Tuesday - 2018 Nov 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188176
Published : 4/7/2017 15:54

غیبت کے طولانی ہونے کا ایک راز انسانی معاشرے کا فکری ارتقاء

عالم شیعیت کے عظیم مرجع تقلید اورمفسرقرآن مجید آیت اللہ جوادی آملی اپنی کتاب (امام مہدی علیہ السلام، موجود موعود) میں رقمطراز ہیں کہ:قرآن مجید اورعترت طاہرہ علیہم السلام کا اتحاد ایک مستحکم اورناقابل زوال اصل ہےکہ جو حدیث شریف ثقلین سے ثابت ہے،لہذا اس اصل کی بنا پر امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کی ضرورت سےعالم کائنات میں قرآن مجید کےظہورکی ضرورت کا نتیجہ لیا جاسکتا ہے۔


ولایت پورٹل:عالم شیعیت کے عظیم مرجع تقلید اورمفسرقرآن مجید آیت اللہ جوادی آملی اپنی کتاب (امام مہدی علیہ السلام، موجود موعود) میں رقمطراز ہیں کہ:قرآن مجید اورعترت طاہرہ علیہم السلام کا اتحاد ایک مستحکم اورناقابل زوال اصل ہےکہ جو حدیث شریف ثقلین سے ثابت ہے،لہذا اس اصل کی بنا پر امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کی ضرورت سےعالم کائنات میں قرآن مجید کےظہورکی ضرورت کا نتیجہ لیا جاسکتا ہے۔
ا۔ قرآن کریم کانزول بہت سے مقاصد کے لئے تھا،ان میں سے بعض یہ ہیں:انسانوں کی ہدایت (هُدًى لِلنَّاسِ)(سورہ بقرہ : ۱۸۵)، عادلانہ حکومت کےقیام کے لئے لوگوں کو آمادہ کرنا:( لِیَقُومَ النّاسُ بِالْقِسْطِ)(سورہ :۲۵) کیونکہ عادل کی حکومت کے بغیر عدل کے لئے قیام مقدور نہیں ہوگا۔
بشریت کو جہالت کی تاریکی اور ظلمت سے ہدایت کے نورکی طرف خارج کرنا:( كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ)(سورہ ابراہیم : ۱)۔
۲۔ ان مقاصد کا تحقق اس چیزکےمرہون منت ہے کہ یہ کلام شریف عالم کائنات میں نزول کرے اور حقیقی وجود پیدا کرے اور پھر انسانوں کےاختیار میں قرارپائے وگرنہ مقام لوح محفوظ سے بیت معمور تک قرآن مجید کا نزول ہے: (الْقُرْآنَ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ  عَلِيمٍ)، اگرچہ لیلۃ القدرکو قرآن کریم کا نزول ہوا ہے:(إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ)(جیسا کے بعض یہ خیال کرتے ہیں)۔ اگریہ قرآن عالم مادہ اورکائنات میں ظہورنہ کرے اورحقیقی وجود کی صورت میں لوگوں کے اختیار میں نہ آئے،اگرچہ ممکن ہے کہ بیت معمور تک رسائی حاصل کرنے والے پاکیزہ افراد کی ہدایت اوران کے دلوں کی نورانیت کا باعث بنتا ہو، لیکن اس کے وہ قرآنی اہداف پورے نہیں ہوتے ہیں کہ جوانسانی معاشرے کے ساتھ مختص ہیں،لہذا عالم مادہ میں الہی کلام کا نزول ضروری اورلازمی ہے۔
ہردورکا امام معصوم علیہ السلام قرآن کریم کے ہم پلہ ہے، لہذا اگراللہ تعالیٰ نزول قرآن کریم کے جو اہداف بیان کرے تو وہی اہداف امام معصوم علیہ السلام پربھی صدق کرتے ہیں، لہذا امام کا نصب بھی انہی مذکورہ اہداف کےتحت ہے۔
امت اسلامی کی امامت کے لئے امام کے نصب کےبعد اگروہ ہمیشہ کےلئے پردہ غیبت میں رہے اورلوگوں کے درمیان ظاہرنہ ہو تو پھرامامت کے وہ عمومی اہداف کبھی بھی متحقق نہیں ہوں گے۔
امام زمانہ علیہ السلام کا ہمیشہ پردہ غیبت میں رہنے کی وجہ سےاگر اولیائے الہی ان سے استفادہ کرسکتے ہیں لیکن عام انسانی معاشرہ اس سے محروم رہ جاتا ہے اور اس طرح امامت کےنصب کا اصلی ہدف متحقق نہیں ہوسکےگا کہ جوعام لوگوں کی ہدایت ہے۔
لہذا امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا ظہور حتمی اوریقینی ہے لیکن ان کی غیبت کی طولانی مدت انسانی معاشروں کی قابلیت اورلیاقت سے وابستہ ہے،جس طرح کہ فرمایا گیا ہے: (عدمہ منّا)۔
متعدد روایات بھی حضرت صاحب الامرعجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہورکے حتمی ہونے کی تائید کرتی ہیں:عبداللہ بن عمرکے نقل کےمطابق حضرت سید الشہداء علیہ السلام نے فرمایا: اگردنیا کی زندگی کا ایک دن باقی رہ گیا ہو تو اللہ تعالیٰ اس دن کو اتنا طولانی کردے گا تاکہ میرے بیٹوں میں سے ایک مرد، قیام کرے اور زمین کو اس طرح عدل وانصاف سےبھردے کہ جس طرح وہ اس سے پہلے ظلم وستم سےبھرچکی ہوگی اور میں نے اسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےسنا ہے:(عن عبدالله بن عمرقال سمعت الحسین بن علی یقول: لم یبق من الدنیا الا یوم واحد، لطول الله عزو جل ذلک الیوم حتی یخرج رجل من ولدی؛ فیملاها عدلا و قسطا کما ملئت جورا و ظلما. کذلک سمعت رسول الله صل الله علیه وآله  یقول )۔
بعض روایات میں امام زمانہ علیہ السلام کےظہورکو قیامت سے پہلےکا ایک حتمی اور یقینی واقعہ شمارکیا گیا ہے:(عن امیرالمومنین علیه السلام قال: قال رسول الله صل الله علیه وآله: عشر قبل الساعة لابد منها: السفیانی و الدجال و الدخان و الدابة و خروج القائم و طلوع الشمس من مغربها و نزول عیسی علیه السلام و خسف بالمشرق و خسف بجزیرة العرب و نار تخرج من قعرعدن تسوق الناس الی المحشر)
قیامت سے پہلے دس علامات کا ظاہرہونا حتمی ہے: سفیانی، دجال، دھواں، دابۃ الارض، امام مہدی علیہ السلام کا قیام، مغرب سے سورج کا طلوع ہونا،عیسی علیہ السلام کا نزول، مشرق میں شدید قسم کا زلزلہ اورعدن کے گہرائیوں سےنکلنے والی آتش کہ جو لوگوں کو محشر کی طرف دھکیلے گی۔
شبستان


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 20