Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 188387
Published : 15/7/2017 17:50

تعلیمات دین میں حسد کے نقصانات

قباحت کے لحاظ سے حسد کے کئی درجے ہیں، سب سے بد تر یہ ہے کہ کسی شخص کو اللہ تعالی نے جو نعمت دی ہے اس سے چھن جانے کی تمنا کرنا ،پھر بعض کی کوشش ہوتی ہے کہ اس سے چھن کر مجھے مل جائے اور بعض کو اس سے غرض نہیں ہوتی بلکہ وہ اسی پر خوش ہوتے ہیں کہ اب اس شخص کے پاس یہ نعمت نہیں رہی۔


ولایت پورٹل:قَالَ رسول اللہ (ص):«إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ»۔
روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:حسد سے بچو! کیونکہ یہ بات یقینی ہے کہ حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے ، جس طرح آگ لکڑی کو۔
1. روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:« لاَ تَبَاغَضُوا ، وَلاَ تَحَاسَدُوا ، وَلاَ تَدَابَرُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا»
ترجمہ:ایک دوسرے کے مقابلے میں بغض نہ رکھو ایک دوسرے کے مقابلے میں حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔
اس حدیث میں حسد کرنے والے کے مقابلے میں اس پر حسد کرنا منع فرمایا گیا ہے تو اس شخص پر حسدکرنا بدرجہ اولی حرام ہوا جو تم پر حسد نہیں کرتا۔
2۔ حسد کا معنی کسی شخص پر اللہ کی نعمت کے زوال کی تمنا کرنا کہ یہ نعمت اسے کیوں ملی، یہ اس سے چھن جانی چاہیئے پھر خواہ وہ حسد کرنے والے کو ملے یا نہ ملے۔
قباحت کے لحاظ سے حسد کے کئی درجے ہیں، سب سے بد تر یہ ہے کہ کسی شخص کو اللہ تعالی نے جو نعمت دی ہے اس سے چھن جانے کی تمنا کرنا ،پھر بعض کی کوشش ہوتی ہے کہ اس سے چھن کر مجھے مل جائے اور بعض کو اس سے غرض نہیں ہوتی بلکہ وہ اسی پر خوش ہوتے ہیں کہ اب اس  شخص کے پاس یہ نعمت نہیں رہی۔
دوسرا یہ کہ عملی طور پر تو اسےنقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرے لیکن دل میں یہ خواہش رکھے کہ اس کے پاس یہ نعمت نہ رہے۔
یہ دونوں صورتیں حرام ہیں اور سورہ فلق میں ایسے حاسدوں کے شر سے پناہ مانگنے کی تلقین فرمائی گئی ہے:«وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ»
ترجمہ:اور حاسد کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جب وہ حسد کرے۔
یعنی حسد کے تقاضے کے مطابق زوال نعمت کی خواہش رکھے یا اس کے لئے عملی کوشش بھی کرے۔
حسد کی ایک صورت یہ ہے کہ دل میں خیال آتا ہے کہ اس شخص کویہ نعمت کیوں ملی مگر آدمی اس خیال کو دل سے ہٹا دیتا ہے،نہ اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے نہ ہی ایسا ارادہ و خواہش رکھتا ہے کہ اس سے وہ نعمت چھن جائے اس پر مؤاخذہ نہیں ہوگا،ایسے خیالات آہی جاتے ہیں، کیونکہ انسان کی طبیعت میں یہ بات رکھ دی گئی ہے کہ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اس کا کوئی ہم جنس کسی خوبی میں اس سے بڑھ کر ہو تو جو شخص ایسے خیال آنے پر انہیں دور کرنے کی کوشش کرے اور محسود کے ساتھ احسان کرے، اس کے لئے دعا کرے، اس کی خوبیاں عام بیان کرنا شروع کر دے تاکہ دل میں اس بھائی کے حسد کی بجائے اس سے محبت پیدا ہو جائے تو یہ اس کے ایمان کے اعلی درجہ کی علامت ہے۔
3۔ حسد کے حرام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ حاسد در اصل اللہ تعالی سے ناراض ہوتا ہے کہ اس نے فلاں شخص کو وہ نعمت کیوں دی، پھر بندے پر اس کے کسی جرم کے بغیر ناراض ہوتا ہے کیونکہ اس نعمت کے حصول میں اس کا کچھ اختیار نہیں ، تو حاسد در اصل اللہ کا دشمن ہے، اللہ کے بندوں کا بھی دشمن ہے۔
4۔ حسد کا علاج یہ ہے کہ یہ سوچے کہ حسد کا نقصان دین و دنیا میں حسد کرنے والے کو ہی ہے محسود کو کوئی نقصان نہیں، نہ دنیا میں نہ دین میں، بلکہ اسے دین و دنیا میں حاسد کے حسد سے فائدہ ہی ہوتا ہے۔
دین میں فائدہ یہ ہے کہ وہ مظلوم ہے ، خصوصاً جب حاسد قول یا عمل
سے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے، قیامت کو اسے ظلم کا بدلہ اور ظالم حاسد نیکیوں سے مفلس رہ جائے گا اور دنیاوی فائدہ یہ ہے کہ لوگوں کی دلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ ان کے دشمن غم، فکر اور عذاب میں مبتلا رہیں اور حاسد جس عذاب اور مصیبت میں گرفتار ہے اس سے بڑی مصیبت کیا ہو سکتی ہے، وہ ہر وقت حسد کی آگ میں جل رہا ہوتا ہے، اطمینان اور دلی سکون سے محروم ہوتا ہے۔
5۔ حسد سے نجات پانے کے لئے مفید عمل یہ ہے کہ حسد کے تقاضوں کے برعکس اس شخص کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرے، اس کے لئے دعا کرے، اس کی تعریف کرے، یہ سمجھ کر کہ یہ جذبہ کبر کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے،لہذا تواضع اختیار کرے، اللہ کی رضا پر راضی رہے، تو ان شاء اللہ اس بیماری کا علاج ہو جائے گا ، گو یہ علاج ذرا تلخ ہے مگر اللہ تعالی سے مدد مانگے اور نفس امارہ کا مقابلہ کرے تو آسان ہو جاتا ہے۔
6۔ حسد آدمی کو اللہ تعالی کی نافرمانی کی طرف لے جاتا ہے، کہتے ہیں  کہ اللہ تعالی کی سب سے پہلی نافرمانی حسد ہی کی وجہ سے واقع ہوئی، شیطان نے آدم علیہ السلام کو حسد کی وجہ سے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا، پھر سب سے پہلے قتل کا باعث بھی یہی بنا کہ قابیل نے ہابیل کو حسد کی بنا پر قتل کر دیا تھا۔
برادران یوسف علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کے والدین پر جو ظلم کیا اس کا باعث بھی یہی حسد تھا، یہودی لوگ یہ جانتے ہوئے بھی کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم برحق ہیں ایمان نہ لائے تو اس کا باعث بھی یہی حسد تھا چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد
 ہوتا ہے:«أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ»۔(النساء: 54)
ترجمہ:بلکہ یہ لوگوں پر اس چیز میں حسد کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرمائی ہیں۔
اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا:«وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ»۔(البقرة: 109)۔
ترجمہ:بہت سے اہل کتاب حسد کی وجہ سے  سے یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں تمہارے ایمان کے بعد دوبارہ کافر بنا لیں۔
7۔ بعض اوقات حسد کا لفظ غبطہ یعنی رشک اور ریس کے معنی میں بھی آجاتا ہے یعنی کسی شخص پر اللہ تعالی کی نعمت دیکھ کر یہ خواہش کرے کہ مجھے بھی مل جائے لیکن یہ خواہش نہ ہو کہ اس سے یہ نعمت چھن جائے، یہ حرام نہیں، مگر صرف دو چیزوں پر ریس کرنا پسندیدہ ہے،روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:« لاَ حَسَدَ إِلاَّ عَلَى اثْنَتَيْنِ،رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْكِتَابَ وَقَامَ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ ، وَرَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالاً فَهْوَ يَتَصَدَّقُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ»۔
ترجمہ:حسد (ریس) نہیں مگر دو چیزوں میں، ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالی نے قرآن دیا تو وہ رات کی گھڑیوں میں اور دن کی گھڑیوں میں اس کے ساتھ قائم رہتا ہے اور ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالی نے مال دیا ہے تو وہ رات کی اور دن کی گھڑیوں میں اس میں سے خرچ کرتا ہے۔
تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ہم لوگ اپنے آپ کو مسلمان اور محب اھل البیت(ع) کہتے ہیں،لیکن ان کی ایک  بات پر بھی عمل نہیں کرتے،صرف دین اسلام کو اپنی نہج کے حساب سے چلانا چاہتے ہیں۔

علم تا عمل گروپ



 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11