Thursday - 2018 Dec 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188358
Published : 13/7/2017 17:22

مسلمان خواتین کا پردہ دنیا کے ہر کونے میں خاموش احتجاج ہے:طوبٰی کرمانی

عالم اسلام کی خواتین کے تنظیموں کی سربراہ نے اس بات کی تاکید کی ہے کہ عفت کان و آنکھ و ہاتھ و زبان کا مجموعہ ہے اگر انسان اسے محفوظ نہ کرے تو انسانی معاشرہ بے عفت ہو جا ئے گا۔


ولایت پورٹل:عالم اسلام کی خواتین کے تنظیموں کی سربراہ، ڈاکٹر طوبیٰ کرمانی نے ۲۱ تیر ( یوم عفاف و حجاب ) کی مناسبت سے ایک تقریب کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:مذہبی اور غیر مذہبی ایام کو نام دینے کی کوئی نا کوئی وجہ ضرور ہے، ایران میں یوم عفاف و حجاب بھی مشہد مقدس میں کشف حجاب کے قانون کے خلاف ہونے والے مظاہرے کی یاد میں منایا جاتا ہے کہ جب ۲۱ تیر ۱۳۱۴ شمسی کو مشہد مقدس میں رضاخان کے کشف حجاب کے قانون کی مخالفت میں خواتین کی جانب سے پرزور مظاہرہ ہوا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ:اس طرح کے مظاہروں میں شیعہ سنی نہیں ہوتا، یہ اسلام کی بات ہے  اور سب اسلام کے پابند ہیں اسلام کی ریڈ لائن میں سے ایک عفاف بمعنی عام اور پردہ بمعنیٰ خاص ہے۔
انھوں نے کہا کہ:عفاف بمعنٰی عام میں زبان، آنکھ، کان، قلم ہاتھ شامل ہیں جبکہ ظاہری پردہ بھی عفت کو ہی کہا جاتا ہے، جب عفت نہیں ہوگی تو حدود پائمال ہوتے ہیں اور انسانی تعلقات ختم ہو جاتے ہیں، انسان کی فطرت زیر سوال چلی جاتی ہے ایک انسان اور ایک معاشرہ اپنا تقدس،اپنی اقدار کھو بیٹھتا ہے، اسکے اقدار کی عمارت منہدم ہو جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ:اگر انسان کی عفت اعضاء و جوارح کے مجموعے کا نام ہو تو وہ ایک انداز فکر کی حکایت کرتا ہے اور اگر اس کی حفاظت نہیں کی گئی تو یہ بات  روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس بے عفتی کا اثر انسانی معاشرے پر پڑے گا اور معاشرہ بھی بے عفت ہو جائے گا۔
انھوں نے یادہانی کرائی کہ جس طرح ایک ملک کا پرچم اور قومی ترانہ اس ملک کی حکایت کرتا ہے اسی طرح ہم مسلمان خواتین کا پردہ چاہیے سنی ہو یا شیعہ ہو بغیر اس بات کے یہ کہا جائے کہ یہ کس ملک سے تعلق رکھتے ہیں دنیا بھر میں ہماری وحدت کی حکایت کرتا ہے۔
گفتگو کے دوران انھوں نے کہاکہ :کسی کے کہے یا سنے بغیر ہمیں اپنے پردے کی حفاظت  کرنی چاہیے، ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں، انھوں نے کہا کہ:جب میں روم گئی تو ثقافتی امور کی ماہر محترمہ لینا مستاکیڈو  نے میرا انٹرویو لیا اور مجھ سے سوال کیا کہ کیا  آپکا  یہ پردہ زور زبردستی کی حکایت نہیں کرتا؟ تو میں نے کہا کہ:آپکے کلیسا میں جو مقدس خواتین کا پردہ ہے وہ زور زبردستی کی علامت ہے؟ انھوں نے کہا کہ نہیں،یہ ایک مقدس لباس ہے کہ جو وہ خواتین اپنی مرضی اور پسند سے زیب تن کرتی ہیں، میں نے کہا کہ :مسلمان خواتین سب کی سب مقدس ہیں، توانھوں نے کہاکہ:میں نے آپ سے بہت خوبصورت جواب سنا۔
محترمہ کرمانی نے اپنے بیان کے ایک حصہ میں کہا کہ:ایک  پردہ دار خاتون بیان کرتی ہیں کہ  وہ ایک دن میں میٹرو میں جارہی تھیں کہ ایک بدحجاب خاتون نے ان سے کہا:کیوں اس گرمی میں ہلاک ہوئی جارہی ہو؟اس نے جواب دیا کہ میرا پردہ تمہاری وجہ سے ہے، اسے بڑا تعجب ہوا، میری وجہ سے؟ اس نے کہا کہ ہاں، تاکہ تمہاری زندگی اچھی گذرے اور تمہارا شوہر صرف تمہیں دیکھے نا کسی اور کو اور اس کا دل تمہاری نسبت سرد مہری کا شکار نہ ہو۔
محترمہ کرمانی نے ایک آپ بیتی سناتے ہوئے کہا کہ: ۱۲یا ۱۳سال پہلے ایک دن جب میں کرملین کے محل میں گئی تو وہاں بہت سارے ممالک کے لوگ اس محل کو دیکھنے آئے ہوئے تھے کہ جو اکثر بے حجاب تھے تو میں نے ایک سے کہا کہ ہم دنیا میں ہر جگہ جناب مریم کو باپردہ دیکھتے ہیں کیوں آپ مسیحی لوگ ان کو اپنے لئے آئڈیل نہیں بناتے؟  اس میں سے ایک نے بلافاصلہ جواب دیا:تم ایرانی ہو ؟۔
انھوں نے کہا کہ:اگرچہ استکبار نے بہت سے لوگوں کے سروں سے پردے ہٹادئے ہیں لیکن ان کے دل اب تک اس پردے کو چاہتے ہیں۔

تقریب


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Dec 13