Sunday - 2018 Nov 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188089
Published : 29/6/2017 17:19

وہابیت دوراہے پر:

متولیان خانہ خدا کی اصلی ذمہ داری

یک چھوٹے سے گروہ کی علمی سطح کمزور ہونے کے مدنظر اسے ہرگزیہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے نظریات کو قبول کرنے پر دوسروں کو مجبور کرے،لیکن متعصب سلفی اپنے نظریات کو منوانے کے لئے بد ترین طریقوں کا استعمال کرتے ہیں جو کہ افسوس کا مقام ہے۔

ولایت پورٹل:مقدس مقامات اور اللہ کا گھر خانۂ کعبہ یقینی طور پردنیا کے تمام مسلمانوں سے متعلق ہیں:{جَعَلَ اللّٰهُ الْکَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیَاماً لِّلنَّاسِ وَالشَّھْرَ الْحَرَامَ وَالْھَدْیَ وَالْقَلاَئِدَ ذَلِکَ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّماوَاتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَأَنَّ اللّٰهَ بِکُلِّ شَیْیٍٔ عَلِیمٌ}۔(۱)
ترجمہ: اللہ نے کعبہ کو جو بیت الحرام ہے اور محترم مہینے کو اور قربانی کے عام جانوروں کو اور جن جانوروں کے گلے میں پٹہ ڈال دیا گیا ہے، سب کو لوگوں کے قیام و صلاح کا ذریعہ قرار دیا ہے تاکہ تمہیں یہ معلوم رہے کہ اللہ زمین و آسمان کی ہر شئے سے باخبر ہے اور وہ کائنات کی ہر شئے کا جاننے والا ہے۔
سبھی افراد خواہ قریب کے ہوں یا دور کے، اللہ کے گھر سے فائدہ اٹھانے میں برابر ہیں:{ جَعَلْناهُ لِلنّاسِ سَواءً الْعاکِفُ فِیهِ وَ الْبادِ }۔(۲)
ترجمہ:ہم اس گھر کو سب کے لئے مساوی قرار دیا چاہے وہ افراد ہوں کہ جو یہیں رہتے ہیں چاہے وہ افراد کے جو دور دراز کا سفر طئے کر کے آتے ہیں۔
اس بنا پر خانۂ خدا کے متولیوں کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ امن و نظم قائم کریں اور زائرین کے لئے ضروری امکانات فراہم کریں نہ یہ کہ اس اسلامی مرکز کو اپنے مذہب کی تبلیغ کا اڈہ بنائیں اور اپنے نظریات کو دوسروں پر تھوپیں۔
ان کو حق نہیں کہ اسلامی مسائل میں اپنے خاص اجتہادات کو جو تمام ملکوں کے علماء کے اجتہاد اور استنباط کے سراسر خلاف ہیں، ان پر لادیں یہاں تک کہ دور جاہلیت میں بھی خانہ خدا کے متولیوں کا یہ کام نہیں تھا جیسا کہ قرآن مجید میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے:{أَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ}۔(۳)۔ان کا کام حاجیوں کو پانی پلانا اور خانۂ خدا کو آباد رکھنا تھا۔
پس اگر اس سر زمین کے علماء، توحید کے حوالے سے کوئی خاص نظریہ رکھتے ہیں تو انہیں حق نہیں ہے کہ اپنے عقیدہ کو دوسروں پر مسلط کریں خاص طور پر جبکہ دوسرے مذاہب اور مسلک کے بڑے بڑے علماء ان کے نظریات کے مخالف ہوں اور اس سلسلہ میں ان کا عقیدہ الگ ہو،مثال کے طور پر رسول خدا(ص)سے شفاعت طلب کرنے کے مسئلہ میں یہ ان لوگوں کو جو یہ مانتے ہیں کہ رسول خدا(ص) پر وردگار کی بارگاہ میں مغفرت کی درخواست کرنے والے ہیں، کافر سمجھتے ہیں۔ جبکہ دوسرے لوگ اس کو اصل توحید مانتے ہیں،یایہ کہ یہ لوگ کسی چیز کو بدعت کہتے ہیں اور دوسرے لوگ اس کو سنت سمجھتے ہیں۔
وہابی حضرات یا کسی بھی دوسرے گروہ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنی فکر اور اجتہاد کو دوسروں پر تھونپیں۔
میں زور دے کر کہتا ہوں کہ وہ لوگ بس اس مقدس جگہ کے نظم و نسق کو برقرار رکھیں اور اس کو آباد کریں نہ یہ کہ اس کو اپنی مذہبی تبلیغات کا سینٹر بنائیں،دلچسپ بات یہ کہ سعودی بادشاہ خود کو خادم الحرمین شریفین سمجھتے ہیں نہ کہ حاکم الحرمین تو پھر یہ سلفی وہابی علماء خود کو حاکم الحرمین کیوں سمجھتے ہیں جبکہ ان کا عقیدہ ہے کہ ولی امر کی اطاعت ان پر واجب ہے۔
البتہ یہ لوگ اس کام سے منع کرسکتے ہیں جسے علمائے اسلام نے متفقہ طور پر منع کردیا ہے۔
مختصر یہ کہ ایک چھوٹے سے گروہ کی علمی سطح کمزور ہونے کے مدنظر اسے ہرگزیہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے نظریات کو قبول کرنے پر دوسروں کو مجبور کرے،لیکن متعصب سلفی اپنے نظریات کو منوانے کے لئے بد ترین طریقوں کا استعمال کرتے ہیں جو کہ افسوس کا مقام ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔سورۂ مائدہ:۹۷۔
۲۔  سورۂ حج:۲۵۔
۳۔ سورۂ توبہ:۱۹۔

 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Nov 18