Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188205
Published : 5/7/2017 17:6

تاریخ کا ایک ورق:

عرب میں لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کی رسم کا آغاز(2)

البتہ یہ رسم عام نہیں تھی کچھ قبیلے اور بڑی شخصیتیں اس کام کی مخالف تھیں،ان میں سے جناب عبد المطلب(ع)پیغمبر اسلام(ص) کے جد تھے جو اس کام کے شدید مخالف تھے،اور کچھ لوگ جیسے زید بن عمرو بن نفیل اور صعصعہ بن ناجیہ،لڑکیوں کو ان کے باپ سے فقر کے خوف سے زندہ درگور کرتے وقت لے لیتے تھے اور ان کو اپنے پاس رکھتے تھے۔


ولایت پورٹل:قارئین کرام! گذشتہ کالم میں ہم نے اسلام سے پہلے عربوں کے درمیان ایک نہایت ہی شدید اور گھناؤنی رسم کے متعلق گفتگو کی تھی،جس میں بیان ہوا تھا کہ اس منحوس رسم کا سایہ صحرائے عرب کے اکثر گھروں پر محیط تھا صرف چند گھر ایسے تھے جو اس رسم کو برا سمجھتے تھے اور لڑکیوں کی ولادت کو بدشگونی شمار نہیں کرتے تھے،آئیے جانتے ہیں کہ اس منحوس رسم کا بانی کون تھا،لہذا بہتر ہے کہ اس مضمون کو ابتداء سے پڑھنے کے لئے پہلے اس لنک کو دیکھتے ہیں تاکہ ہم اس موضوع کے خدوخال سے مکمل طور پر آشنا ہوجائیں!
عرب میں لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کی رسم کا آغاز(1)
گذشتہ سے پیوستہ:سب سے پہلا قبیلہ جس نے اس غلط رسم کی بنیاد ڈالی،وہ قبیلۂ بنی«تمیم»تھا کہا جاتا ہے کہ اس قبیلہ نے نعمان بن منذر کو ٹیکس دینے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے ان کے درمیان جنگ ہوئی جس میں بہت ساری لڑکیاں اور عورتیں اسیر کرلی گئیں جس وقت بنی تمیم کے نمائندے اسیروں کو چھڑانے کے لئے نعمان کے دربار میں حاضر ہوئے تو اس نے یہ اختیار خود ان عورتوں کو دے دیا کہ چاہیں تو حیرہ میں رہیں اور چاہیں تو بنی تمیم کے پاس چلی جائیں،قیس بن عاصم جو کہ قبیلہ کا سردار تھا اس کی لڑکی بھی اسیروں کے درمیان تھی اس نے ایک درباری سے شادی کرلی تھی لہٰذا اس نے دربار میں رکنے کافیصلہ کرلیا، قیس اس بات سے سخت ناراض ہوا اور اس نے اسی وقت عہد کر لیا کہ اس کے بعد وہ اپنی لڑکیوں کو قتل کر ڈالے گا۔(۱) اور اس نے یہ کام انجام بھی دیا،اس کے بعد آہستہ آہستہ یہ رسم دوسرے قبیلوں میں بھی رائج ہوگئی،کہاجاتا ہے کہ اس جرم اور قساوت میں قیس ،اسد،ہذیل اور بکر بن وائل نامی قبیلے شامل تھے۔(۲)
البتہ یہ رسم عام نہیں تھی کچھ قبیلے اور بڑی شخصیتیں اس کام کی مخالف تھیں،ان میں سے جناب عبد المطلب(ع)پیغمبر اسلام(ص) کے جد تھے جو اس کام کے شدید مخالف تھے۔(۳) اور کچھ لوگ جیسے زید بن عمرو بن نفیل اور صعصعہ بن ناجیہ،لڑکیوں کو ان کے باپ سے فقر کے خوف سے زندہ درگور کرتے وقت لے لیتے تھے اور ان کو اپنے پاس رکھتے تھے۔(۴)اور کبھی لڑکیوں کے عوض میں ان کے باپ کو اونٹ دے دیا کرتے تھے۔(۵)لیکن واقعات گواہ ہیں کہ یہ رسم عام طور پر رائج تھی کیونکہ:
۱۔صعصعہ بن ناجیہ نے زمانۂ اسلام میں پیغمبر(ص) سے کہاتھا کہ میں نے دور جاہلیت میں۲۸۰ لڑکیوں کو زندہ درگور ہونے سے بچایا ہے۔(۶)
۲۔قیس بن عاصم نے عہد کرنے کے بعد (جیسا کہ پہلے گزرچکا)اپنی ۱۲یا ۱۳ لڑکیوں کو قتل کیا۔(۷)
۳۔پیغمبراسلام(ص)نے پہلے پیمان عقبہ میں(بعثت کے بارہویں سال)جوکہ یثربیوں کے ایک گروہ کے ساتھ کیا تھا ،معاہدہ کی ایک شرط یہ قراردی کہ لڑکیوں کوزندہ درگور نہ کریں۔(۸)
۴۔فتح مکہ کے بعد پیغمبراسلام(ص) نے خدا کے حکم سے اس شہر کی مسلم عورتوں سے بیعت لیتے وقت یہ شرط رکھی تھی کہ اپنی لڑکیوں کو قتل کرنے سے پرہیز کریں۔(۹)
۵۔قرآن کریم نے متعدد مقامات پر اس رسم کی شدید مذمت فرمائی ہے،لہٰذا ان واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مسئلہ اس سماج کی سب سے بڑی مشکل تھی جس کے بارے میں قرآن کریم نے خبردار کیا ہے۔
۶۔اور خبر دار! اپنی اولاد کو فاقہ کے خوف سے قتل نہ کرو کہ ہم انھیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمھیں بھی رزق دیتے ہیں بیشک ان کا قتل کردینا بہت بڑا گناہ ہے۔(۱۰)
۷۔اور اسی طرح ان شریکوں نے بہت سے مشرکین کے لئے اولاد کے قتل کو بھی آراستہ کر دیا ہے تاکہ انکو تباہ و برباد کردیں اور ان پر دین کو مشتبہ کردیں۔(۱۱)
۸۔یقیناً وہ لوگ خسارہ میں ہیں جنھوں نے حماقت میں بغیر جانے بوجھے اپنی اولاد کو قتل کردیا۔(۱۲)
۹۔اپنی اولاد کو غربت کی بنا پر قتل نہ کرنا کہ ہم تمھیں بھی رزق دے رہے ہیں اور انہیں بھی۔(۱۳)
۱۰۔اور جب زندہ در گور لڑکیوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ انھیں کس گناہ میں مارا گیا ہے۔(۱۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ابو العباس المبرد،ایضاً،ج۱،ص۳۹۲،ابن ابی الحدید،ایضاً،ج۱۳،ص۱۷۹۔
۲۔ابن ابی الحدید،ایضاً ،ج۱۳،ص۱۷۴۔
۳۔آلوسی،ایضاً ،ج۱،ص۳۲۴،تاریخ یعقوبی،(بیروت :دارصادر)ج۲،ص۱۰۔
۴۔آلوسی،ایضاً،ج۳،ص۴۵،ابن ہشام،السیرۃ النبویہ،تحقیق:مصطفی السقاء(اور دوسرے لوگ) (تہران: آفسٹ ،مکتبۃ الصدر)،ج۱،ص۲۴۰۔
۵۔محمد ابوالفضل ابراہیم (اوران کے معاونین)،قصص العرب(بیروت:داراحیاء التراث العربی، ط۴) ج۲،ص۳۱،ابوالعباس المبرد،گزشتہ حوالہ،ص۲۹۴،فرزدق کے جد،صعصعہ ،عصر اسلام کے شاعرتھے اور وہ اپنے جد کے اس فعل پر افتخار کرتے تھے اور کہتے تھے:ومناالذی منع الوائدات فأحیا الوئید فلم یوأد۔(قرطبی،تفسیر جامع الاحکام، ج۱۹، ص۲۳۲)۔
۶۔ابو العباس المبرد،ایضاً،ج۱،ص۳۹۴۔
۷۔ابن اثیر ،اسد الغابہ (تہران: المکتبۃ الا سلامیہ ،۱۳۳۶)ج۴،ص۲۲۰(شرح حال قیس بن عاصم ) منقول ہے کہ قیس عصر اسلام میں مسلمان ہوئے اور پیغمبر اسلامؐ کی خدمت میںپہنچے اور عرض کیا :زمانۂ جاہلیت میں، میں نے اپنی آٹھ لڑکیوںکو زندہ در گور کردیا تھااب اس فعل کاجبران کیسے کروں؟ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ ان میں سے ہر ایک کے بدلے ایک غلام آزاد کرو۔اس نے کہا:میرے پاس بہت اونٹ ہیں۔تو آپؐ نے فرمایا:ان میںسے ہر ایک کے بدلے اونٹ کی قربانی بھی کرسکتے ہو۔(قرطبی،تفسیر جامع الا حکام،ج۱۹،ص۲۳۳)۔
۸۔ ابن ہشام ،ایضاً،ج۲،ص۷۵۔
۹۔{یاایھاالنبی اذاجائک المؤمنات یبایعنک علی ان لایشر کن باللّٰه شیئاً ولا یسرقن ولایزنین ولا یقتلن اولادھن ولا یأتین ببھتان یفترینه بین ایدیھن وارجلھن ولایعصینک فی معروف فبا یعھن واستغفرلھن اللّٰه ان اللّٰه غفوررحیم}۔سورۂ ممتحنہ:۱۲۔)
۱۰۔{ولا تقتلو ا اولاد کم خشیة املاق نحن نرزقھم وایا کم ان قتلھم کان خطأ کبیراً}۔(الاسراء:۳۱)۔
۱۱۔سورۂ انعام {وَکَذَلِکَ زَیَّنَ لِکَثِرٍ مِنْ الْمُشْرِکِینَ قَتْلَ أَوْ لاَدِ ھِمْ شُرَکَاء ھُمْ لِیُرْدُوھُمْ وَلِیَلْبِسُو اعَلَیْھِمْ دِینَھُمْ وَلَوْ شَاء اللہُ مَا فَعَلُوہُ فَذَرْھُمْ وَمَایَفْتَرُونَ}آیت ۱۳۷۔
۱۲سورۂ انعام {قَدْ خَسِرَ الَّذِینَ قَتَلُوا أَوْلاَدَھُمْ سَفَھًا بِغَیْرِ عِلْمٍ}آیت ۱۴۰۔
۱۳۔سورۂ انعام {وَلاَتَقْتُلُوا أَوْلاَدَکُمْ مِنْ اِمْلاَقٍ نَحْنُ نَرْزُ قُکُمْ وَاِیَّاھُم}آیت ۱۵۱۔
۱۴۔سورۂ تکویر {وَاِذَالْمَؤُوْدَۃُ سُئِلَتْ بِاَی ذَنْبٍ قُتِلَتْ} آیت:۸۔ ۹۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16