Wed - 2018 Oct. 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188298
Published : 10/7/2017 16:32

امام صادق(ع) کی یونیورسٹی

ارف ثامر کا کہنا ہے:علمی میدان پر امام صادق علیہ السلام کے سلسلہ میں گفتگو کرنا واجب ہوگیا کہ فکر مدرسۂ کے پہلے بانی آپ(ع) ہیں ،فلسفہ باطنی کی تعلیم کا پہلا مرکز قائم کرنے والے آپ(ع) ہی ہیں نیزعلم کیمیاء کے موجدبھی آپ ہی ہیں جس کے سلسلہ میں جابر بن حیان صوفی طرسوسی نے گفتگو کی ہے، آپ(ع) ہی نے عقل اسلامی کو اس کے محدود دائرہ سے نکال کرخوشگوار اور کھلی فضاعطا فرمائی جس کے ہر پہلو میں صحیح و سالم فکری اور علمی آزادی پائی جاتی ہے جومنطق اور حقیقت پر مبنی ہے۔


ولایت پورٹل:حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی یونیورسٹی عباسی دور میں سب سے نمایاں جامعہ تھی جو علمی زندگی کے امور انجام دے رہی تھی آپ(ع)نے مختلف علوم کے اقسام کی نشر و اشاعت جن کو لوگ اس وقت تک نہیں جانتے تھے اس یونیورسٹی نے بہترین مفکر ،منتخب فلسفی اورنامور علماء پیش کئے،بعض محققین کا کہنا ہے:(اس مقام پر اس حقیقت کا بیان کرنا واجب ہے کہ ترقی پر گامزن ہونے کے لئے اسلامی ثقافت اور عربی فکر اسی یونیورسٹی کی مرہون منت ہیں اور اس کے عمید و سرپرست امام جعفر صادق علیہ السلام نے علمی تجدد اور قیمتی میراث چھوڑی ہے )۔{ حیاۃ الامام الصادق،ج۱،ص۱۳۱}۔
عارف ثامر کا کہنا ہے:علمی میدان پر امام صادق علیہ السلام کے سلسلہ میں گفتگو کرنا واجب ہوگیا کہ فکر مدرسۂ  کے پہلے بانی آپ(ع) ہیں ،فلسفہ باطنی کی تعلیم کا پہلا مرکز قائم کرنے والے آپ(ع) ہی ہیں  نیزعلم کیمیاء کے موجدبھی آپ ہی ہیں جس کے سلسلہ میں جابر بن حیان صوفی طرسوسی نے گفتگو کی ہے، آپ(ع) ہی نے عقل اسلامی کو اس کے محدود دائرہ سے نکال کرخوشگوار اور کھلی فضاعطا فرمائی جس کے ہر پہلو میں صحیح و سالم فکری اور علمی آزادی پائی جاتی ہے جومنطق اور حقیقت پر مبنی ہے۔{ جعفر الصادق ملھم الکیمیاء،ص۳۲}۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Oct. 17