Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188088
Published : 29/6/2017 16:44

آئمہ(ع) کی سیرت:

رہبر انقلاب کی نظر میں آئمہ طاہرین(ع) کا اجتماعی نظام اور اس کا تعمیری لائحہ عمل

یہی وہ چیز ہے جس کی خاطر وہ زندہ رہے اور جس کی راہ میں شہید ہوئے...اگر تاریخی حقائق اس سرگزشتِ حیات کی صحت کی گواہی نہ بھی دیں (تب بھی) ائمہ(ع) کے شیعہ اپنے ایمان اور عقیدے کے تحت ان بزرگوں کے بارے میں نہ اس کے سوا کچھ سوچ سکتے ہیں اور نہ کہہ سکتے ہیں...بہرِ صورت تاریخ کی گواہی ہر محقق کے لئے کافی اور اسے مطمئن کرنے والی ہے۔


ولایت پورٹل:ایک اجتماعی نظام کی بنیاد ڈالنے یا اسے قائم و دائم رکھنے کے لئے کن تعمیری عناصر کی ضرورت ہوا کرتی ہے؟ سب سے پہلے ایک رہنما اور سمت اور رخ فراہم کرنے والی آئیڈیالوجی، جو در اصل اس نظام کا خاکہ اور روڈ میپ ہوتی ہے۔
اس کے بعد ایک قوتِ اجرائی (نفاذ کی قوت) جو اس نظام کے جامۂ عمل پہننے کی راہ میں در پیش مزاحمتوں اور مشکلات کا تدارک کرے۔
ہم جانتے ہیں کہ ائمہ(ع) کی آئیڈیالوجی، اسلام کی آئیڈیالوجی ہے اور اسلام انسان کے لئے ایک جاوداں مکتب ہے، ایک ایسا مکتب جو مخصوص خصوصیات کا حامل ہونے کی بنا پر اپنی جاودانی اور دائمی بقا کا امکان فراہم کرتاہے۔
ائمہ(ع) کا عمومی لائحۂ عمل
ان باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم ائمۂ شیعہ اور رسولِ اسلام(ص)کے برحق جانشینوں کے عمومی لائحۂ عمل کو بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں،یہ لائحۂ عمل اور پروگرام دو اٹوٹ حصوں میں انجام پاتاہے:
پہلا حصہ آئیڈیالوجی سے تعلق رکھتا ہے اور دوسرا حصہ سماجی قوت و طاقت کے حصول سے۔
پہلے حصے کے حوالے سے ان حضرات کی کوشش اورجدوجہد اسلامی آئیڈیالوجی کی تفہیم و تشریح، اس کے نفاذ اور مفاد پرست گروہوں اور جاہل اذہان کی جانب سے اس میں پیداکی جانے والی تحریفات اور بدعتوں کی نشاندہی کی جانب مرکوز تھی،یہ حضرات اس آئیڈیالوجی کو مسلسل تغیر پذیر معاشرتی زندگی اور نت نئے حوادث پر تطبیق دیتے اور مستقبل میں آنے والوں کو حوادثِ واقعہ کے حکم سے استفادہ کا طریقہ سکھاتے۔
اس کے ان حصوں کو جو حکمراں طبقات کے مفادات سے متصادم ہونے کی بنا پر پردۂ اجمال میں رہ گئے تھے یا جنہیں فراموش کردیا گیا تھا انھیں لوگوں کے اذہان میں زندہ کرتے اور اس کے ان گوشوں کو جو عام ذہن اسلام کے بنیادی سرچشمے (Primary Source )یعنی قرآن سے استخراج نہیں کرسکتے تھے ان کا اپنے عبور اور کامل معرفت کی بنیاد پر استخراج کرتے۔ مختصر یہ کہ اسلام کو ایک زندہ اور زندگی بخش آئیڈیالوجی کے عنوان سے صدیوں کے لئے محفوظ کردیں اور اس کی تا ابد حفاظت کے طریقوں کی اپنے شاگردوں اور آئندہ آنے والی نسلوں کو تعلیم دیں۔
دوسرے حصے کے حوالے سے بھی یہی کوشش کی کہ ہر زمانہ میں اور اسلامی معاشرے کی سیاسی و اجتماعی اور عالمی صورتحال کے تناسب سے ایسے مقدمات اور وسائل فراہم کریں جو جلد زمامِ قدرت و اختیاران کے ہاتھ میں دے سکیں، یا طویل مدت بعد خود انھیںیا ان کے ہم فکر افراد، ساتھیوں یا ان کے جانشینوں کو حکومت اور اقتدار تک پہنچا دیں۔
یہ ائمۂ اطہار علیہم السلام کی زندگی اور سرگزشت کا مختصر خلاصہ ہے، یہی وہ چیز ہے جس کی خاطر وہ زندہ رہے اور جس کی راہ میں شہید ہوئے...اگر تاریخی حقائق اس سرگزشتِ حیات کی صحت کی گواہی نہ بھی دیں (تب بھی) ائمہ(ع) کے شیعہ اپنے ایمان اور عقیدے کے تحت ان بزرگوں کے بارے میں نہ اس کے سوا کچھ سوچ سکتے ہیں اور نہ کہہ سکتے ہیں...بہرِ صورت تاریخ کی گواہی ہر محقق کے لئے کافی اور اسے مطمئن کرنے والی ہے۔

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21