Monday - 2018 Nov 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188110
Published : 1/7/2017 16:27

اپنا عقیدہ دوسروں پر تھوپنے کی وہابی کوششیں

اب سمجھ میں آیا کہ طالبان اور القاعدہ جو کہ شدت پسند اور انتہا پسند وہابیوں کا گروہ ہے جو خود کو اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ صرف ایک بم دھماکے کے ذریعہ نجف اشرف میں( دو سال پہلے) ایک سو پچاس لوگوں کو مار ڈالیں اور تین سو افراد کوزخمی کر دیں جن کے درمیان بچے بوڑھے اور عورتیں بھی تھیں ،یہ سب کچھ اس طرز فکر کے دردناک اور تلخ نتائج ہیں جنہوں نے پوری دنیا میں اسلام کے چہرہ کو مخدوش بنا دیا اور پورے ماحول کو یہاں تک کہ اپنی جائے پیدائش سعودی عرب کوجو انہیں کی جائے پیدائش ہے ناامن بنا دیا ہے۔


ولایت پورٹل:حال ہی میں متعصب وہابیوں نے بعض اسلامی مذاہب کی تردید میں کتابیں لکھی ہیں اور ان کو حاجیوں کے درمیان تقسیم کیا،کاش اس میں اخلاق اور ادب کا خیال کیا جاتا :یہ ایسی کتابیں ہیں جو بد ترین تہذیب اور بہت ہی بھدّے اور پست الفاظ کے ساتھ دوسروں پر جھوٹ  تہمت نیز شرک و کفر کی نسبت پر مشتمل ہیں حالانکہ اگر اخلاقیات سے عاری ان کتابوں کی تردید و تکذیب میں کوئی کتاب لکھی جائے تو محال ہے کہ اسے شائع کرنے کی اجازت مل جائے!
کیا اس آیت کا یہی مفہوم ہے:{فَبَشِّرْعِبَادِ الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ أَحْسَنَہُ}۔( سورۂ زمر،:۱۷،۱۸)
ترجمہ:میرے ان بندوں کو بشارت دیجئے جو سب کی باتیں سنتے ہیں لیکن ان میں سے بہتر کی پیروی کرتے ہیں۔
واضح ہے کہ ایسا مذہب اس طرح کی ثقافت کے ساتھ دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا نہیں جاتا اور بہت جلد تاریخ کے کوڑے دان میں ڈال دیا جائے گا،خاص طور پر ہمارے دور کے دانشوروں کی نظر میں جن کی نگاہوں میں دوسروں کے عقائد کا احترام کرنا ایک خاص اہمیت کا حامل ہے،یہی وہ اسباب ہیں جنہوں نے اس مذہب کو بے گانہ اور اس کے زوال کے اسباب فراہم کردیئے ہیں کیوں کہ کوئی بھی مسلمان اس نام نہاد خانۂ خدا کے متولیوں کے ذریعہ انہیں کافر اور مشرک قرار دیئے جانے پر مبنی ناروا نسبتوں کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہے۔
حرم نبوی اور بقیع کی قبریں بھی تمام مسلمانوں سے متعلق ہیں اور اس کے متولی حضرات صرف نظم و امن کی برقراری نیز ضروری امکانات مہیا کرانے اور اجماع مسلمین کے خلاف جو عمل انجام پاتا ہے، اسے روکنے کے ذمہ دار ہیں نہ کہ اس سے زیادہ۔ انہیں چاہیئے کہ دنیا کے مسلمانوں کے عقائد کا احترام کریں، مقدسات اسلامی کی توہین و بے احترامی سے پرہیز کریں اور اپنے پیر چادر سے زیادہ نہ پھیلائیں کیونکہ اس سے نہ خدا خوش ہے اور نہ خلق خدا اور نہ اس کام میں عاقبت بخیر ہی ہے۔
حرم ،امن خدا ہے اور ہر لحاظ سے اس کو امن وسکون کا مرکزہونا چاہیئے، یہ کیسا امن و امان ہے کہ اگرایک  غیر وہابی مسلمان اپنے قدم ذرا سا بھی آگے پیچھے کرے توفوراً اس پر شرک کا الزام لگا دیا جاتاہے؟
میں بھول نہیں سکتا کہ زیارت خانۂ خدا کے موقع پر میں نے دیکھا کہ مختلف ملکوں کے مسلمانوں کا گروہ منبر رسول(ص)کا بوسہ لینا چاہتا تھا اورانہوں نے پولیس والوں کو پریشان کر رکھا تھا  ایک شخص جو بظاہر«ماموران امر بالمعروف» کے گماشتوں میں سے تھا، اپنی جگہ سے اٹھتا ہے اور کہتا ہے:«وَاللّٰهِ یَجُوزُ قِتَالُ ھٰؤُلٓاِء بِالسَّیْفِ»
ترجمہ:خدا کی قسم اس گروہ کا قتل اور خون بہانا جائز ہے۔
کیا فرق ہے ؟ آپ قرآن کی جلد کابوسہ لیتے ہیں اور وہ اس منبر کا جو برسوں پیغمبر اسلام(ص) کی تعلیم و تربیت کی جگہ اور محل وعظ و نصیحت تھا، کیوں ان کے قتل کا حکم دیتے ہو اور اپنے ماننے والوں کا نہیں؟
تم لوگ اس عمل کو بدعت کہتے ہو اور وہ لوگ اسے سنت سمجھتے ہیں۔
اب سمجھ میں آیا کہ طالبان اور القاعدہ جو کہ شدت پسند اور انتہا پسند وہابیوں کا گروہ ہے جو خود کو اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ صرف ایک بم دھماکے کے ذریعہ نجف اشرف میں( دو سال پہلے) ایک سو پچاس لوگوں کو مار ڈالیں اور تین سو افراد کوزخمی کر دیں جن کے درمیان بچے بوڑھے اور عورتیں بھی تھیں ،یہ سب کچھ اس طرز فکر کے دردناک اور تلخ نتائج ہیں جنہوں نے پوری دنیا میں اسلام کے چہرہ کو مخدوش بنا دیا اور پورے ماحول کو یہاں تک کہ اپنی جائے پیدائش سعودی عرب کوجو انہیں کی جائے پیدائش ہے ناامن بنا دیا ہے۔
کیا ایسی فکریں اور پروگرام بھی باقی رہ سکتے ہیں؟

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Nov 19