Tuesday - 2018 Nov 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188139
Published : 2/7/2017 18:4

نماز اہم ترین عبادت

خدا نے جس طرح اصول دین میں اپنی توحید کو سر فہرست رکھا ہے اسی طرح فروع دین میں سر فہرست نماز کو رکھا ہے،جو اس بات کی مکمل دلیل ہے کہ جس طرح اصول دین میں سب سے افضل خدا کی وحدانیت ہے اسی طرح فروع دین میں سب سے افضل نماز ہے ۔ نماز، خدا کی ایک اہم ترین عبادت ہے جس کے لئے خود رسول اسلام(ص) نے فرمایا:«اَلصَّلٰوۃُ عِمَادُ الدِّیْنِ اِنْ قُبِلَتْ قُبِلَ مَا سِوَاھَا وَاِنْ رُدَّتْ رُدَّ مَا سِوَاھَا»۔


ولایت پورٹل:خداوند عالم نے پورے دین اسلام کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے، یا تو اسلام نام ہے اصول دین کا یا نام ہے فروع دین کا،جہاں اصولِ دین میں پانچ چیزوں کو رکھا ہے۔
۱۔توحید
۲۔عدل
۳۔نبوت
۴۔امامت
۵۔قیامت

وہیں فروع دین میں دس چیزوں کو یکجا کردیا ہے۔
۱۔نماز
۲۔روزہ
۳۔حج
۴۔زکوٰۃ
۵۔خمس
۶۔جہاد
۷۔امربالمعروف
۸۔نہی عن المنکر
۹۔تولا
۱۰۔تبرا

تو خدا نے جس طرح اصول دین میں اپنی توحید کو سر فہرست رکھا ہے اسی طرح فروع دین میں سر فہرست نماز کو رکھا ہے،جو اس بات کی مکمل دلیل ہے کہ جس طرح اصول دین میں سب سے افضل خدا کی وحدانیت ہے اسی طرح فروع دین میں سب سے افضل نماز ہے ۔ نماز، خدا کی ایک اہم ترین عبادت ہے جس کے لئے خود رسول اسلام(ص) نے فرمایا:«اَلصَّلٰوۃُ عِمَادُ الدِّیْنِ اِنْ قُبِلَتْ قُبِلَ مَا سِوَاھَا وَاِنْ رُدَّتْ رُدَّ مَا سِوَاھَا»۔
ترجمہ:یعنی نمازدین کا ستون ہے، اگر یہ قبول تو سارے اعمال قبول اور اگر یہ رد تو سارے اعمال رد،یعنی سارے اعمال کی جڑ نماز ہے ،اگر نماز قبول تو سارے اعمال قبول اور اگر یہ قبول نہ ہوئی توسارے اعمال بیکارہیں، یہ رسول اسلام(ص) کی حدیث ہے جو تمام مسلمانوں کے لئے حجت ہے اس لئے کہ خود خالق کائنات کا ارشاد ہے کہ :میرا حبیب کچھ کلام ہی نہیں کرتا جب تک کہ اس پر وحی نہ کی جائے۔ لہٰذا اب رسول خدا(ص) کی حدیث پر شک کرناخود قول خدا پر شک کرنے کے مترادف ہے اور پھر رسول خدا(ص) نے نماز کو مومن کی معراج کہا ہے:«اَلصَّلٰوۃُ مِعْرَاجُ الْمُوْمِنِ»۔
ترجمہ:نماز مؤمن کی معراج ہے۔ آپ قرآن و احادیث کو جب ملاحظہ فرمائیں گے تو آپ کو نماز کی اہمیت کا اندازہ ہوگا،خود قرآن مجید میں جا بجا نماز کے ادا کرنے، نماز کے قائم کرنے اور نماز کی پابندی کرنے کے سلسلے میں متعدد آیتیں ملیں گی اور اسی طرح ائمہ(ع) کی حدیثوں سے بھی نماز کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتاہے، اس مختصر سے مقالہ میں ان تمام آیات کو بیان نہیں کیا جاسکتا جو نماز کی اھمیت و فضیلت بیان کرتی ہیں، لہٰذا صرف چند آیتوں کو بطور نمونہ پیش کیا جارہا ہے۔
خالق کائنات قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:«وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَزُلَفاً مِّنَ الَّیْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّئٰاتِ ذٰلِکَ ذِکْریٰ لِذَّاکِرِیْنَ»۔(۱)
ترجمہ: اور اے رسول دن کے دونوں حصوں میں اور کچھ رات گئے نماز پڑھا کرو کیونکہ یقیناً نیکیاں گناہوں کو دور کرتی ہیں اورہماری یاد کرنے والوں کے لئے یہ بات نصیحت و عبرت ہے۔
اب آپ ذرا اس آیت پر غور کیجئے! جہاں اس آیت سے نماز کی اہمیت اجاگر ہورہی ہے، جہاں نماز کے قائم کرنے اور ادا کرنے کی بات ہورہی ہے وہیں اس آیت سے نماز کے اوقات پر بھی روشنی پڑتی ہے، اس آیت میں خدا نے نماز کا صرف تین وقت  بتایا ہے کہ نماز کو دن کے دونوں حصوں(اس سے مراد صبح اور زوال کے بعد کا وقت ہے) میں پڑھا کرو اور کچھ  رات گئے پڑھا کرو،پس دن کے پہلے کنارے سے مراد نماز صبح اور دوسرے کنارے سے مراد دو (۲)نمازیں ظہر اور عصر ہیں اور رات کے کچھ گئے حصہ یعنی پہلے حصے میں نماز مغرب و عشاء کو پڑھو، گویا ان تین وقتوں میں پانچ نمازوں کو پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، اور ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے:«اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ اِلٰی غَسَقِ اللَّیْلِ وَ قُرْآنَ الْفَجْر اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِکَانَ مَشْھُوْداً»۔(۲)
ترجمہ:اے رسول! سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک نماز (ظہر، عصر، مغرب، عشاء) پڑھا کرو اور نماز صبح بھی ،کیونکہ صبح کی نماز پر دن رات دونوں کے فرشتوں کی گواہی ہوتی ہے،اس آیت سے بھی تین وقت کا ہی اشارہ ملتا ہے،دلوک الشمس سے مراد زوال کے بعد کا وقت ہے اس وقت میں دو نمازیں ہیں ظہر اور عصر اور غسق اللیل میں بھی دو نمازیں ہیں مغرب اور عشاء اور فجر سے مراد نماز صبح ہے،بعض لوگوں نے دن کے دو کناروں سے مراد صبح اور مغرب لیا ہے لیکن یہ اس لئے درست نہیں ہے کیونکہ کنارہ کسی شئے کا وہ ہوتا ہے جو اس کا آخری حصہ ہوتا ہے اور مغرب دن کا حصہ ہی نہیں ہے پس دو کنارے سے صبح اور زوال کے دو وقت مراد ہیں اور زلف جو پہلی والی آیت میں آیا ہے اس کے ذیل میں ابن عباس سے منقول ہے کہ زلف سے رات کا ابتدائی حصہ مراد لیا گیا ہے، پس اب جو شیعوں پر دو نمازیں ملا کر پڑھنے کا اعتراض کرتے ہیں ان لوگوں سے کہوں گاکہ اس آیت کو دیکھ کر اور سمجھ کر فیصلہ کریں کہ شیعہ صحیح ہیں یا غلط۔ کیونکہ خود قرآن کی ان آیتوں کی رو سے جب نمازوں کے اوقات تین ثابت ہوتے ہیں تو جمع بین الصلوٰتین کا مسئلہ خود بخود صاف ہوجاتا ہے کیونکہ قرآن میں ظہر و عصر کے الگ الگ وقت نہیں بیان کئے گئے ہیں بلکہ صرف ترتیب کا فرق ہے کہ پہلے ظہر پھر عصر اور پھر مغرب و عشاء کے درمیان میں کوئی حد معین نہیں کی گئی ہے،صرف ترتیب کا فرق ہے کہ پہلے مغرب پھر عشاء۔
اب جو افراد قرآن پر عامل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں انہیں ان آیات کی روشنی میں جمع بین الصلوٰتین کے جواز کو قبول کرلینا چاہئے،اور صحاح ستہ میں صاف اور صریح روایت موجود ہیں کہ جناب رسالت مآب(ص) نے عذر، بیماری اور بارش کے بغیر ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نماز ملا کر پڑھی ہے۔ یہ ایک بات بیچ میں آگئی جسے یہاں ذکر کردیا گیا ہے۔ اس سے پہلے والی آیت میں :«اِنَّ الْحَسَنٰتِ»آیا ہے یعنی «نیکیاں» جس سے مراد نمازیں ہیں۔
یعنی دو نمازوں کے درمیان واقع ہونے والے گناہوں کو نماز ختم کردیتی ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نماز بھی پڑھے اور گناہ بھی کرتا رہے بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ جس کے دل میں نماز کی اہمیت ہوگی اس کے سامنے خدا کی عظمت کا تصور ہوگا اور پھر اس کو زنا کرنے میں شرم محسوس ہوگی کہ ابھی میں خدا کے سامنے کس منھ سے پیش ہوں گا،توبہ کا تصور اس کو آہستہ آہستہ گناہوں سے نجات دلادے گا اور نماز کے فحشاء و منکر سے روکنے کا بھی ایک یہی مطلب ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔سورہ ہود:۱۱۴۔
۲۔سورہ بنی اسرائیل:۷۸۔



 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 20