Sunday - 2018 Nov 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188163
Published : 3/7/2017 17:46

مہدویت کا عقیدہ:

اسلام میں مہدی موعود کا عقیدہ

تمام اسلامی مذاہب کے نزدیک مہدی موعود (عج)کا عقیدہ مسلم وقطعی ہے،اس عقیدہ کی بنیاد وہ متواتر احادیث ہیں جو اس سلسلہ میں پیغمبر اکرم(ص) سے منقول ہیں،ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ آخر زمانہ میں قیامت سے قبل خاندان پیغمبر(ص) سے ایک شخص جو پیغمبر(ص) کا ہم نام اور جس کا لقب«مہدی»ہوگا قیام کرے گا اور اسلامی قوانین کی بنیاد پر عادلانہ عالمی حکومت قائم کرے گا۔

ولایت پورٹل:تمام اسلامی مذاہب کے نزدیک مہدی موعود (عج)کا عقیدہ مسلم وقطعی ہے،اس عقیدہ کی بنیاد وہ متواتر احادیث ہیں جو اس سلسلہ میں پیغمبر اکرم(ص) سے منقول ہیں،ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ آخر زمانہ میں قیامت سے قبل خاندان پیغمبر(ص) سے ایک شخص جو پیغمبر(ص) کا ہم نام اور جس کا لقب«مہدی»ہوگا قیام کرے گا اور اسلامی قوانین کی بنیاد پر عادلانہ عالمی حکومت قائم کرے گا:«یملاء الارض قسطاً وعدلاً کما ملئت ظلماً وجوراً»بعض محققین کی تحقیق کے مطابق«مہدی موعود» سے متعلق احادیث اہل سنت کے ساٹھ سے زیادہ معتبر منابع من جملہ صحاح ستہ نیز شیعی منابع کتب اربعہ اور نوے سے زیادہ معتبر منابع میں نقل ہوئی ہیں۔(۱)
مسلمانوں کے نزدیک اس مسئلہ کی اہمیت کے باعث علم حدیث و کلام کی کتب کے علاوہ بہت سی مخصوص کتابیں اسی موضوع پر لکھی گئی ہیں بظاہر سب سے پہلے محمد بن اسحق بن ابراہیم متوفی  ۲۷۵ ہجری نے اس موضوع پر مستقل کتاب تحریر کی،انہوں نے«صاحب الزمان»نامی کتاب تالیف کی۔(۲)
مہدی موعود (عج)سے متعلق احادیث اتنی قطعی اور معتبر ہیں کہ ابن تیمیہ اور ان کے پیرو جیسے افراد جو عموماً شیعوں کے عقائد سے متعلق ہر چیز کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہ بھی ان احادیث کی صحت کے معتقد ہیں،ابن تیمیہ نے مسند احمد ،صحیح ترمذی ،سنن ابوداؤد میں منقول مہدی موعود (عج)سے متعلق احادیث کو سند کے لحاظ سے صحیح تسلیم کیا ہے۔(۳)مگر تعجب کی بات ہے کہ ابن خلدون ان احادیث کے بارے میں اعتراض کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:«ان روایات میں چندکوچھوڑ کربقیہ روایات اشکال سے خالی نہیں ہیں»۔(۴)
اسلامی محققین (اعم از شیعہ وسنی )نے ابن خلدون کے کلام کی تنقید کرکے اس الزام کا باطل اور  بے بنیاد ہونا ثابت کیا ہے،اہل سنت کے ایک معاصر محقق ڈاکٹر عبد الباقی کہتے ہیں:«مہدی موعود (عج)سے متعلق احادیث ایک عظیم مجموعہ ہیں،ان احادیث کی تعداد اسی کے قریب ہے جنہیں سینکڑوں راویوں اور صحاح ومسانید کے مؤلفین نے اپنی کتب حدیث میں نقل کیا ہے،کیا اتنے عظیم مجموعہ کو باطل قرار دیا جاسکتاہے اگر ان روایات کے بارے میں بھی شک کی گنجائش ہے تو پھر تمام روایات مشکوک ہوجائیں گی اور نتیجہ میں سنت نبوی(ص) پر ہی سوالیہ نشان لگ جائے گا،اگر اسلاف کی سیرت دیکھیں تو صاف نظر آئے گا کہ ان میں سے کسی ایک نے بھی ان روایات کے بارے میں شک نہیں کیا بلکہ ان کی تشریح وتوضیح کی ہے»۔(۵)

ان تمام باتوں سے قطع نظر خود ابن خلدون نے بھی بہت سے اعتراضات اور شکوک وشبہات کے بعد ان میں سے بعض روایات کی صحت کو یقینی قرار دیا ہے،واضح ہے کہ اگر اس عقیدہ کے بارے میں صرف  ایک صحیح روایت ہی موجود ہو تو اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،بلکہ اسے قبول کیا جائے گا اور دیگر متواتر احادیث کو(چاہے ان کی سند مکمل نہ ہو)اس ایک روایت کی مؤید قرار دیا جائے گا۔
ابن خلدون سے زیادہ تعجب خیز احمد امین کا کلام ہے جس نے نہ صرف یہ کہ مہدی موعود (عج)سے متعلق احادیث کے بارے میں تردید کا اظہار کیا ہے بلکہ انہیں شیعوں کے«مجعولات» جعلی اور جھوٹی روایات قرار دیا ہے،اس کا خیال ہے کہ شیعوں نے بنی امیہ کے رد عمل کے طور پرحضرت علی(ع)اور مہدی منتظر کے فضائل میں بہت سی احادیث جعل کی ہی اس لئے کہ بنی امیہ نے صحابہ (حضرت علی(ع) کے علاوہ دیگر صحابہ) خصوصاً عثمان کے فضائل میں حدیث جعل کی تھیں،چونکہ ان روایات کی سند علماء اسلام کی نگاہ قابل قبول تھی لہٰذا انہوں نے ان جعلی اور جھوٹی احادیث کو قبول کر لیا!(۶)

اس کا جواب یہ ہے کہ:اولاً تو حضرت علی(ع)کے فضائل شیعوں سے مخصوص نہیں ہیں،آپ(ع) کے وہ تمام فضائل جو شیعی کتب میں موجود ہیں وہ سب اہل سنت کی کتب میں بھی موجود ہیں لہٰذا شیعوں کو آنجناب(ع) کے فضائل سے متعلق احادیث وضع کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
دوسرے یہ کہ بنی امیہ کے دور میں شیعہ سماجی اور سیاسی لحاظ سے بدترین دور سے گذر رہے تھے یہاں تک حضرت علی(ع) کے مسلم فضائل بھی بیان نہیں کر سکتے تھے ایسے میں ان کے لئے بنی امیہ کے رد عمل کے طور پر حضرت علی(ع) کے فضائل کے بارے میں احادیث وضع کرنا کیسے ممکن تھا؟
تیسرے یہ کہ اہل سنت کے بہت سے محدثین ومولفین نے مہدی موعود (عج) سے متعلق شیعوں کی انھیں«جعلی احادیث»کو قبول کیا ہے حالانکہ اہل سنت راوی کے شیعہ ہونے کو اس کے قدح کی دلیل مانتے ہیں۔(۷)
.....................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔اس سلسلہ میں آیت اللہ صافی کی تالیف«منتخب الاثر» ملاحظہ فرمائیں۔
۲۔فہرست ابن ندیم ،ص/۲۲۳    ۔
۳۔نظریۃ الامامۃ احمد محمود صبحی، ص۴۰۴،۴۰۵۔
۴۔مقدمہ ابن خلدون ،ص/۳۱۱،۳۲۲۔
۵۔بین یدیہ الساعۃ ،ص/۱۲۳،۱۲۵۔
۶۔فجر الاسلام،ص/۳۳۷۔
۷۔اعیان الشیعہ ج/۱ ،ص/۵۵۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Nov 18