Sunday - 2018 Nov 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188093
Published : 29/6/2017 18:38

مولانا سید محمد مرتضیٰ نونہروی

مولانا محمد مرتضٰی صاحب کا کتب خانہ نہایت وقیع تھا،بیشتر کتابوں پر حواشی موجود تھے،تاریخ مطالعہ بھی لکھنے کی عادت تھی،تفسیر فخر الدین رازی از اول تا آخر غالباً آٹھ مرتبہ پڑھی،اور اس کے معائب و محاسن پر کمال درجہ عبور تھا،فلسفہ بوعلی سینا اور نظریات محقق طوسی و رازی و میر داماد و ملا صدرا پر بحث کرتے تھے۔

ولایت پورٹل:فاضل جلیل،عالم نبیل،فلسفی کامل،ادیب اکمل مولانا سید محمد مرتضٰی صاحب قبلہ نونہروی اپنے وطن ہی میں تقریباً ۱۲۵۴ ہجری /۱۸۳۸ء کو پیدا ہوئے،ابتدائی تعلیم مکمل کرکے لکھنؤ آئے اور یہاں کے اکابر سے متداول علوم اسلامیہ کی تحصیل میں مشغول ہوگئے۔
مولانا عبد الحی فرنگی محلی علم فقہ و حدیث،مولوی گلشن علی ادب اور مفتی محمد عباس صاحب وغیرہ سے پڑھ کر اپنے ساتھیوں میں ممتاز ہوئے،نونہرہ میں آپ باحیثیت ایک زمیندار تھے،لیکن علمی شہرت نے دور دور تک پہچنوایا،حیدر آباد کے شعبہ ترجمہ و تالیف میں مدتوں رہے اور وہاں عبد الحلیم شرر کی بعض کتابوں کے جوابات بھی لکھے۔
مولانا محمد مرتضٰی صاحب کا کتب خانہ نہایت وقیع تھا،بیشتر کتابوں پر حواشی موجود تھے،تاریخ مطالعہ بھی لکھنے کی عادت تھی،تفسیر فخر الدین رازی از اول تا آخر غالباً آٹھ مرتبہ پڑھی،اور اس کے معائب و محاسن پر کمال درجہ عبور تھا،فلسفہ بوعلی سینا اور نظریات محقق طوسی و رازی و میر داماد و ملا صدرا پر بحث کرتے تھے۔
وفات
مولانا نے تقریباً ستر برس کی عمر پاکر ۱۳۳۶ ہجری میں رحلت فرمائی۔
قلمی آثار
۱۔آب زر(فلسفہ بزبان فارسی)
۲۔جواب شرر اردو
۳۔لوائح لیلیۃ فی شرح دعاء اللیل مں الصحیفۃ الکاملۃ السجادیۃ
۴۔معراج العقول فی شرح دعاء المشلول(۱۰ جلدیں)
مطلع انوار


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Nov 18