Monday - 2018 Oct. 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188303
Published : 10/7/2017 17:51

دنیا حیران، مطمئن ایران

عالمی سطح پر رونما ہونے والی اس ہلچل اور ایران کے مطمئن وسامراج کے حیران ہونے کی وجہ اسلام پسندی اور اسلام دشمنی میں پوشیدہ ہے،امت اسلامیہ کوسنی وشیعہ اور عرب وعجم کے نفرت انگیز خانوں میں تقسیم کرنے والی اسلام دشمن طاقتوں کے پیروں کے نیچے سے اب زمین کھسکتی دکھائی دے رہی ہے،درحقیقت امام حسین(ع) مظلوم نے کربلا کے میدان میں اپنے اعزاء و اقرباء اور احباب وانصار کی شہادت کے ذریعہ مذہب اسلام کا ایسا بیمہ کردیا ہے کہ اب رہتی دنیا تک کسی یزیدی میں یہ جرأت نہ ہوگی کہ وہ کسی مسلمان سے اعلانیہ بیعت کا مطالبہ کرسکے اور اسلام سے اپنی عداوت کا اعلان کرسکے۔


ولایت پورٹل:سردست بین الاقوامی سطح پر یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایران نے جوہری پروگرام میں اپنی کامیابی کے ذریعہ عالمی انسانی برادری کے حق میں بہت بڑا جرم کیا ہے،لہٰذا اقوام متحدہ کی سب سے بڑی اور طاقتور عالمی تنظیم سلامتی کونسل کو ایران کے خلاف تادیبی کارروائی کرنی چاہیۓ اور اگر ایران سلامتی کونسل کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے آمادہ نہ ہوتو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایران کے خلاف سخت فوجی کا رروائی کرنی چاہیۓ،ایران کے خلاف امریکہ کا یہ مطالبہ کس حدتک جائز ہے یہ دیکھنا ضروری ہے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ اور کشمکش کا اجمالی خاکہ پیش کرنے سے پہلے ایرانی جرم اور تجویز کی گئی سزاکا تجزیہ لازمی معلوم ہوتا ہے،عالمی تنظیموں اور عدالتی اداروں کی بات تو اپنی جگہ پر ہے عام طور پر تو یہی دیکھا گیا ہے کہ جرم اور سزا کے درمیان تناسب وتوازن کا ہونالازمی ہے،ہلکے جرم کی بھاری سزا اور سنگین جرم کی ہلکی سزا عدل و انصاف کے بنیادی تقاضہ کو بھی پورا نہیں کرتی ہے اور ایران کے سلسلے میں اگر غور سے دیکھا جائے تو ایران دنیا کی اکلوتی بڑی طاقت کی حمایت کے بغیر جوہری تو انائی حاصل کرنے میں کا میاب ہوگیا ہے، جو اسے دنیا کے آٹھ بڑے ملکوں کی فہرست میں شامل کردیتی ہے،ایران نے اب تک کوئی جوہری بم نہیں بنایا اور ببانگ دہل یہ اعلان کررہا ہے کہ اس نے یہ ایٹمی ترقی،جوہری بم کو تولید کے لئے نہیں بلکہ اس انرجی کوصلح آمیز مقاصد کے لئے حاصل کیا ہے، ایران کا جوہری بم بنانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے،درحقیقت ارتکاب جرم سے قبل عالمی سلامتی کونسل سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کا رروائی کی قرار داد پاس کردے، ایک غیر منطقی اور غیر عادلانہ تجویز ہے۔
اس کے ساتھ ہی دوسرا اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر جو ہری بم کی تولید جرم کے دائرہ میں آتی ہے تو عالمی سلامتی کونسل نے اب تک ان ملکوں کے خلاف کیا قدم اٹھائے ہیں جو جوہری بم پیدا کرچکے ہیں؟ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ عالمی سلامتی کونسل کی نظر میں ان ملکوں کو کیا سزادی جانی چاہیۓ جو اس بم کا کراستعمال بھی کرچکے ہیں؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران کا قصور کیا ہے؟ عالمی ابلاغ عامہ کے ذریعہ ساری دنیا میں یہ پروپیگنڈہ کیوں کیا جارہا ہے کہ افغانستان اورعراق کے بعد اب ایران کی باری ہے؟ امریکی صدر جاج ڈبلیو بش کو یہ حق کہاں سے حاصل ہوگیا کہ وہ آئے دن ایران کے جوہری ٹھکانوں کو برباد کرنے کے لیے فوجی کا رروائی کی دھمکی جاری کرتے رہیں ہیں؟ امریکی حکومت کو یہ حق کیسے اور کہاں سے حاصل ہوگیا کہ وہ ایران میں اپنی من پسند جمہوریت کی تشکیل کے بہانہ ایران کی اسلامی جمہوری حکومت کے خلاف تشدد آمیزسر گرمیوں میں اضافہ کے لیے ۵۸؍ ملین ڈالر کا خصوصی بجٹ پاس کرنے کا اعلان کردے؟ اگر ان سوالوں کا محققانہ اور غیرجانب دارانہ تجزیہ کیا جائے تو صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ امریکہ سلامتی کونسل کی قرار داد کی آڑ میں ایران کے خلاف جو فوجی کاروائی کرنا چاہتا ہے اس کی بنیادی وجہ ایران کے ذریعہ یورینیم کی افزودگی یا جوہری بم کی متوقع تولید نہیں ہے اور فطری تقاضہ بھی یہی ہے کہ امریکہ جوہری بم کا سب سے بڑا سودا گر ہے،وہ ایرانی جوہری بم سے کیوں خوفزدہ ہونے لگا، غور سے دیکھا جائے تو ایران، امریکہ کشمکش اور مخاصمت کی وجہ ج ہری بم نہیں کچھ اور ہے۔
درحقیقت تقریباً گزشتہ تین دہائیوں کے دوران امریکہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ہر ممکن کارروائی کرڈالی لیکن اس کو اپنے مشن میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی،اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ابتدائی مرحلہ سے لے کر آج تک امریکہ ایران کو پوری دنیا سے الگ تھلگ کردینے میں سرگرم رہا لیکن آج ایران نہ صرف یہ کہ عالمی انسانی برادری کا ایک اہم اور اٹوٹ حصہ بناہوا ہے اور عالمی سطح پر ہر جگہ یعنی معمولی قہوہ خانوں سے لے کر پنج ستارہ ہوٹلوں کے بند کمروں تک اور کوچہ وبازار سے لے کر سیاہ وسفید محلوں تک ہر جگہ ایران کا چرچا ہے، جس کو دیکھنے کے بعد صاف ظاہر ہوجا تا ہے کہ امریکہ ایران کو دنیا سے الگ رکھنے میں پوری طرح ناکام رہا ہے، اس سلسلے میں اسلامی ملکوں کی حمایت کے ساتھ ساتھ ایران کو چین، جرمنی اور دیگر غیر اسلامی ملکوں کی حمایت بھی حاصل ہے،عالمی سامراج حیران ہے کہ ایران جیسے چھوٹے ملک کے مٹھی بھر قدامت پسند مسلمانوں نے ۱۹۷۹ء میں جوانقلاب برپا کیا تھا، اس کو لاکھوں ایرانی عراقی مسلمانوں کے قتل عام اور خوفناک بم دھماکوں اور جان لیوا سازشوں کے ذریعہ بھی گمنامی کے گڈھے میں ڈھکیلا نہیں جاسکا۔
آپ لوگوں کو اس حقیقت کا بخوبی علم ہے کہ امریکہ نے ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اسلامی جمہوری حکومت کی تشکیل کے فوراً بعد ہی ایران پر اقتصادی پابندی لگادی تھی جو آج تک جاری ہے اور اس پابندی کے ساتھ ہی امریکہ عالمی سطح پر اس پروپیگنڈہ میں بھی سرگرم ہوگیا تھا کہ اسلام ایک دقیانوسی خیالات کا حامل مذہب ہے،یہ ماضی کی داستان بن چکا ہے اور اس میں عصر حاضر کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے لیکن اس محاذ پر بھی زندگی کے ہرشعبہ مثلاً سماجیات، اقتصادیات، علمی وتکنیکی ترقیات اور پڑوسی وعالمی ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات جیسے شعبوں میں ایران نے اپنی حیرت انگیز کامیابیوں سے یہ ثابت کردیا ہے کہ ترقی کے لئے امریکی حمایت کا ہونا ضروری نہیں ہے اور اسلام ماضی کی داستان نہیں بلکہ اس اکیسویں صدی کے ہر مسلمان کی زندگی کا اٹوٹ حصہ ہے اور دنیا کی جو قومیں اسلام اور اسلامی تعلیمات کو اپنی زندگی کا اٹوٹ حصہ تصور کرتی ہیں وہ اس دور میں بھی سربلندی کی زندگی بسر کررہی ہیں، در حقیقت خداوند عالم کی لازوال طاقت پر ایران کا یہ اٹوٹ اعتماد واعتقاد ہی ایران کو مطمئن کیے ہوئے ہے اور یہی وہ مسئلہ ہے جس نے دنیا بالخصوص دنیاوی سامراج کو غیر معمولی حیرت میں مبتلا کررکھا ہے اور ان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ایران جس لازوال غیبی طاقت کی بات کرتا ہے وہ اسے کہاں سے حاصل ہورہی ہے، جی ہاں! اس لازوال طاقت کا رازحقیقی اسلامی قوانین واحکام کی پیروی میں مضمر ہے اور اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امام خمینیؒ مشرق ومغرب کی دونوں بڑی طاقتوں کی تردید اور فقط اسلامی جمہوری طاقت پر مکمل انحصار کا اعلان انقلاب کی ابتداء میں ہی کرچکے تھے، ان کا’ لاشرقیہ ولاغربیہ جمہوریہ اسلامیہ‘ کا نعرہ آج بھی پوری طرح زندہ اور ایرانی عوام کے لئے لائحۂ عمل کا درجہ رکھتا ہے،شاید اسلام کی یہی حق بیانی ہے جس نے موجودہ صدر ایران محمود احمدی نژاد کو یہ اعلان کرنے پر مجبور کردیا کہ ایران لازمی جوہری اور ایٹمی طاقت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیاہے۔
در حقیقت صدر احمدی نژاد کے اس بیان کو طفلانہ کوشش قرار دینے والے دانشوروں کو کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے اسلام اور اسلامی قوانین کا مطالعہ ضرور کرلینا چاہیۓ جو سیاست میں مکرو فریب اور ڈپلومیسی کی آڑمیں دروغ گوئی کا سخت مخالف ہے، جو ہر مسلمان سے عمل صالح کا مطالبہ کرتا ہے اور اسے یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ نتیجہ کی فکر میں سرگرداں ہونے کی ضرورت نہیں ہے نتیجہ تو خداوند عالم کے ہاتھ ہے۔
جی ہاں! عالمی سطح پر رونما ہونے والی اس ہلچل اور ایران کے مطمئن وسامراج کے حیران ہونے کی وجہ اسلام پسندی اور اسلام دشمنی میں پوشیدہ ہے،امت اسلامیہ کوسنی وشیعہ اور عرب وعجم کے نفرت انگیز خانوں میں تقسیم کرنے والی اسلام دشمن طاقتوں کے پیروں کے نیچے سے اب زمین کھسکتی دکھائی دے رہی ہے،درحقیقت امام حسین(ع) مظلوم نے کربلا کے میدان میں اپنے اعزاء و اقرباء اور احباب وانصار کی شہادت کے ذریعہ مذہب اسلام کا ایسا بیمہ کردیا ہے کہ اب رہتی دنیا تک کسی یزیدی میں یہ جرأت نہ ہوگی کہ وہ کسی مسلمان سے اعلانیہ بیعت کا مطالبہ کرسکے اور اسلام سے اپنی عداوت کا اعلان کرسکے،یہی وجہ ہے کہ ۱۱؍ستمبر کو رونماہونے والے انسانیت سوزاور بے رحمانہ دھماکوں کی آڑمیں راتوں رات مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے والی طاقتیں بے بنیاد اسباب کی آڑ میں عراق اورافغانستان مسلمانوں کے قتل عام میں سرگرم ہیں۔
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حملہ آور اتحادی فوجوں نے بغداد اور افغانستان میں کامیابی حاصل کرلی ہے لیکن حقیقت بالکل برعکس ہے،انہیں دونوں جگہ بے گناہوں کے خونین دلدل سے نکل بھاگنے کی راہ نہیں مل رہی ہے اور یہ سب کچھ ایسی طاقت کا کرشمہ ہے، جس پراٹوٹ بھروسہ کی وجہ سے انقلاب کے قائد آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای مد ظلہ العالی اور سابق ایرانی صدر احمدی نژاد اپنے دشمن کو انھیں کے لہجے میں جواب دیتے ہوئے یہ پیغام دیا ہے کہ الٰہی طاقت پر بھروسہ کرنے والے مقصد کی راہ میں مادی نقصانات کی پرواہ نہیں کیا کرتے بلکہ ان نقصانات کو سعادت اور شہادت کے نام سے تعبیر کرتے ہیں اور مطمئن رہا کرتے ہیں کیونکہ وعدۂ الہٰی سچا ہے اور پورا ہوکررہے گا۔
 پروفیسرسید اختر مہدی رضوی


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Oct. 15