Tuesday - 2018 Oct. 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188288
Published : 9/7/2017 18:32

امام صادق(ع) کے کارناموں میں سے ایک مضبوط تبلیغی نیٹ ورک کا قیام تھا:رہبر انقلاب

یہ دنیا کے گوشہ و کنار سے مدینے میں لائے جانے والے شرعی اموال، یہ مسائل دینی کے بارے میں اس قدر زیادہ تعداد میں کئے جانے والے سوالات، یہ ہر طرف پھیلی ہوئی تشیع کی جانب دی جانے والی دعوت، اور اسی طرح مملکت اسلامی کے اہم ترین حصوں میں اولادِ علی سے پائی جانے والی اس قدر محبت، اور امام(ع) کے گرد خراسان، سیستان، کوفہ، بصرہ، یمن اور مصر سے تعلق رکھنے والے محدثوں اور راویانِ حدیث کا انبوہ کثیر؟ ۔۔۔ کون سی طاقت تھی جو ان سب چیزوں کو وجود میں لے آئی تھی؟ کیا اس متناسب اور ایک دوسرے سے مربوط مظاہر کو کسی حادثہ یا خودبخود پیدا ہونے والے واقعات کا نتیجہ قرار دیا جاسکتا ہے ؟


ولایت پورٹل:ائمۂ معصومین(ع) کی غیر مدون زندگی نامہ کا مطالعہ کرنے والا شخص اپنے آپ سے پوچھتا ہے کہ کیا ائمۂ شیعہ کے پاس بنی امیہ کے آخری دور میں مملکت اسلامی کے گوشہ و کنار میں داعی اور مبلغ نہیں تھے جو ان کی امامت کی تبلیغ کرتے اور لوگوں سے ان کی اطاعت اور حمایت کا عہد لیتے؟ پس اس صورت میں اس تنظیمی وابستگی کی علامات کی کیا توجیہ کی جاسکتی ہے جو ائمہ اور ان کے شیعوں کے درمیان مالی و فکری تعلق کے حوالے سے واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے؟ یہ دنیا کے گوشہ و کنار سے مدینے میں لائے جانے والے شرعی اموال، یہ مسائل دینی کے بارے میں اس قدر زیادہ تعداد میں کئے جانے والے سوالات، یہ ہر طرف پھیلی ہوئی تشیع کی جانب دی جانے والی دعوت، اور اسی طرح مملکت اسلامی کے اہم ترین حصوں میں اولادِ علی سے پائی جانے والی اس قدر محبت، اور امام(ع) کے گرد خراسان، سیستان، کوفہ، بصرہ، یمن اور مصر سے تعلق رکھنے والے محدثوں اور راویانِ حدیث کا انبوہ کثیر؟ ۔۔۔ کون سی طاقت تھی جو ان سب چیزوں کو وجود میں لے آئی تھی؟ کیا اس متناسب اور ایک دوسرے سے مربوط مظاہر کو کسی حادثہ یا خودبخود پیدا ہونے والے واقعات کا نتیجہ قرار دیا جاسکتا ہے ؟
ان تمام مخالفانہ پروپیگنڈے کے باوجود جو بلااستثناء ہر مقام پر خلافتِ اموی کی پروپیگنڈہ مشینری کی جانب سے جاری تھا حتیٰ کہ منبروں پر اور خطبوں میں حضرت ابن علی بن طالب(ع) کانام مذموم ترین شخصیت کے طور پر لیا جاتا تھا تو کیا (ایسی صورت میں)بغیر کسی مضبوط تبلیغاتی نیٹ ورک کی موجودگی کے ممکن تھا کہ اولادِ علی کو دور دراز علاقوں میں اس قدر محبوبیت اور جاذبیت حاصل ہوتی کہ کچھ لوگ محض ان کے دیدار، ان سے استفادہ اور ان سے دوستی اور تعلق کے بندھن کا اظہار کرنے کے لئے طویل مسافت طے کرکے حجاز اور مدینہ آئیں اور دینی علم کو جو شیعہ عقیدے کے مطابق سیاست اور حکومت کی طرح سے ہے، ان سے حاصل کریں اور متعدد مواقع پر بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عسکری اقدام (اور روایات کی زبان میں قیام اور خروج) کی ان سے خواہش کر بیٹھیں؟ اگر شیعوں کا ہتھیاروں سے مسلح ہونا صرف ائمہ کے علم و زہد کو ثابت کرنے کے لئے تھا، تو پھر ان سے مسلح قیام کی درخواست کے کیا معنی کئے جاسکتے ہیں؟

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Oct. 23