
Published : 27/5/2017 13:25

ماہ رمضان المبارک میں پیغمبر اکرم(ص) کا خطبہ

اے لوگوں! تمہاری جانیں تمہارے اعمال کے گروی ہیں، لہٰذا خدا سے مغفرت طلب کرنے کے ساتھ گروی ہونے سے آزاد ہو جاؤ اور تمہاری پشت گناہوں کے بوجھ سے گراں بار ہے، لہٰذا اس کو طولانی سجدے بجا لاکر ہلکا کر لو اور جان لو کہ خداوند عالم نے اپنی عزّت و جلالت کی قسم کھائی ہے کہ اِس مہینے میں نماز پڑھنے اور سجدے کرنے والوں پر عذاب نہیں کرے گا اور قیامت کے دن ان کو جہنم کی آگ سے نہیں ڈرائے گا۔

ولایت پورٹل:شیخ صدوق(رح) نے معتبر سند کے ساتھ امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام سے روایت کی ہے اور امام رضا علیہ السلام اپنے اجدا طاہرین کے واسطے سے مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت رسول خدا(ص)  نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:بتحقیق کہ ماہ رمضان المبارک (نزدیک) آگیا ہے، یہ خدا کا مہینہ ہے، برکت، رحمت اور گناہوں سے مغفرت کا مہینہ ہے، خداوند عالم کے نزدیک ایسا بہترین مہینہ ہے کہ اس کے دن، دوسرے تمام دنوں سے بہتر اور اس کے راتیں، دوسری تمام راتوں سے بہتر اور اس کے لحظات دوسرے تمام لحظات سے بہتر ہیں، یہ وہ (بابرکت) مہینہ ہے، جس میں خداوند عالم نے تم سب کو اپنی مہمانی کی دعوت دی ہے اور تم لوگ اس ماہ میں کرامت والے ہو، تمہاری سانسیں اس ماہ میں تسبیح اور تمہارا سونا عبادت ہے، اِس ماہ میں تمہارا عمل مقبول اور دعائیں مستجاب ہیں، لہٰذا خدا سے خالص نیت اور پاکیزہ دل کے ساتھ گناہوں اور برائیوں سے دور رہنے کا سوال کرو اور یہ کہ وہ تمہیں اس ماہ میں روزہ رکھنے اور تلاوتِ قرآن کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
بدبخت ہے وہ شخص، جو اِس ماہ میں خدا کی بخشش اور مغفرت سے محروم رہے۔
اس ماہ کی بھوک اور پیاس سے روز قیامت کی بھوک اور پیاس کو یاد کرو اور فقیروں، مسکینوں کو صدقہ دو اور اپنے بوڑھوں کی تعظیم اور ان کا احترام کرو اور بچّوں پر رحم کھاؤ، عزیز و اقارب کو نوازو اور اپنی زبان کو ان چیزوں سے محفوظ رکھو، جو نہیں کہنا چاہیے اور آنکھوں کو حرام مناظر سے محفوظ رکھو اور کانوں کو حرام آوازیں سننے سے بچاؤ۔ یتیموں کے ساتھ مہربانی سے پیش آؤ، تاکہ تمہارے بعد تمہارے یتیموں کے ساتھ مہربانی کی جائے اور گناہوں سے خدا کی بارگاہ میں توبہ کرو اور اپنے ہاتھوں کو نماز کے اوقات میں دعا کے لیے خدا کے حضور بلند کرو، کیونکہ اوقات نماز وہ بہترین گھڑیاں ہیں، جن میں خداوند عالم اپنے بندوں پر نظر رحمت کرتا ہے اور اگر وہ مناجات کرتے ہوں، تو وہ ان کو جواب دیتا ہے اور اگر وہ پکارتے ہوں، تو خداوند عالم لبیک کہتا ہے اور ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔
اے لوگوں! تمہاری جانیں تمہارے اعمال کے گروی ہیں، لہٰذا خدا سے مغفرت طلب کرنے کے ساتھ گروی ہونے سے آزاد ہو جاؤ اور تمہاری پشت گناہوں کے بوجھ سے گراں بار ہے، لہٰذا اس کو طولانی سجدے بجا لاکر ہلکا کر لو اور جان لو کہ خداوند عالم نے اپنی عزّت و جلالت کی قسم کھائی ہے کہ اِس مہینے میں نماز پڑھنے اور سجدے کرنے والوں پر عذاب نہیں کرے گا اور قیامت کے دن ان کو جہنم کی آگ سے نہیں ڈرائے گا۔
اے لوگوں! تم میں سے جو بھی کسی روزہ دار مؤمن کو اِس ماہ مبارک میں افطار کرائے ،خدا کے نزدیک اس کا اجر ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے اور اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے، یہ سن کر بعض اصحاب نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول(ص)! ہم میں سے ہر ایک اس پر قادر نہیں ہے،تو آنحضرت نے فرمایا:روزہ داروں کو افطار کراکے جہنم کی آگ سے بچو، چاہے آدھا کھجور کا دانہ ہی ہو یا چاہے ایک پانی کا گھونٹ ہی ہو،بتحقیق !خداوند عالم اس کو بھی وہی ثواب عطا کرے گا، اگر وہ اس سے زیادہ کی قدرت نہ رکھتا ہو۔
اے لوگوں! جو شخص اس مہینے میں اپنے اخلاق کو بہتر بنا لے، تو وہ اس دن پل صراط سے با آسانی گزر جائے گا، جس دن لوگوں کے قدم لغزش کھائیں گے اور جو شخص اس مہینے میں اپنے غلاموں اور کنیزوں کی خدمت کو آسان کر دے، خداوند اس کے حساب کو قیامت کے دن آسان کر دے گا اور جو شخص اس مہینے میں اپنے شرّ کو لوگوں سے دور کر دے، تو خدا بھی اپنے غضب کو روز قیامت اس سے دور کر دے گا اور جو شخص اِس مہینے میں یتیم کا احترام کرے، تو خداوند روز قیامت اس کا احترام کرے گا اور جو شخص اس مہینے میں اپنے عزیزوں کے ساتھ صلہ رحمی اور حُسن سلوک سے پیش آئے، تو خدا قیامت کے دن اس کو اپنی رحمت سے متّصل کرے گا اور جو شخص اس مہینے میں مستحب نمازیں بجا لائے، تو خداوند اس کے لیے جہنم سے دوری کا پروانہ لکھ دے گا اور جو شخص اِس مہینے میں قطع رحمی کرے، تو خداوند قیامت کے روز اس کے ساتھ قطع رحمی کرے گا اور جو شخص اس مہینے میں واجب نمازوں کو بجا لائے گا، خداوند اس کو دوسرے مہینوں کی ستّر واجب نمازوں کا ثواب عطا کرے گا اور جو شخص اِس مہینے میں مجھ پر زیادہ صلوات پڑھے، خدا وند اس کے اعمال کی ترازو کو سنگین بنادے گا، جس دن دوسروں کے اعمال کے پلڑے ہلکے ہوں گے اور جو شخص اِس مہینے میں قرآنِ کریم کی ایک آیت کی تلاوت کرے، تو گویا ایسے ہے جیسے اس نے دوسرے مہینے میں پورا قرآن ختم کیا ہو۔
اے لوگو! اِس ماہ میں بہشت کے دروازے کھلے ہیں، پس اپنے پروردگار سے سوال کرو کہ تم پر بند نہ کردے اور جہنم کے دروازے اس ماہ میں بند ہیں، پس اپنے پروردگار سے سوال کرو کہ وہ تمہارے لیے  کھول نہ دیئے جائیں اور شیطان اِس ماہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے، لہٰذا خدا سے سوال کرو کہ تم پر مسلّط نہ ہو جائے۔
حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: میں کھڑا ہوا اور عرض کی:«یَا رَسُوْلَ اللہِ مَا أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ فِیْ ھَذَا الشَّھْرِ؟ فَقَالَ: یَا أَبَا الْحَسَنِ! أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ فِی ھَذَا الشَّھْرِ اَلْوَرَعُ عَنْ مَحَارِمِ اللہِ عَزَّوَجَلَّ »۔
ترجمہ:اے اللہ کے رسول  اِس مہینے میں سب سے افضل و برتر عمل کیا ہے؟ تو آپ(ص) نے فرمایا: اے ابو الحسن! اِس مہینے کا بہترین اور افضل ترین عمل خداوند کے محرمات سے بچنا ہے۔
شیخ صدوق(رح) روایت کرتے ہیں کہ جب ماہ رمضان آتا تھا تو رسول خدا(ص)  ہر قیدی کو آزاد کر دیتے تھے اور ہر سائل کو عطا کرتے تھے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2019 January 16