Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188101
Published : 30/6/2017 21:40

جاوید باجوہ نے منظور کئے پاراچنار کے لوگوں کے مطالبات،دھرنا ختم

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی کوششوں سے پارا چنار کے قبائلی شیعہ عمائدین نے گزشتہ جمعہ سے جاری دھرنا ختم کردیا ہے، آرمی چیف نے شیعوں کے مطالبات منظور کرتے ہوئے ان پر فوری عملدرآمد ہونے کا حکم دیدیا ہے۔


ولایت پورٹل:ڈیلی پاکستان کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی کوششوں سے پارا چنار کے قبائلی شیعہ عمائدین نے گزشتہ جمعہ سے جاری دھرنا ختم کر دیا ہے،آرمی چیف نے شیعوں کے مطالبات منظور کرتے ہوئے ان پر فوری عملدرآمد ہونے کا حکم دیدیا ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پارہ چنار کا دورہ کیا جہاں انہوں نے شیعہ قبائلی عمائدین سے ملاقات کی، اس موقع پر مقامی قبائلی عمائدین نے دھرنا ختم کرنے سے متعلق اپنے مطالبات بھی پیش کئے جس پر آرمی چیف نے علاقے کی سیکیورٹی سے متعلق مطالبات پر فوری طور پر عمل کرنے کا حکم دیا جس کے بعد قبائلی عمائدین نے دھرنا ختم کر دیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی اور عوام ہمارے لیے برابر ہیں۔
دہشتگردی کو اکٹھے ہو کر شکست دیں گے، قبائلی عمائدین نے پاک فوج اور اس  کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ آرمی چیف نے پارا چنار میں اضافے دستوں کی تعیناتی اور سیف سٹی منصوبے کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔
پاکستانی فوج کے سربراہ نے کرنل عمر کو بھی عہدے سے برطرف کردیا ہے۔
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پارا چنار کو سیف سٹی بنانے کیلئے پاک فوج کے تازہ دم دستے پہنچ رہے ہیں،آرمی چیف نے اضافی دستے اور سیف سٹی منصوبے کے قیام کا اعلان کر دیا ہے جبکہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان سرحد پر2مرحلوں میں باڑ لگائی جائے گی ، پہلے مرحلے میں حساس سرحدی مقامات پرباڑ لگائی جائے گی جبکہ دوسرے مرحلے میں باقی ماندہ سرحد پر باڑ لگانے کا عمل شروع ہو جائےگا۔
آرمی چیف سے ملاقات میں قبائلی عمائدین نے کہا ہے کہ ہم صرف پاکستانی اور مسلمان ہیں اور ہمارا خون ملک کیلئے ہے
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے پارا چنار کے بازار میں عین اس وقت یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے تھے جب لوگوں کی بڑی تعداد یوم قدس کی ریلی میں شریک تھے جس میں 75 افراد جاں بحق اور100 کے قریب زخمی ہوئے تھے جس کے بعد متاثرین اور مقامی عمائدین نے اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دے دیا تھا۔
مہر




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21