Tuesday - 2018 Nov 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188085
Published : 29/6/2017 16:3

امت محمدی(ص) کے نقیب؟

بنیادی طور پرجوخلیفہ یا حکمراں لوگوں کے ذریعہ منتخب ہوتے ہیں یا بغاوت اور طاقت و قوت کے ذریعہ حکومت حاصل کرتے ہیں ان کی تعداد مشخص ومعین نہیں ہوتی یہ تو عام مسئلہ ہے اس کی اتنی اہمیت نہیں ہے کہ صحابہ اس کے بارے میں سوال کرتے تھے البتہ چونکہ ان کے سوالات دینی رنگ لئے ہوئے تھے لہٰذا تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس سوال سے ان کی مراد وہ خلفاء تھے جو خدا کی جانب سے ملت اسلامیہ کی امامت ورہبری کے ذمہ دار ہیں۔


ولایت پورٹل:قارئین کرام ! ہم نے گذشتہ چند مضامین میں امامت عامہ سے متعلق قرآن و حدیث سے چند شواہد و دلائل آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے جن میں مسلسل یہ گذارش کی تھی کہ رسول اللہ(ص) نے ہر وہ امر امت تک پہونچایا جو ان کی سعادت و کمال کا ضامن تھا،آپ نے نہایت ہی چھوٹے چھوٹے اعمال مثلاً مسواک کرنا،وضو کرنا یا اس کے علاوہ دیگر اعمال کہ جو صرف انفرادی عمل سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے لیکن بشری سعادت اور خیر خواہی میں مؤثر ہیں ان تک کو بھی امت کے سامنے بڑی وضاحت کے ساتھ پیش فرمایالہذا حضرت تمام امت کی اجتماعی بھلائی اور سعادت کو کیسےنظر انداز کرسکتے ہیں اور مسئلہ قیادت و رہبر کو کیسے خطاکار امت کے سپرد کرسکتے ہیں ؟قارئین! سابق مضمون کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
رسول اللہ(ص) کے بارہ خلیفہ  
گذشتہ سے پیوستہ:بارہ خلفاء کی احادیث کی وضاحت کرنے والی احادیث میں وہ حدیث بھی شمار کی جاسکتی ہے جسے احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں مسروق سے نقل کیا ہے،مسروق کہتے ہیں کہ ہم عبد اللہ بن مسعود کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمیں قرآن پڑھ کر سنا رہے تھے ایک شخص نے ان سے سوال کیا آپ حضرات (صحابہ) نے اس امت کی رہبری کرنے والے خلفاء کی تعداد کے بارے میں دریافت کیا تھا؟عبداللہ بن مسعود نے جواب دیا:ہاں اور پیغمبر(ص)نے فرمایا تھا:«نقباء بنی اسرائیل کی تعداد کے برابر بارہ خلیفہ»۔(۱)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بار ہ افراد پیغمبر(ص) کے خلیفہ اور جانشین ہوں گے اور ان کی خلافت نص کے ذریعہ ثابت ہے اس لئے کہ نقباء بنی اسرائیل خدا کی جانب سے منتخب ہوتے تھے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:{وَلَقَدْ أَخَذَ اﷲُ مِیثَاقَ بَنِی إِسْرَائِیلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمْ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیبًا}۔(۲)بنیادی طور پرجوخلیفہ یا حکمراں لوگوں کے ذریعہ منتخب ہوتے ہیں یا بغاوت اور طاقت و قوت کے ذریعہ حکومت حاصل کرتے ہیں ان کی تعداد مشخص ومعین نہیں ہوتی یہ تو عام مسئلہ ہے اس کی اتنی اہمیت نہیں ہے کہ صحابہ اس کے بارے میں سوال کرتے  تھے البتہ چونکہ ان کے سوالات دینی رنگ لئے ہوئے تھے لہٰذا تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس سوال سے ان کی مراد وہ خلفاء تھے جو خدا کی جانب سے ملت اسلامیہ کی امامت ورہبری کے ذمہ دار ہیں۔(۳)
حدیث ثقلین
اس سے قبل منابع شیعہ کی بحث میں اس حدیث کے بارے میں گفتگو ہو چکی ہے اور وہاں عرض کیا گیا تھا کہ یہ حدیث اہل بیت(ع) کی عصمت پر دلالت کرتی ہے جس کے نتیجہ میں ان کی مرجعیت اور علمی رہبری ثابت ہوجاتی ہے اب یہاں مزید اس نکتہ کا اضافہ کرنا ہے کہ حدیث ثقلین میں ایسے شواہد موجود ہیں جن کے باعث یہ حدیث اہل بیت(ع) کی سیاسی رہبری پر بھی دلالت کرتی ہے،اولاً تو اس حدیث کو نقل کرنے والے بعض حضرات کے مطابق اس حدیث میں«خلیفتین»کی لفظ استعمال ہوئی ہے:«انی تارک فیکم خلیفتین کتاب اللّٰه حبل ممدود من السماء الیٰ الارض وعترتی ،اهل بیتی فانھما لن یفترقا حتی یردا علی الحوض»۔(۴)دوسرے یہ کہ اس حدیث کی ابتداء میں پیغمبر اکرم  ﷺ نے اپنے قریب الوقوع رحلت کی اطلاع دیتے ہوئے فرمایا:«یوشک ان یاتینی رسول ربی فاجیب»۔ واضح سی بات ہے کہ جب رہبر اور حاکم اپنی موت کے متعلق گفتگو کرے اور اس درمیان لوگوں سے کسی خاص فرد یا افراد کی پیروی کے لئے کہے تو اس کی مراد معاشرہ کی سیاسی قیادت ہی ہوگی۔
علاوہ از ایں مسلم۔(۵)کے نقل کے مطابق یہ حدیث پیغمبر اکرم(ص) نے غدیر خم میں ارشاد فرمائی۔
چنانچہ بعض روایات میں اس حدیث کے ساتھ:«من کنت مولاہ فعلی مولاہ»کا جملہ بھی نقل ہوا ہے اور یہ جملہ آنحضرت(ص)نے غدیر خم میں فرمایا تھا،اس طرح غدیر خم میں دو چیزیں بیان ہوئی ہیں ایک بطور خاص حضرت علی(ع)کی امامت دوسرے بطور عام دیگر ائمہ(ع) کی امامت۔
بہرحال اگر یہی تسلیم کیا جائے کہ حدیث ثقلین سے مراد اہل بیت(ع) کی صرف علمی رہبری اورمرجعیت مراد ہے تب بھی تمام مسائل میں ان کی رائے اور نظریہ پر عمل کرنا چاہئے لہٰذا امامت و قیادت کے مسئلہ میں بھی انہیں حضرات کی رائے معیار ہوگی اور وہ حضرات اموی وعباسی خلافتوں کو ناجائز قرار دیتے اوراپنی حقانیت کی تاکیدفرماتے تھے۔(۶)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔مسند احمد بن حنبل ج/۱،ص/۳۹۸۔۴۰۶،ینابیع المودۃ ،ص/۴۴۵
۲۔مائدہ/۱۲    ۔
۳۔دلائل الصدق ج/۱۲،ص/۴۸۸،۴۸۹ ۔
۴۔مسند احمد بن حنبل۔
۵۔صحیح مسلم ج/۴،ص/۱۸۷۳ باب فضائل علی ابن ابی طالب حدیث/۲۳۰۸،مطبوعہ دار احیاء الثرات العربی بیروت۔
۶۔دلائل الصدق ج/۱۲،ص/۴۷۷۔

 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 20